کلبھوشن یادیو، معاملہ کیا ہے؟

اسلام آباد — پاکستان میں گرفتار مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا عالمی عدالت انصاف میں فیصلہ بدھ 17 جولائی کو سنایا جا رہا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود اس بڑے تنازعہ کا آغاز کب ہوا؟ کلبھوشن یادیو ہے کون؟ کہاں سے آیا؟ آخر معاملہ ہے کیا؟

کلبھوشن یادیو یا حسین مبارک پٹیل

پاکستان حکومت کا کہنا ہے کہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی خفیہ جاسوس کلبھوشن سُدھیر یادیو کے پاسپورٹ کی کاپی کے مطابق وہ 30 اگست 1968 کو بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر سانگلی میں پیدا ہوا۔ حسین مبارک پٹیل کا نام پاکستان میں انٹیلی جنس جمع کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔

ریکارڈ کے مطابق، ممبئی کے مضافاتی علاقے پووائی کے رہائشی کلبھوشن یادیو اس کے اپنے بیان کے مطابق بھارتی نیوی میں حاضر سروس افسر ہے جس کی ریٹائرمنٹ سال 2022 میں ہونا ہے۔ تاہم، بھارت کی جانب سے اس بات کی ہمیشہ تردید کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ نیوی کا ایک ریٹائرڈ آفیسر ہے، جس نے نیوی سے ریٹائرمنٹ لیکر ایران میں قیمتی پتھروں اور فیریز کے کاروبار میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پاکستانی حکام کو ریکارڈ کروائے گئے بیان میں کلبھوشن یادیو کا کہنا تھا کہ اس نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی، جہاں اس نے دسمبر 2001 تک فرائض انجام دیے۔ پارلیمنٹ حملے کے بعد اس نے بھارت میں انفارمیشن اینڈ انٹیلی جنس جمع کرنے کے لیے اپنی خدمات دینے کا آغاز کیا اور اسے بھارتی خفیہ سروس ریسرچ اینڈ انلاسز ونگ(را) میں تعینات کر دیا گیا۔

کلبھوشن یادیو کے بیان کے مطابق، اس نے کراچی اور بلوچستان میں کئی تخریبی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔ پاکستان میں اس کے داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا اور قتل سمیت مختلف گھناؤنی کارروائیوں میں ان سے تعاون کرنا تھا۔

کلبھوشن کے مطابق، بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی متعدد کارروائیوں کے پیچھے "را" کا ہاتھ ہے۔ اپنے اس مشن کے دوران کلبھوشن کئی مرتبہ کراچی اور کوئٹہ آتا رہا، اور بالا آخر پاکستانی حکام کے مطابق، کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کرلیا۔

تاہم، اس حوالے سے بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسے ایران سے اغوا کرکے پاکستان لایا گیا، جبکہ ایک دعویٰ یہ بھی کیا جاتا رہا کہ کلبھوشن یادیو کو افغانستان میں طالبان گروہ نے تاوان کے لیے اغوا کیا اور بعد ازاں اس کی شناخت معلوم ہونے پر پاکستان کے حساس اداروں نے اسے طالبان کو رقم ادا کرکے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کے قبضہ سے کلبھوشن یادیو اور حسین مبارک پٹیل کے پاسپورٹس اور دیگر شناختی دستاویزات بھی برآمد ہوئیں۔

کلبھوشن یادیو کا پاکستان میں دہشت گردی کا اعتراف

24مارچ کو پاکستان فوج نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا اعلان کیا اور کہا کہ بھارتی جاسوس کو پاک ایران سرحد کے قریب سراوان کے علاقہ سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

29 مارچ 2016 کو اسلام آباد میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اور وفاقی وزیر پرویز رشید نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کلبھوشن یادیو کی اعترافی ویڈیو جاری کی۔

