رمضان المبارک ایسے گزاریں

(Ibne Yousuf, )

تحریر : سید عزیر الہدیٰ(کراچی)

اﷲ تعالیٰ کی انسان پر بے شمارنعمتیں ہیں جن کو انسان شمار نہیں کر سکتاانہی میں سے ایک نعمت رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ قمری مہینوں میں نواں مہینہ ہے اﷲ تعالیٰ نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف کی ہے اورفرمایاـ"رمضان شہر اﷲ"یعنی رمضان اﷲ کا مہینہ ہے اسی وجہ سے اس کو دوسرے مہینوں پر فوقیت ہے۔رمضان اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے اس کا مطلب ہے کہ اﷲ کی رحمتیں موسلا دھا بارش کی طرح نازل ہوتی ہے۔حدیث مبارکہ میں آتا ہے رمضان ایک ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے اور درمیانی حصہ میں مغفرت کی جاتی ہے اور آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے آزادی حاصل ہوتی ہے۔یہ مہینہ بہت با برکت اور مقدس ہے اس مہینے میں ایک نیکی کا ثواب ستر گناہ بڑھ جاتا ہے اس مہینے میں شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے،جہنم کے دروازے بند اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔

فرمان الہٰی!اے ایمان والو تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے۔رمضان کی فرضیت کا مقصد یہ ہے کہ انسان تقویٰ داراور اﷲ سے ڈرنے والا ،بے حیائی سے رکنے والا،چوری،زنا اور ہرفحش کام اور نفسیاتی خواہشات پر قابو پانے والا بن جائے۔ یہ بات بھی لازم نہیں ہے کہ رمضان شریف کی رحمتیں ا ور با برکتیں ہر انسان کو حاصل ہوں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس مہینے کو پالینے کے باجود بھی اس کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔اﷲ کی رحمت کی مثال بارش کی طرح ہے کہ جب بارش برستی ہے تو زرخیر اور بنجر زمین پر یکساں برستی ہے لیکن زرخیر زمین پر فصل اُگ جاتی ہے اور اس کے ثمرات اچھے ہوتے ہیں اور نتیجہ فائدہ مند ہوتا ہے جبکہ بنجر زمین اپنی حالت پر باقی رہتی ہے اور وہ بے سود ہوتی ہے ایسے ہی بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں انکا سوائے پیاسے رہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں یعنی وہ روزہ رکھ بھی فحوش کام نہیں چھوڑتے اور رمضان جیسے مہینے میں بھی اﷲ کی پکڑ میں رہتے ہیں۔

