جنت سہیل اختر اداس ہے...

(Aslam Lodhi, Lahore)

اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا ......

انسان‘ رشتوں کی زنجیر میں کچھ اس طرح جکڑ ا ہوا ہے - اسے سمجھ نہیں آتی کہ کونسا رشتہ زیادہ قریب ہے اور کونسا دور ۔ عمومی طور پر ماں باپ بہن بھائی ہی قریبی رشتے محسوس ہوتے ہیں لیکن کچھ انمول رشتے ایسے ہیں ۔ وہ موجود ہوں تو ان کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا ‘ جب وہ بچھڑ جاتے ہیں تو پھر آنسو نہیں رکتے ۔ یہ سمجھ نہیں آتی کہ دل کو دلاسہ کیسے دیاجائے ۔ کروٹ کرو ٹ بے چینی محسوس ہوتی ہے ۔بچھڑنے والے کی تصویر آنکھوں کی پتلیوں میں محفوظ ہوجاتی ہے ۔ اس کی چاہت اور محبت میں گزرے ہوئے لمحات ایک فلم کی طرح گردش کرنے لگتے ہیں۔

5جون 2018 ء بروز منگل 20ویں روزے ‘ افطار کے لیے گھر میں اہتمام ہورہا تھا تو موبائل کی گھنٹی بجی ۔ دوسری جانب میرا بھتیجا اعجاز لودھی مخاطب تھا ۔ موبائل سننے کا فریضہ میری اہلیہ عابدہ اسلم نے انجام دیا ۔ کال ختم ہوگئی تو اس کے چہرے پر افسردگی کے آثار نمایاں ہوئے وہ پہلے جس انہماک سے افطاری کا سامان آراستہ کررہی تھی ‘ اس کا ہاتھ رک سا گیا ۔میں نے چہرے کارنگ بدلتے ہوئے دیکھاتواس کی وجہ دریافت کی ۔ بیگم کی زبان لڑکھڑا رہی تھی ‘وہ مجھ سے چھپانابھی چاہتی تھی لیکن چھپا نہیں پارہی تھی ۔بالاخر ضبط کے تمام بند ٹوٹ گئے ۔آپ کے خالہ زاد بھائی سہیل اختر فوت ہوگئے ہیں۔ جیسے ہی یہ الفاظ میری سماعت کو ٹکرائے‘ یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے مجھ پر بم پھینک دیا ہو۔ تشویش کی ایک لہر سی اٹھی اور پاؤں کے انگوٹھے سے دماغ کی آخری شریان تک دوڑتی چلی گئی ۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔زبان سے انا ﷲ و انا الیہ راجعون نکلا ۔
**********
سہیل اختر میرے کتنے قریب تھا‘ مجھے اس کی محبت کس قدر حاصل تھی ‘ یہ ایک طویل داستان ہے ۔ حقیقی معنوں میں سہیل اختر عارف والا شہر کا پرنس تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا آغاز شہزادوں کی طرح کیا۔ عارف والا کے چھوٹے بڑے سب کچھ اس پر نچھاور تھے ۔ وہ ہر دلعزیز بھی تھا اور مقبول ترین شخص بھی ۔ کون ہوگا جو عارف والا میں رہتے ہوئے اسے نہ جانتا ہو ۔ وہ اپنی پہچان خود تھا ۔ اس دن اپنی دنیا خود بسائی تھی ‘ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ اس کاانتخابی نشان تھا ۔ وہ باتوں باتوں میں ہی کچھ اس طرح مذاق کرتا کہ دوسرے کو اپنی توہین محسوس نہ ہوتی ۔ وہ مزاج کا سخت بھی تھا اور انتہائی نرم بھی ۔ تمام شخصیاتی خوبیاں اس کی شخصیت کا حصہ تھیں ۔وہ اپنے دور کا ایک بہترین اور کامیاب ترین انسان تھا۔ اس کی جوانی قابل رشک تھی ۔ سرو قد‘ خوبصورت چہرہ ‘ سر پر گہرے گھنے سیاہ بال ‘ آنکھوں میں شرارت ‘ مضبوط جسمانی خد و خال ۔یہ عوامل اس کی حقیقی پہچان تھے ۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میری نانی "غلام فاطمہ اسے اپنے ساتھ لے کر لاہور کینٹ ہمارے گھر پہنچی ۔ تو وہ سفید شلوار قمیض میں کسی ملک کا شہزادہ لگ رہاتھا ۔ اسے دیکھ کر میں خود کو بہت چھوٹا اور کمتر محسوس کرتا ۔اس کی شخصیت حقیقی معنوں میں آئیڈیل تھی ۔ وہ ہر دلعزیز بھی تھااور جاذ ب نظر بھی ۔ جو شخص اسے دیکھتا تو پھر دیکھتا ہی رہ جاتا ۔ وہ مسکراتا تو بہاریں مسکرانے لگتیں ۔ خاموش ہوتا تو ایک سکوت طاری ہوجاتا ۔ حسن اتفاق سے سہیل اختر میرا خالہ زاد بھائی تھا ۔وہ مجھ سے دو سال بڑا تھا ۔ رشتے کے اعتبار سے ہم دونوں ایک ہی نانی کے دو نواسے تھے ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ میں نانی کو پیار کرتا اور نانی ‘ سہیل اختر کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتی تھی ۔ بظاہر وہ انور خان اور میری خالہ اقبال بیگم کا بڑا بیٹا تھا لیکن اس نے زندگی کا زیادہ وقت نانی کے گھر ہی گزرا ۔ سہیل اختر بڑے سے بڑا نقصان بھی کرتا تو اسے ڈانٹنے کی کسی میں جرات نہ ہوتی ۔ ماموں طفیل خاں اور ہدایت خان اس کے سرپرستوں میں شامل تھے ۔ ماموں طفیل نے تو ارد گرد کے دکانداروں کو کہہ رکھا تھا کہ میرا بھانجا اگر کوئی چیز مانگے تو اس سے پیسے نہیں مانگنے ۔اسے اجازت تھی وہ جو چاہے کھائے اور جو چاہے پیئے ۔

