پاکستان میں فائیو جی (5G) سروس کے آغاز سے متعلق پیش رفت سست روی کا شکار ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سپیکٹرم نیلامی کے بعد ہی موبائل آپریٹرز بی ٹی ایس ٹاورز پر نیا بینڈ فعال کریں گے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت فائیو جی کے لیے مجموعی طور پر 276 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب ہے، جبکہ کوشش کی جا رہی ہے کہ 600 میگا ہرٹز تک سپیکٹرم متعارف کرایا جائے تاکہ فائیو جی سروس کو مؤثر انداز میں لانچ کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق انفارمیشن میمورنڈم میں سپیکٹرم نیلامی کے قواعد و ضوابط (آکشن رولز) کی وضاحت کی جائے گی، جس کے بعد نیلامی کا باضابطہ عمل شروع ہوگا۔ سمری کی منظوری ملنے کے بعد انفارمیشن میمورنڈم جاری کیا جائے گا اور سپیکٹرم نیلامی کا عمل آگے بڑھے گا۔
تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے باوجود فائیو جی سے متعلق سمری تاحال پی ٹی اے کو موصول نہیں ہوسکی، جس کے باعث نیلامی اور فائیو جی کے عملی آغاز میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