رمضان المبارک کی فضیلت دوسرے مہینوں پر اس وجہ سے بھی ہے کہ اس بابرکت مہینے میں قرآن پاک نازل ہوا اور اس مہینے میں ایک رات ہے جس کو شب قدر کہا جاتا ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اﷲ کے نبیﷺ نے فرمایا:"اس رات کو آخری دس طاق راتوں میں اس کو تلاش کرو ـ" اس رات جو بھی دعا مانگی جاتی ہے وہ قبول کی جاتی ہے ۔روزے دار کے لئے دریا کی مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں۔روزے دار کا ایک بہت بڑا اجر اﷲ تعالیٰ کی زیارت ہے جو اس کو روز محشر نصیب ہوگا۔جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک کام نام "ریان"ہے جو کہ خاص روزہ داروں کے لئے ہے وہ وہاں سے گزریں گئے۔اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے یہ مہینہ ہمیں اپنے دیئے ہوئے طریقوں پر گزارنے کی توفیق عطاء فرما۔آمین۔
1۔ سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیجئے کہ اس نے زندگی کا ایک سال اور خیر و عافیت کے ساتھ گزر واکر ایک اور رمضان المبارک کے انتہائی قریب پہنچادیا ہے ، دعا کریں اﷲ رب العزت ہمیں رمضان کی مبارک گھڑیوں تک بھی پہنچادے اور اس مبارک مہینے کے عظیم لمحات سے نوازے ، اور اس عظیم نعمت کے ملنے پر اﷲ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
2۔ دوسری بات اپنے تمام پچھلے گناہوں ، لغزشات اور خطاؤں کا احساس کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کریں ، نیز آئندہ گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کریں۔
3۔ اگر صاحب نصاب ہیں تو زکوٰۃ ادا کریں۔ یعنی تقریبا ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ان ہی کی بقدر روپیہ پیسا موجود ہو اور اس پر پورا سال گزر گیا ہو تو اپنے اس مال میں سے تقریباً ڈھائی فیصد حصہ الگ کردیجئے، یہ حصہ آپ کے پاس بقیہ پیسوں کو پاک کرکے ان میں برکت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کو زکوٰۃ کہتے ہیں، یہ مستحقین، غرباء اور مساکین کیلئے ہے، اسلئے جو آپ کے عزیز رشتہ داروں میں صاحب نصاب نہیں انھیں آپ یہ مال دے سکتے ہیں۔ یکمشت دینا یعنی ایک دفعہ ہی سارا مال دے دینا اگرچہ جائز ہے لیکن مکروہ ہے، اسلئے تھوڑا تھوڑا کرکے دیگر مساکین میں تقسیم کردیجئے۔ زکوٰۃکی مزید تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے وہاں سے دیکھ لیجئے، کچھ کتب فقہ یہ ہیں، بہشتی زیور، عمدۃ الفقہ، زبدۃ الفقہ وغیرہ۔س
4۔ پہلا عشرہ رحمت کا ہے اسلئے اس پہلے عشرہ میں اﷲ تعالیٰ سے اسکی رحمت کی دعا کریں۔ اس کے حوالے سے یہ دعا منقول ہے
رَبِّ اغفِر وَارحَم وَاَنتَ خَیرْ الرَّاحِمِینَ
5۔ دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے اسلئے اس عشرہ میں اﷲ تعالیٰ سے اسکی مغفرت چاہیں۔ اس کے حوالے سے یہ دعا منقول ہے
اَستَغفِرْ اﷲَ رَبِّی مِن کْلِّ ذَنبٍ وَّاَتْوبْ اِلَیہِ
6۔ اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے، لہٰذا اس عشرہ میں اﷲ تعالیٰ سے آخرت کی بخشش کی دعا کریں۔
7۔ رمضان المبارک میں ایک فرض نماز کا ثواب ایک روایت کے مطابق 40 فرضوں کے برابر اور ایک روایت کے مطابق 70فرضوں کے برابر ہوجاتا ہے، نیز نوافل کا ثواب فرائض کے برابر ہوجاتاہے۔