اس قدر نازو انداز سے پلنے والا سہیل اختر میری نانی کے ساتھ چلتا ہوا میاں میردربار پہنچا ۔ میزبان کی حیثیت میں اور میری والدہ بھی ساتھ تھی ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب نانی نے سہیل اختر کی نظر اتاری اور ایک ولی کامل کی دربار پر حاضر ہوکر اس کی کامیابی اور درازی عمر کی دعابھی کی ۔آمین کہنے والوں میں ہم بھی شامل تھے ۔ جب یہ سب کچھ ہورہاتھاتو میں خاموشی سے سہیل اختر کی خوش نصیبی کو دیکھ کر سوچ رہاتھاکہ اﷲ تعالی نے میرے اس بھائی کو حسن و جمال دیتے ہوئے کس قدر فراخ دلی کا مظاہرہ کیاہے ۔وہ ایک بھائی اور چھ بہنوں کا لاڈلا تھا ۔ اس وجہ سے بھی اس کی اہمیت زیادہ تھی ۔

بہرکیف نانی سہیل اختر کی نظر اتار کر عارف والا واپس چلی گئی لیکن جب بھی ہم اپنی والدہ کے ساتھ عارف والا پہنچتے تو نانی کے گھر میں محفلیں جمتیں جن میں میری والدہ اور اس کی تمام بہنیں ( اقبال بیگم ‘ خورشید بیگم اور کہروڑ پکا سے زبیدہ بیگم ) اکٹھی ہوجاتیں ۔ نہ دن میں باتیں ختم ہوتیں اور نہ رات میں۔نہ جانے میکے جا کر میری والدہ کی نیند کہاں غیب ہوجاتی‘ میں جب بھی آنکھ کھول کر دیکھا تو والدہ کو نانی اور اپنی بہنوں سے محو گفتگو ہی دیکھتا ۔ وہ کب سوتیں اور کب جاگتیں‘ میں اس سے لاعلم تھا ۔ لیکن یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ جتنے دن بھی والدہ عارف والا قیام پذیر رہتیں تو نانی کے گھر جشن کا سماں ہوتا ۔

ان دنوں سہیل کے والد انور خاں غلہ منڈی میں ملازم تھے ‘ گھر میں رزق کی فراوانی تھی ۔یہ وہ دور تھا جب کسی کسی کے پاس ایک بینڈ کا ریڈیو ہوا کرتا تھا وگرنہ اڑس پڑوس سے اٹھنے والی گانوں کی آوازوں سے ہی لطف اندوز ہوا جاتا۔ اس اعتبار سے سہیل نہایت خوش قسمت تھا جس نے اپنے گھر( گلی نمبر 3) میں ایک سٹوڈیو نما کمرہ تیار کررکھا تھا جس میں فلمی گانوں کے بے شمار ریکارڈ ‘ فلمی ادارکاروں کی تصویریں ‘اور نئے گانوں سے آراستہ کیسٹس موجود ہوتیں ۔ وہ کمرہ اس قدر خوبصورت اور جدید سہولتوں سے آراستہ تھاکہ ہم جیسے چھوٹے بچوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی ۔ ایک دو مرتبہ والدہ کے ساتھ جب میں اس کمرے میں داخل ہوا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ پسند کی ہر چیز وہاں موجودتھی ۔ جیسے ہی سہیل اختر اپنے ڈرائنگ روم سے باہر نکلتا تو وہاں بڑا سا تالا لگ جاتا ۔ جوں جوں وقت بدلتا گیا سہیل نئی سے نئی الیکٹرونکس چیزیں خرید کر گھرلاتا رہا ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کا انتہائی شوقین اور خوش نصیب انسان تھا ۔ جس نے والدین کی محبت کو بھی خوب انجوائے کیااور نانانی ‘ماموں کے پیسے پر بھی خوب عیش کی

پھر وہ وقت بھی آپہنچا جب اس کی شادی خانہ آبادی ہونا قرار پائی ۔ وہ دولہا بنا تو پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت دکھائی دیا ۔ وہ اپنی شادی پر اس قدر خوش تھا کہ ہم لوگوں کو کار کے آگے ناچنے کے لیے مسلسل کہتا رہا ۔ جب ہم سے کسی نے ڈانس نہ کیا تو اس نے سہرا ایک جانب رکھا اور کار سے نکل کر خود ناچنا شروع کردیا ۔ یوں ہنستے کھیلتے بارات عارف والا کے ٹرنکاں والا بازار پہنچ گئی۔ جہاں لڑکی کے والدین رہائش پذیر تھے ۔ نکاح کی رسم ادا ہوئی ‘ کھاناکھایا اور شام ڈھلے سہیل اختر اپنی نئی نویلی دلہن کو لے کر گھر پہنچا ۔ وقت گزرتا رہا اور نئے سے نئے لوگ خاندان میں شامل ہوتے رہے ‘ پرانے رشتے داروں میں فاصلے بڑھتے رہے ۔ میری بھی شادی لاہور کی ایک لڑکی سے ہوگئی ۔بھائی اشرف کی شادی ملتان اور بھائی ارشد کی شادی ساہیوال ہوگئی ۔ والدین بھی عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے جہاں زیادہ نقل و حرکت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ اس طرح دوریاں بڑھتی چلی گئیں۔کہروڑ پکا والی خالہ زبیدہ اپنا شہر چھوڑ کر ملتان جابسی ۔نانی کے گھر اکٹھے ہونے کے مواقع کم سے کم ہوتے چلے گئے ۔

پہلے نانی فوت ہوئیں ‘ پھر نانا نے رخصت سفر باندھا۔ ان کے بعد ماموں طفیل چلتے بنے ۔ کچھ عرصہ بعد ماموں ہدایت بھی ہمیں چھوڑ کر اس دنیا میں جابسے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا ۔ دو ممانیاں ‘ گلزار بیگم اور ثریا بیگم بھی ان کی تقلید میں قبرستان میں جا سوئیں۔ یہ تمام لوگ سہیل اختر کے حقیقی معنوں میں پشت پناہ اور زبردست حمایتی تھے ۔ ماموں کو دیکھ کر ممانیاں بھی سہیل اختر سے بے حد پیار کرتی تھیں ۔وہ اپنی ذات کو بھول کر اس کی خاطر تواضع میں مصروف ہو جاتیں ۔ سہیل نے ہوش سنبھالی تو اسے ملازمت کا مسئلہ درپیش ہوا ۔ حسن اتفاق سے اس وقت ماموں طفیل نیلی بار کاٹن ملز عارف والا کے منیجر تھے۔ انہوں نے سہیل اختر کو نیلی بار کاٹن ملز میں ملازم کروا دیا ۔ کچھ عرصہ کے بعد ماموں کے کسی دوست گھڑی ساز کی دکان پر ملازم ہوگئے ۔ جب مہارت حاصل کرلی تو سبزی منڈی میں سہیل واچ کے نام سے اپنی دکان بنالی ۔ بظاہر تو یہ دکان بہت چھوٹی تھی لیکن اسی دکان نے سہیل اختر کو مالا مال کردیا ۔ وہ لاکھوں میں کھیلنے لگا ۔ گاڑی بھی خرید لی ‘ اچھا لباس بھی زیب تن کرلیا ۔اٹھنا بیٹھنا بھی شہر کے معززین میں ہونے لگا ۔ دولت ‘ شہرت اور مونہہ زور جوانی جب اکٹھے ہوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا کام انسان سے ضرور سرزد ہوتا ہے جو بڑھاپے میں پریشانی کا باعث بن جاتا ہے ۔ سہیل اختر کی زندگی میں بھی ایک اور عورت داخل ہوئی جس کے بطن سے دو لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی ۔دوسری شادی کی وجہ سے اسے خاندان کے اندر اور باہر بے شمار مسائل کاسامنا کرنا پڑا لیکن وہ اپنے فیصلے پر کبھی نادام نہیں ہوا ۔ پھر نہ جانے کیا ہوا ہمیں یہ خبر سننے کو ملی کہ اس نے اچانک دوسری بیوی کو فارغ کردیا اور خاندانی بیوی( طاہرہ ) کے ساتھ رہنے لگا ۔ خاندانی عورتیں واقعی لائق تحسین ہوتی ہیں جو شوہر کی بڑی سے بڑی غلطی کو ایک لمحے میں معاف کردیتی ہیں بے شک ایسی عورتیں ہی جنت میں حوروں کی سردار بنتی ہیں۔ پہلی بیوی "طاہرہ " نے بھی اچھی اور خاندانی عورت کی طرح اپنے شوہر کو دل سے قبول کرلیااور تمام گلے شکوے ذہن سے اتار پھینکے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے ۔ جوانی میں جو غلطی اس سے سرزد ہوئی تھی اس کا ازالہ بھی بہرحال اسے ہی کرنا تھا۔

سہیل اختر نے ایک نیا اور خوبصورت گھر تعمیر کیا جسے دیکھ کر جنت کاگماں ہوتا ۔ چند سال پہلے کی بات ہے میں اپنے چھوٹے بھائی اشرف لودھی کی بیٹی سحرش کی منگنی کے سلسلے میں جب عارف والاپہنچا تو مجھے جس گھر میں داخل ہونے کے لیے کہاگیا اس گھرکے دروازے پر نصب ایک تختی دکھائی دی ۔ جس پر لکھا تھا "جنت سہیل اختر"۔یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ یہی وہ جنت ہے جسے سہیل اختر نے اپنے بیوی اور بچوں کے لیے تعمیر کیا ہے۔ شاید قدرت نے کوئی اشارہ دے دیا تھاکہ زندگی کی مہلت ختم ہوتی جارہی ہے ‘ اپنے گناہوں اورلغزشوں کی معاف مانگ لو ۔ میں نے عارف والا میں قیام پذیر کے دوران محسوس کیا کہ سہیل اختر فرضی نماز وں کے ساتھ ساتھ نفلی نمازیں بھی باقاعدگی سے اداکرنے لگا اور چہرے پر چھوٹی سی داڑھی بھی سجا لی ہے یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ آخرت کی زندگی کی تیاری کرنے لگا ہے۔ بے شک اﷲ جسے چاہتا ہے ‘اپنے پاس بلانے سے پہلے ہدایت دے دیتا اوراپنے گھر "مسجد" کا راستہ دکھا دیتا ہے اور جسے نہیں چاہتا اسے گناہوں کی دلدل میں ڈوبا رکھتا ہے تا وقتیکہ موت کا فرشتہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اس لمحے نہ تو توبہ قبو ل ہوتی ہے اور نہ ہی معافی ۔

سہیل اختر کی زندگی ایک کامیاب ترین انسان کی زندگی ہے ۔ اس نے غربت کبھی نہیں دیکھی ہمیشہ پیسوں سے ہی کھیلتا رہا ۔جس چیز کوکھانے کو دل چاہا کھالیا ‘ جس کپڑے کو پہننے کی آرزو پیدا ہوئی ‘وہ کپڑا خرید کر سلوا لیا ۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب وہ اپنے بیٹے عمران کی بارات لے کر لاہور کینٹ پہنچا جہاں میں اور بھائی اشرف نے سہیل اختر کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر استقبال کیا ۔ اس دن وہ بہت خوش تھا۔ خوش کیوں نہ ہوتا اس نے اپنے بیٹے کو رشتوں کی ایک مضبوط زنجیر سے باندھ دیاتھا جہاں ہمیشہ اسے عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھاجانا تھا ۔ اختر کے ہونہار بیٹا عمران ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لودھی خاندان کا ایک فرد بن چکاتھا ۔ سہیل اختر نے یہی کارنامہ انجام نہیں دیابلکہ اپنے دوسرے بیٹے کو ملتان میں ایک ایسی لڑکی سے بیایا جس کا باپ سر موجودنہیں تھا ۔ میں سمجھتا ہوں اپنے رشتے داروں میں بیٹوں کی شادی کرنے کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ تھا۔اس حوالے سے ہماری ممانی ثریا بھی تحسین کے قابل ہیں۔اﷲ تعالی ان کو بھی جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ وہ جب بھی آنکھ کے علاج کے لیے عارف والا گئیں کسی نہ کسی نئے رشتے کی بنیاد رکھ آئیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ سگے بہن بھائی دور ہوجاتے ہیں لیکن سسرالی رشتے دار ہمیشہ کے لیے گلے کا ہار بنتے ہیں ۔ اب سہیل اختر کا بیٹا عمران ہمارے خاندان کا اہم فرد بن چکا ہے اور لاہور جیسا بین الاقوامی شہر اس کا سسرال کہلاتاہے ۔یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں ۔