اس ویڈیو میں کلبھوشن نے اپنی سروس اور بھارتی ہونے کے حوالے سے تصدیق کی اور اس کے ساتھ کہا کہ ’’بطور ’را‘ آفیسر بلوچستان اور کراچی میں کارروائیاں کرنے سمیت کراچی میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب بھی کرواتا رہا ہوں‘‘۔ کلبھوشن کا کہنا تھا کہ وہ را کے جوائنٹ سیکریٹری انیل کمار گپتا کے ماتحت ہیں اور انیل کمار گپتا کے پاکستان میں موجود رابطوں بالخصوص بلوچ اسٹوڈنٹ تحریک کو ہینڈل کرنا میرا کام تھا۔

کلبھوشن نے کہا کہ میرا مقصد بلوچ باغیوں کے ساتھ مسلسل میٹنگ کرنا تھا اور انہی کے اشتراک سے میں کارروائیاں کرتا تھا۔ ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے شہریوں کو نقصان پہنچانا اور انہیں ہلاک کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بلوچ باغیوں کو بہت سارے طریقوں سے فنڈنگ کی جاتی تھی۔دہشت گردی کی ان سرگرمیوں کا زیادہ تر دائرہ کار میری دی گئی معلومات پر مبنی ہو تا تھا۔ جو کہ گوادر، پسنی اور پورٹ کے گرد دیگر تنصیبات پر مشتمل ہوتا تھا‘‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’’ان ساری کارروائیوں کا مقصد بلوچ لبریشن میں مجرمانہ سرگرمیوں کی ذہنیت کو مضبوط کرنا ہوتا تھا‘‘، تاکہ، بقول ان کے، ’’پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا سکے‘‘۔ کلبھوشن نے بتایا کہ میرے ’را‘ کے افسران کی جانب سے دیے گئے مختلف ٹارگٹس کے لیے میں ایران کے ساراوان بارڈر سے پاکستان کی سرحد عبور کرتا تھا۔ جب 3 مارچ 2016 کو پاکستانی حکام کے ہاتھوں پاکستانی علاقہ میں گرفتار ہو گیا۔ یہاں پاکستان میں وہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے تھے کہ گرفتار کرلیے گئے۔

کلبھوشن نے کہا کہ ’’جیسے ہی مجھے پتا چلا کہ میرے انٹیلی جنس آپریشنز ناکام ہو چکے ہیں اور میں پاکستان کی حراست میں آچکا ہوں تو میں نے اپنی شناخت ظاہر کر دی۔ میرے یہ بتاتے ہی کہ میں بھارتی خفیہ سروس کا افسر ہوں پاکستانی حکام کا رویہ بدل گیا۔ جس کے بعد انہوں نے مجھے بہت اچھے طریقے سے ڈیل کیا اور ایک اچھے اور پیشہ ورانہ انداز میں مجھ سے سلوک کیا۔ مجھے ایسے ہی ہینڈل کیا گیا جیسے کسی افسر کو کیا جاتا ہے‘‘۔

26 مارچ کو حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے بھارتی جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔

کلبھوشن پر پاکستان میں کیس

3 مارچ 2016 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے بلوچستان سے بھارتی جاسوس اور انڈین نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا۔ جس کے بعد اس نے پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہونے، تخریب کاروں کی فنڈنگ سمیت اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ پاک فوج کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے کلبھوشن یادیو کا ٹرائل ہوا اور10 اپریل 2017 کو جرم ثابت ہونے پر بھارتی جاسوس کو سزائے موت سنائی گئی۔

اس کیس میں بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ فوجی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اسے دفاع کا حق نہیں ملا۔ لیکن، پاکستان کی طرف سے ان تمام الزامات کی تردید کی گئی۔

کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں

پاکستانی حکام کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت نے 8 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو گرفتار اور سزا سنا کر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی۔ لہٰذا، سزا پر عملدرآمد فوری طور پر روک کر کلبھوشن یادیو کو رہا کیا جائے۔

نو مئی 2017 کو صدر عالمی عدالت انصاف نے پاکستان اور بھارت کو نوٹسز جاری کر کے 15 مئی کے لیے ابتدائی سماعت مقرر کرنے سے متعلق باقاعدہ آگاہ کیا گیا۔ 15 مئی کو عالمی عدالت انصاف میں پہلی سماعت ہوئی، جس میں بھارتی وکلاء نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا رکوانے کے لیے ابتدائی دلائل دیئے جب کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی درخواست کی مخالفت کی گئی۔بھارتی وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ ویانا کنونشن کے مطابق قونصلر رسائی کے حق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے نو مرتبہ قونصلر رسائی کی درخواست دی گئی جو مسترد کر دی گئی۔

18 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف نے متفقہ طور پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے بھارتی درخواست کے حتمی فیصلے تک پاکستان کو کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے سے روک دیا۔ 13 جون کو عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 13 ستمبر 2017 تک بھارت اپنی تحریری گزارشات جمع کرائے جب کہ پاکستان کو 13 دسمبر 2017 تک اپنی گزارشات جمع کرانے کا وقت دیا گیا۔

تحریری گزارشات کا جائزہ لینے کے بعد عالمی عدالت انصاف نے 17 جنوری 2018 کو فریقین کو تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت دی، جس کے لیے بھارت کو 17 اپریل 2018 تک جب کہ پاکستان کو 17 جولائی 2018 تک کا وقت دیا گیا۔

عالمی عدالت انصاف میں باقاعدہ سماعت

کلبھوشن یادیو کیس کے میرٹ پر باقاعدہ سماعت 18 فروری سے 21 فروری 2019 تک ہوئی۔ 18 فروری2019 کو ہریش سالوے کی سربراہی میں بھارتی وکلاء نے دلائل دیے، جس میں انہوں نے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کو معصوم قرار دیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی نہیں دی گئی۔ سزا سنائے جانے کے بعد کمانڈر یادیو کی والدہ اور اہلیہ سے 25 دسمبر 2017 کو ملاقات کرائی گئی۔ اس کے بعد 19 فروری2019 کو پاکستانی وکیل خاور قریشی نے بھارتی دلائل کے جواب میں دلائل دیے اور بھارتی موقف کو یکسر مسترد کر دیا۔

پاکستانی وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کلبھوشن یادیو کی بریت، رہائی اور بھارت حوالگی کا مطالبہ مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ بھارت ایک ایسے شخص کی بریت، رہائی اور حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی شہریت کی تصدیق نہیں کی گئی کیونکہ وہ ایک جاسوس اور دہشت گرد ہے۔

خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی درخواست کو مسترد کیا جائے۔ خاور قریشی نے کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اس کے جاسوسی میں ملوث ہونے کا یہ واضح ثبوت ہے کہ اس کے دو پاسپورٹ ہیں اور دونوں اصلی ہیں، اس پر بھارت نے کوئی جواب نہیں دیا۔

20 فروری2019 کو بھارتی وکیل نےپاکستانی دلائل کے جواب میں دلائل پیش کیے جس میں انہوں نے ایک بار پھر ویانا کنونشن کا حوالہ دیا اور پاکستانی وکیل خاور قریشی کے رویہ اور استعمال کردہ زبان پر بھی اعتراض اٹھایا۔ ہریش سالوے نے پاکستان کے عدالتی نظام پر بھی سوالات اٹھائے جبکہ ریاستی اداروں کے کردار پر بھی بات کی۔ اس دوران انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ایک انٹریو کا بھی حوالہ دیا جس میں نان سٹیٹ ایکٹرز کا کہا گیا تھا۔

21 فروری2019 کو پاکستان نے جوابی دلائل پیش کیے جس میں پاکستانی وکیل خاور قریشی اور اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے بھارتی نکات کا شق وار جواب دیا۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد 21 فروری کو ہی فیصلہ محفوظ کیا، جو 17 جولائی کو سنایا جائے گا۔ اس کیس کے دوران پاکستانی ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی خرابی صحت کی وجہ سے سماعت میں شامل نہ ہو سکے۔ البتہ، چوتھے روز صحت بہتر ہونے پر وہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.