آم کا انتظار کرنیوالوں کیلئے بری خبر! پھلوں کا بادشاہ کیوں روٹھ گیا، عوام کو ملے گا یا نہیں؟

image

کراچی:موسمیاتی تبدیلی نے پھلوں کے بادشاہ کو بھی ناراض کردیا،ملک میں آم کی پیداوار میں کمی کے بعد ایکسپورٹ میں مشکلات کا سامنا ، ملک میں بھی سپلائی کم ہونے سے قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے رواں سیزن آم کی پیداوار میں کمی کے پیش نظر ایکسپورٹ کے ہدف میں گزشتہ سال سے 25ہزار میٹرک ٹن کمی کردی ہے اور رواں سیزن کے لیے ایک لاکھ 25ہزار میٹرک ٹن کا ہدف مقرر کردیا ، ہدف پورا ہونے سے پاکستان کو 106ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق رواں سیزن موسمیاتی اثرات اور بلند درجہ حرارت کی وجہ سے آم کی پیداوار کو نقصان پہنچا ہے پاکستان میں آم کی اوسط پیداوار 18لاکھ میٹرک ٹن ہے جو رواں سیزن 50فیصد کمی سے 9لاکھ میٹرک ٹن تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔

وحید احمد کے مطابق رواں سیزن مارچ کے وسط میں آم کے پیداواری علاقوں میں اوسط درج حرارت 37سے 42ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو گزشتہ سیزن اوسط 34ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔درجہ حرارت میں اچانک اضافہ سے آم کی پیداوار کو بھاری نقصان پہنچایا ساتھ ہی آب پاشی کے مسائل، نہروں کی بندش کی وجہ سے پانی کی قلت، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور سیزن کے دوران ڈیزل کی قلت نے موسمی اثرات کو مزید سنگین بنادیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رواں سیزن آم کی پیداوار اور ایکسپورٹ کو تاریخ کے سب سے مشکل سیزن کا سامنا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی اور بجلی گیس کے ساتھ لیبر کی لاگت بڑھنے سے آم کی پراسیسنگ کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو اہے ۔

پیکجنگ میٹریل گزشتہ سیزن سے 30فیصد تک مہنگا ہوا ہے جس سے آم کے ایکسپورٹرز کے لیے انٹرنیشنل مارکیٹ میں مسابقت مشکل ہوگئی ہے۔سمندری کرایوں میں نمایاں اضافہ نے پاکستان کے آم کے لیے مسابقت کو دشورا بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مقامی مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں پیداوار میں کمی کی وجہ سے آم کی کمی کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ شہریوں کو سپلائی میں کمی بھی متوقع ہے۔


WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.