اسلئے اس ماہ مبارک میں پانچوں وقت کی نمازیں اول وقت میں ادا کرنے کا اہتمام کیجئے۔ اول وقت اذان کے فوراً بعد کے وقت کو کہتے ہیں۔ نیز نوافل میں ان نوافل کا اہتمام کرلیجئے: تہجد (کم سے کم ۴ نوافل) سحری کے وقت، اوابین (کم سے کم ۶ نوافل) مغرب کی نماز کے فوراً بعد، اشراق (۲ نفل) سورج طلوع ہونے کے تقریباً سوا ایک گھنٹہ کے بعد۔ باقی وقت میں نوافل پڑھنے کی بجائے اگر پچھلی ذندگی میں نمازیں قضا ہوئی ہوں تو انھیں جلد از جلد ادا کرنے کا اہتمام کرلیجئے۔ اسکے لئے اگر ہر فرض نماز سے پہلے اسی نماز کی پچھلی قضا لوٹا لیں تو رمضان کے تیس دنوں میں پچھلی زندگی کی تیس قضا نمازیں ادا ہوگئیں جو بہت بڑی سعادت ہے، کیونکہ اب انکا ثواب 40 یا 70 فرضوں کے برابر ملے گا۔ مغرب کی قضا نماز مغرب کی نماز سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں ادا کیجئے
8۔ ہر جمعہ کو صلوۃالتسبیح پڑھنے کا اہتمام کرلیجئے، اسکی بہت بڑی فضیلت آئی ہے۔
9۔ قرآن مجید کی تلاوت ترتیب وار ابتدائے قرآن یعنی سورہ فاتحہ، سورہ البقرہ سے شروع کرکے کم از کم ایک قرآن مجید کی تکمیل اس ماہ مبارک میں ضرور کرلیجئے۔
10۔ اپنے شیخ مکرم سے ملے معمولات یعنی ذکر، تسبیحات وغیرہ کا اہتمام رکھئے۔ چونکہ یہ معمولات اصلاح قلب کیلئے تجویز کردہ ہیں اور اس ماہ میں شیاطین قید ہوجاتے ہیں اور وساوس نہیں ڈال سکتے اسلئے اس ماہ مبارک میں ان معمولات کی برکت سے بہت جلد اصلاح ہوجاتی ہے، اسلئے انکا خاص اہتمام کیجئے۔
11۔ مرد حضرات رمضان المبارک کی ہر رات باجماعت 20رکعت تراویح کا اہتمام کریں، اگر وہاں ایک تکمیل قرآن ہوبھی جائے تب بھی چاند رات سے پہلے تک ان پر 20 رکعت تراویح کا پڑھنا سنت موکدہ ہے۔ اسی طرح خواتین مستورات بھی 20رکعت تراویح کا اہتمام اپنے گھر میں بغیر جماعت کئے کریں۔ خواتین کیلئے گھر میں پڑھی گئی نماز جماعت کے برابر ثواب رکھتی ہے اسلئے انھیں گھر سے باہر جاکر مساجد میں جماعت سے پڑھنے سے بہتر اپنے گھر میں پڑھنا ہے۔ اسمیں ترتیب وار جو سورتیں یاد ہوں وہ پڑھ سکتی ہیں، نیز ہر چار رکعت کے بعد تسبیح تراویح پڑھیں۔
12۔ اگر صاحب نصاب و صاحب حیثیت ہیں تو نفلی صدقات و خیرات کا اہتمام کریں۔
13۔ مرد حضرات محلہ کی کسی جامع مسجد میں مسنون یا نفلی اعتکاف کی کوشش کریں (ویسے جب بھی مسجد میں نماز کیلئے جانا ہو تو نفلی اعتکاف کی نیت کرکے داخل ہوجایا کریں، جب تک آپ مسجد میں رہیں گے معتکف کی حیثیت سے رہیں گے، اسکا بہت ثواب ہے)، اور خواتین مستورات گھر کے کسی کونہ میں میں مسنون یا نفلی اعتکاف کی کوشش کریں۔ اگر بہ امر مجبوری اپنے اعتکاف کے مسکن سے نکلنا پڑے تو جلد سے جلد واپس آئیں، دیر لگانا اعتکاف کے ثواب کو کم کردیگا یا بعض صورتوں میں اعتکاف کو ہی توڑ دے گا، اسلئے احتیاط کیساتھ اعتکاف کی برکات کو سمیٹئے۔
14۔ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں یعنی 21,23,25,27 اور 29 کی راتوں میں لیلۃ القدر کو پانے کی کوشش کریں، اگر تراویح، تلاوت اور ذکر اﷲ کا اہتمام ہوجائے اور اسی میں ساری رات گزر جائے تو بہت بہتر ہے، اگر تھکاوٹ غلبہ کرے تو کچھ دیر آرام کرنے میں بھی مضائقہ نہیں، لیکن نیت یہ ہو کہ میں آرام کے بعد کام یعنی نیک اعمال کرونگا۔ لیلۃ القدر کی مسنون دعا ئیں احادیث میں مذکور ہیں وہاں سے اسفتادہ کرسکتے ہیں ۔
15۔ حتی الامکان گناہوں سے بچیں، غیبت، چغلی، حسد، جھوٹ، بدنظری، گانے موسیقی سننا، جیسے گناہوں سے بچیں۔ اگر بربنائے طبع بشری کوئی لغزش و خطا سرزد ہوبھی جائے تو فوراً توبہ کریں اور کوئی نیک عمل کرلیں، انشا اﷲ وہ نیک عمل اس گناہ کا کفارہ بن جائے گا
16۔ کسی مسلمان کے بارے میں اپنا دل ہر قسم کے میل کچیل سے پاک رکھئے۔
17۔ مسنون دعاؤں اور اعمال کا اہتمام رکھئے، یہ وہ پاکیزہ اعمال ہیں کہ جو شخص ان کا التزام رکھے وہ کبھی گناہوں میں نہیں پھنس سکتا، اور ان پاکیزہ اعمال کی برکت سے نفسانیت کی اصلاح بہت جلد ہوجاتی ہے۔ ان دعاؤں اور اعمال کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھئے۔
18۔ کسی شرعی مجبوری کے بغیر روزہ چھوڑ دینا سخت گناہ کی بات ہے۔ شرعی مجبوریوں میں کوئی شدید بیماری، کوئی لمبا سفر، یا خواتین کے خاص ایام ہیں (لیکن ان ایام کے گزرتے ہی وہ پھر روزہ رکھیں گی اور بعد میں ان قضا روزوں کو ادا کریں گی)۔ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کا بہانہ نہیں بنانا چاھئے بلکہ ہمت کیساتھ روزہ کی برکات و رحمتوں کا امیدوار رھنا چاھئے۔ اگر شرعی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی روزہ چھوٹ جائے تو حتی المقدور ادا کرنے کی کوشش کریں، اگر ادا نہ کرسکیں تو اسکا فدیہ ضرور ادا کریں۔ فدیہ تقریبا ۲ کلو آٹا فی روزہ بنتا ہے، جو کسی مستحق کو دے دینا چاھئے۔ یا اس کی قیمت کے بقدر پیسے کسی مستحق کو دے دینا چاھئے۔
19۔ رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت کا ملنا بہت عظیم نیکی ہے، روایت میں آتا ہے کہ رمضان میں کیا جانے والا عمرہ حج کے برابر ثواب رکھتا ہے، اسلئے اگر یہ سعادت مل سکتی ہو تو اسکے لئے کوشش کریں، وگرنہ فقط تمنا کرکے دعا ضرور کرلیں، کیا معلوم اگلے سال اﷲ تعالیٰ توفیق دے دے یا جو ثواب وہاں ملنا تھا وہ گھر بیٹھے مل جائے، وما ذالک علی اﷲ بعزیز، اﷲ تعالیٰ کو کوئی کام مشکل نہیں، اسلئے نیکی کی تمنا دل میں رکھنے سے نیکی کے بقدر ثواب مل سکتا ہے۔
20۔ رمضان المبارک کے ان قیمتی لمحات کو بازاروں میں گھوم پھر کے ضائع نہ کریں ، چاند رات کو ’’جزا کی رات‘‘ کہا گیا ہے جس میں روزے داروں کو اﷲ تعالیٰ جزا عطا فرمایا کرتا ہے لیکن افسوس کہ اس رات ہمارے بازاروں میں خوب گہما گہمی ہوتی ہے اور اﷲ تعالیٰ کے انعامات سے یکسر غفلت ہوجاتی ہے، اسلئے عید کیلئے جو خریداری وغیرہ کرنا ہو وہ پہلے ہی کرلی جائے اور اس رات میں کچھ نوافل وغیرہ پڑھ کراﷲ تعالیٰ سے اپنے روزوں کی جزا مانگ لی جائے، سب سے بہتر دعا یہ ہے کہ:
یا اﷲ میں تجھ سے تجھ کو تیرے لئے چاہتا ہوں، مجھے اپنی محبت و معرفت نصیب فرما(آمین)
21۔ عید کے دن فجر کی نماز کے بعد ہی سے عید کی نماز کی تیاری شروع کردی جائے، کچھ میٹھا کھا کر عید گاہ جائیں، جس رستہ سے جائیں واپسی پر دوسرا رستہ لیں، اور گھر واپس آکر کھانا وغیرہ کھالیں۔ گھر والوں، عزیز رشتہ داروں سمیت دوست احباب سے خوش دلی سے عید ملیں۔ بچوں کو عیدی دینے کا جو رواج ہے وہ کوئی فرض واجب تو نہیں لیکن اگر نیت میں محبت و پیار ہو تو دینے میں مضائقہ نہیں، نام و نمود یا دکھاوے کی نیت نہ ہو۔ عید گاہ جاتے ہوئے یہ دعا منقول ہے۔
اﷲ اکبر اﷲ اکبر ،لا الہ الا اﷲ و اﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد

اﷲ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کیجئے کہ اﷲ تعالیٰ آنے والے اس رمضان المبارک کو ہماری زندگی کے لئے انقلابی رمضان بنادے اور اس آنے والے رمضان کو ہم سب کے لئے قیامت کے روز شفیع بنائے ، جو لغزشات اس سے پہلے رمضان میں یا زندگی کے کسی بھی حصے میں کسی بھی حوالے سے ہوئی ہوں اﷲ انھیں معاف فرمادے ، اور نیک اعمال کو قبول فرماکر اپنی رحمت، مغفرت اورجہنم سے آزادی کا پروانہ نصیب فرمائے ۔
آمین یارب العالمین

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 May, 2018 Total Views: 125 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Ibne Yousuf

Read More Articles by Ibne Yousuf: 10 Articles with 3305 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB