موہڑہ نور کے رہائشی سی ڈی اے کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
چار سو سال سے آباد گاؤں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی ڈی اے کو رضاکارانہ طور پر 238 کنال اراضی دی، تاہم اس کے باوجود ادارے نے طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قبضہ بڑھا کر تقریباً 500 کنال تک کرلیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق یہ اقدام باہمی اعتماد اور تحریری وعدوں کے سراسر منافی ہے۔ تازہ آپریشن کے دوران موہڑہ نور میں واقع دو رہائشی مکانات کو مسمار کردیا گیا، جس کے نتیجے میں متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے آ گئے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد گزشتہ چار صدیوں سے اس علاقے میں مقیم ہیں، مگر اب انہیں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے ناجائز قبضہ فوری طور پر روکے، کیے گئے وعدوں کو پورا کرے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
علاقہ مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