اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی سیکیورٹی خامیاں تلاش کرنے کی بڑھتی صلاحیت سائبر سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سام آلٹمین نے کہا کہ اے آئی ماڈلز کو محفوظ اور الگ تھلگ کمپیوٹنگ ماحول تک محدود رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، صرف نگرانی کے ذریعے اے آئی کے ممکنہ خطرات پر قابو پانا کافی نہیں، بلکہ ابتدا ہی سے مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
سام آلٹمین کا کہنا تھا کہ اے آئی ہارڈویئر اور سافٹ ویئر میں ایسی کمزوریاں تلاش کر سکتی ہے جن سے ہیکرز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روایتی طریقوں سے سیکیورٹی خامیوں کو دور کرنا مستقبل میں کافی نہیں ہوگا اور انٹرنیٹ کے سیکیورٹی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے اوپن سورس اے آئی ماڈلز سے جڑے سیکیورٹی خدشات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مانیٹرنگ کے باوجود ہر نقصان دہ سرگرمی کو روکنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، اے آئی سے وابستہ خطرات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو ابتدائی مرحلے ہی سے ترجیح دینا ہوگی۔
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رپورٹ کے مطابق اے آئی کی مدد سے دریافت کی گئی سیکیورٹی خامیوں کے باعث دنیا بھر کی متعدد ویب سائٹس متاثر ہوئیں۔