سہیل اختر سے میری آخری ملاقات ممانی ثریا کے انتقال پر ہوئی ۔ وہ ہنستا کھیلتا انسان دکھائی دیا ۔ بلکہ جگت مارنے اور مذاق کرنے میں خاصی مہارت رکھتا تھا ۔ میرا مزاج اس سے یکسر مختلف ہے اس لیے وہ مجھ سے عزت سے پیش آتا ۔ اسے مجھ سے صرف یہی شکوہ تھا کہ میں عارف والا کیوں نہیں جاتا۔ میں اسے کیسے سمجھاؤں کہ لاہور کی سرزمین نے میرے قدم روک رکھے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نانا نانی کی وجہ سے عارف والا میرا محبوب ترین شہر ہے جس کی دھول میں ‘ میں اپنا بچپن محسوس کرتا ہوں پھر اس شہر کی مٹی میں میری نانی اور چاند جیسے دو ماموں بھی دفن ہیں۔ اسے میں کیسے بھول سکتا ہوں ۔ میرا دل تو چاہتا ہے کہ میں ننگے پاؤں ہوکر عارف والا کی گلیوں میں گھومتا پھروں ۔ لیکن یہ سب کچھ سوچا تو جاسکتا ہے عملی طور پر میری صحت اس کی اجازت نہیں دیتی ۔ میں بھی سہیل اختر کی طرح اب بوڑھا ہوچکا ہوں اور سفر سے بہت گبھراتا ہوں ۔

پچھلے سال مجھے یہ اطلاع ملی کہ سہیل کو کینسر کے موذی مرض نے گھیر لیا ہے ۔ یہ سن کر بہت دکھ ہوا ۔ چند دنوں کے لیے وہ اپنی بیٹی کے پاس لاہور بھی آیا پھر واپس چلاگیا ۔ زندگی کی مصروفیات نے مزید ملاقات کی مہلت نہ دی ۔ جب بھائی اشرف کے بیٹے "ثاقب لودھی" کی شادی کا اہتمام ہوا تو عارف والا سے بے شمار لوگ شادی میں شرکت کے لیے لاہور آئے ۔ ان میں سہیل اختر شامل نہیں تھا ۔وہ کیسے اس شادی کو مس کرسکتاتھا بیماری نے اسے بے حال کر رکھا تھا ۔پتہ چلا کہ وہ چلنے پھرنے سے عاری ہوچکا ہے ۔ میں ہرروز تہجد کے وقت اس کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے لگالیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا کیونکہ موت کاایک وقت مقرر ہے اسے نہ آگے کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پیچھے ۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ماہ رمضان میں موت تو میں نے مانگی تھی لیکن میری جگہ وہ جنت میں جا بیٹھا ۔ مجھے اپنے خالہ زاد بھائی کی موت کا بھی غم ہے اور خوشی بھی ۔ روزوں میں دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ۔ سہیل اختر کی کوئی ایسی نیکی کام آئی جو اﷲ تعالی نے اسے ماہ رمضان میں موت عطا کرکے اس کا اجرعظیم عطا کردیا ۔ بے شک اﷲ تعالی اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔ سہیل اختر تو ہم سے جدا ہوکر دوسری دنیا میں جابسا لیکن اس کی محبت میں آنسو بہانے والوں میں پانچ بیٹے دوبیٹیاں اور ایک بیوہ بھی شامل ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ سہیل اختر کے جانے کے بعد اس کی زمینی جنت یقینا اداس ہوگی ‘ جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا ۔

بے شک ہم سب اﷲ کے لیے ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں ۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Jun, 2018 Total Views: 96 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 332 Articles with 106863 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB