Books Intro Articles

When it comes to reading a book first you have to know groundings of book you are going to read. Here you will get the wide range of articles on books; you can search urdu books articles on various to.. Read more

When it comes to reading a book first you have to know groundings of book you are going to read. Here you will get the wide range of articles on books; you can search urdu books articles on various topics. Checkout huge range of articles on books.

LATEST REVIEWS

یادیں باقی ہیں
آہ سجاد حسین چھے جولائی د و ہزار سترہ کے بعد تو صرف یادیں ہی باقی رہ گئی ہیں ۔
لکیر جو ورق دل پہ جگمگائی ہے
ترے قدم کے چراغوں سے جگمگائی ہے
دائمی مفارقت دینے والوں کی یادیں تو سوگوار پس ماندگان کے لیے زندگی بھر سوہان روح بن جاتی ہیں ۔
By: Ansa Kausar Perveen Rani, Silence City on Nov, 04 2018

یادیں باقی ہیں
اُٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ
تبصرہ بہت اچھا لگا ۔یہ رائے گہرے مطالعہ اور بصیرت کی مظہر ہے
ہولی ہولی بُھل جاواں گے ہک دوجے دیاں شکلا ں وی
ہولی ہولی سکھ جاوا ں گے زندہ رہن دیاں عقلاں وی
By: GS Rana , Golarchi on Oct, 28 2018

یادیں باقی ہیں
تمارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمھارا جواب لائے گا
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
کہ تو نہیں تھا تیرے ساتھ ایک د نیا تھی
By: Rana Sultan Khan , Golarchi on Oct, 28 2018

ابلاغ عامہ کے موضوع پر ڈاکٹر شبیر احمد خورشیدکی تصنیف ۔ایک جائزہ
Aslam.o.alikum sir how can i download this book
By: Muhammad Rafiq, Zhob on Oct, 15 2018

یادیں باقی ہیں
Memories are everlasting.Writer has paid good tribute to Moin Kamali.This book review is very helpful to know about the style and discourse of Moin Kamali.Dr.G Shabbir Rana is trying to bring positive awareness about the modern literature.I pray for his health and safety.
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Oct, 02 2018

سید الشہدا ء امام حسین ؑ کے حوالے سے ایک اہم دستاویز۔ انوارِ رضا میگزین کا خصوصی نمبر
Mian Muhammad Ashraf Asmi
Nice what is the price of above said book, please tell Masood Ahmad 03014717270 from Attock
By: Masood Ahmad, Teh: Pindi Gheb, Distt. Attock on Sep, 27 2018

جبران سے ملیے
I study book reviews written by Dr. Ghuklam Shabbir Rana (Ghulam Ibne Sultan) with keen interest.Writer has introduced a new book .This book is very important and helpful to know the life and works of Aziz Jibran Ansari .Case study id useful for bringing positive awareness about writers and thinkers.
By: Sajjad Hussain , Silence City on Sep, 17 2018

علم الدین غازی پروفیسر:
This is a thought provoking article about a senior educationist of Kashmir ( Mirpur).I like this book review writeen by Dr G S Rana .
By: Sajjad Hussain , Fateh Darya on Aug, 27 2018

دو کتابوں ’’رئیس احمد صمدانی کی رشحات قلم‘‘ اور’’ پر محمد سلیمان اشرف بہاری اور دو قومی نظریہ‘‘پر تبصرہ

سلام مسنون
سب سے پہلے تو خادم آپ کے گرانقدر تبصرے پر شکر گزار ہے اور ہمیشہ آپ سے تعلق اور رشتے کو اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتا رہا ہے ۔یہ آپ کی محبت و عنایت ہے اللہ اسے قائم و دائم رکھے ۔مودبانہ عرض ہے کہ مجھے آپ کے تبصرے کے کچھ نکات سے اختلاف ہے اور میں اپنے علم میں اضافے کیلئے آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہے کہ
آپ نے لکھا کہ "۔ جمیعتِ علمائے اسلام کے ان اکابرین سے اغماض برتا گیا۔ جنہوں نے 1936-37 سے قائد اعظم محمد علی جناح کی دینی تربیت و حمایت کا بیڑا اُٹھائے رکھا ہواتھا۔اور تحریکِ پاکستان میں اپنے قائد کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔''
خادم اپنی معلومات اور علم میں اضافے کیلئے جاننا چاہتا ہے کہ ان اکابرین کے نام کیا تھے جو 1936ء اور 1937 ء میں قائد اعظم کی دینی و سیاسی حمایت کا بیڑا اٹھائے ہوئے تھے اور تحریک پاکستان میں قائد کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔؟
اگر یہاں آپ کی مراد مولانا اشرف علی تھانوی صاحب سے ہے تو عرض یہ ہے کہ ان کے حوالے سے جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے وہ ان سالوں کا نہیں ہے دوسرے یہ کہ ہمیں شبیر احمد تھانوی اور منشی عبدالرحمان کے علاوہ کسی مستند تاریخی کتاب اور غیر متازعہ تاریخ نگار کی کتاب سے حوالہ درکار ہے۔ اور اگر منشی عبدالرحمان اور شبیراحمد تھانوی ہی کے بیان کو سند تسلیم کرلیا جائے جو کہ یک طرفہ ہے تب بھی یہ بات ان سالوں کی نہیں ہے۔
بلکہ ذرا مولانا مبشر بدر کے درج ذیل لنک پر موجود مضمون کو بھی دیکھ لیں
http://library.ahnafmedia.com/176-qafla-e-haq/2015/jan-feb-mar/76-tahreek-e-pakistan-or-ulmay-deoband
اور الیاس گھمن کے اس مضمون پر ایک نظر ڈال لیں
http://library.ahnafmedia.com/185-faqeeh/year2016/aug/904-pakistan-mazi-hal-mustaqbel
بلکہ ان سالوں میں تو ایم ایچ اصفہانی کی وہ گواہی زیادہ معتبر ہے جس میں انہوں نے علمائے دیوبند پر مسلم لیگ کی حمایت کیلئے پچاس ہزار روپے طلب کرنے کا لکھا اور نہ ملنے پر مخالفت کا راستہ اختیار کیا آپ ان کی کتاب '' قائد اعظم محمد علی جناح جیسا میں انہیں جانتا ہوں '' کے صفحہ 42 سے 43 تک دیکھ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ متعدد ایسے مستند حوالے ہیں کہ جس میں اکابرین دیوبند قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے کھلم کھلا مخالف رہے خود علامہ شبیراحمد عثمانی کا مکالمۃ الصدریں اس بات کا گواہ ہے اور یہ اگر ان جیسے شبیراحمد عثمانی مفتی شفیع ،ظفراحمد انصاری وغیرہ نے تحریک پاکستان کی حمایت کی بھی تو یہ اس وقت کی بات جب قرار داد پاکستان منظور ہوچکی تھی اور یہ امر مسلم ہوچکا تھا کہ پاکستان ناگزیر ہے۔
دوسری بات کہ '' ساتویں باب کو ملی تحریکات کے نام سے باندھا گیا جس میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عالمی سازشوں کا ذکر تو ملتا ہے مگر تحریکِ خلافت کی شدت سے مخالفت محض گاندھی کے ہمرکاب ہونے پرکی گئی۔ اس کے علاوہ دیگر ابواب میں بھی یہ نکتہ دیدنیرہا۔ یہ موضوع بار بار لا کر ایک مذہبی اور طبقاتی کشمکش کو ابھارا گیا ہے،جو بلا جواز لگتی ہے۔تحریکِ خلافت میں گاندھی کو مسلمانوں کا ہیرو نہیں مانا گیا تھا۔بلکہ مسلمانوں کی آواز کو مضبوط بنانے کی ایک وقتی کوشش تھی۔رسولِ کریم ﷺ نے مدنی زندگی میں ہی اہلِ کفر سے بعض معاملات اور معاہدے تحریکِ اسلامی کو مضبوط کرنے کی خاطر فرمائے تھے۔''
اس تاریخی حقیقت سے کسی طور انکار ممکن نہیں کہ تحریک خلافت و موالات اور ہجرت میں ہمارے اکابر گاندھی کی قیادت میں مجتمع تھے اور اسے اپنا قائد تسلیم کرتے تھے اس بات کو صرف اس وجہ سے مذہبی اور طبقاتی کشمش قرار دینا اور بلاجواز کہنا کہ ہمارے اکابرین کے کردار و عمل پر حرف آتا ہے تاریخی سچائی سے صرف نظرکرنا ہے اور اسے حضور کی مدنی زندگی سے تشبیہ دینا بھی کسی طور درست نہیں اللہ کے رسول کا وہ عمل حکم ربی کے تابع تھا اور اسلامی مملکت کے قیام کیلئے تھا اور اس میں بھی سربراہ حضور تھے کوئی کافر نہیں تھا جبکہ یہاں تو معاملہ ہی مختلف اور جدا تھا یہاں کوئی ایسی تحریک اسلامی نہیں تھی جس کو مضبوط بنانے کیلئے کسی ہندو کی قیادت میں ایسا کیا جاناعمل رسول کی پیروی شمار ہوتا ۔
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اسی تبصرے میں آپ خود ایک طرف تو یہ لکھ رہے ہیں کہ ''کتاب کا باب پنجم پوراکا پوراترکِ مولات اورترکَ گاؤ کشی کی مخالفت میں تحریر کیا گیا ہے۔جس سے ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کلی طور پر خسارے میں رہی،اور ہندو کو اس سے زبر دست فائدہ پہنچا، مسلمان ہر لحاظ سے بر بادی سے ہمکنارہوئے۔''اور دوسری طرف اس کے برخلاف رائے کا اظہار کررہے ہیں۔کون سی با ت کو درست تسلیم کیا جائے پہلی یا دوسری؟
آپ نے لکھا کہ '' مگر کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی تحریک کا سارا زور ترکِ موالات اور تحریکِ خلافت کیخلاف دکھائی دیتا ہے'' تو عرض ہے کہ سید سلیمان اشرف کی زندگی میں ان کے انتقال 1939 تک برعظیم میں تحریک خلافت ہجرت ترک موالات شدھی اور سنگھٹن تحریکات کا ہی ظہور ہوا تھا اور انہی تحریکات کو آپ نے اپنا ہدف بنایا اس کوئی ایسی نئی بات نہیں۔حقیقت یہ ہے اس دور میں تو تحریک پاکستان بھی نکھر کر سامنے نہیں آتی تھی اس کی شکل بھی قرار داد لاہور(قرار داد پاکستان) کے بعد بنی۔
آپ کے یہ مندرجہ بالا نکات کو میں مثبت شمار کروں یا منفی سمجھ نہیں آتا اور ان نکات کی روشنی میں آپ کی یہ بات سوالیہ نشان بن جاتی ہے کہ '' ہم سمجھتے ہیں کہ اس کاو ش پر محمد احمد ترازی کو علی گڑھ یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی (اعزازی )سند دی جانی چاہئے۔''
جناب ڈاکٹر صاحب اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پروفیسر سید سلیمان اشرف صاحب کا انتقال علی گڑھ میں ہوا تھا بہار میں نہیں۔اور یہ کہ پروفیسر بریلوی مکتبہ فکر کے ترجمان نہیں بلکہ برعظیم کے سواد اعظم کے ترجمان تھے۔براہ کرم انہیں بریلویت سے منسوب کرکے ان کے عظیم مشن کو داغدار نہ کریں۔
جناب ڈاکٹر صاحب یہ کچھ باتیں جو عرض کی اپنی اصلاح اور مستند حوالوں کی تلاش کیلئے ہیں ہماری تاریخ میں ایسی ہزاروں باتیں شامل ہیں جس کا حقیقت حال سے کوئی تعلق نہیں میں نے اپنی کوشش میں حتی الامکان مستند حوالوں کو استعمال کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ اعتدال کا دامن تھامے رہوں اور دونوں اطراف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کروں اس کوشش میں کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہوتو اپنی اصلاح کو بہتر خیال کرتا ہوں آپ تاریخ کے استاد ہیں امید ہے توجہ فرمائیں گے ۔
By: Muhammad Ahmed Tarazi, Karachi on Jul, 31 2018

The Power of Verbal Intelligence
جی ضرور، کمنٹ کے لئے شکریہ
By: Muhammad Jabran, Lahore on Jun, 19 2018

MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB