یتیم کی تکریم

(Saleem Afaqi, Peshawar)

بلا شبہ یتیم بچے معاشرے کا وہ محروم طبقہ ہے جسے ہر کوئی نظر انداز کرتا چلا آیا ہے اسی لیے اللہ رب الذولجلال نے قرآن مجید فرقان حمید میں بار باریتیم کی تکریم بیان کر کے اسکی اہمیت کو چار چاند لگا دئیے ہیں کیونکہ جس معاشرے میں یتیم کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، انکی جائیدادوں کو ہڑپ کر لیا جاتا ہے اور انکو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو پھر ایسے محروم و مظلوم بچوں میں منفی جذبات پروان چڑھتے ہیں جو انکی شخصیت کو بری طرح مسخ کر دیتے ہیں یہی بچے ڈاکوٶں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے آلہ کار بن جاتے ہیں اسی لئےہر فلاحی معاشرے کا فرض بنتا ہے کہ وہ والدین کے شجر سایہ دار سے محروم پھولوں کو گود میں لیں۔ ان کو ماں کی ممتا فراہم کریں اور باپ کی شفقت بھی۔پھر یہ بچے مستقبل میں علماۓ کرام اساتذہ ڈاکٹر انجنئیر اور صحافی بن کر ملک وقوم کی خدمت کر سکیں گے ہما رے نبی مہربان نے کیا خوب فرمایا ہے کہ بدترین ہے وہ گھر جس میں یتیم کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا جاتا ہے اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا اور بہترین ہے وہ گھر جس میں یتیم بچوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا جاتا ہے نورالواحد جدون کی دعوت پر با ہمت بچوں کے ہا سٹل کا وزٹ کیا۔ ذاتی طور پر مجھے آغوش سنٹر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ جہا ں نہ صرف والدین کے سایہ سے محروم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے بلکہ انکو گھرسے بھی زیادہ سہولیا ت میسر ہیں جیسے وہ کسی آفیسر کے بچے ہوں بچوں کے رہائشی کمروں کا مشاہدہ کیا تو دل باغ باغ ہو گیا ہر چیز کی سہولت میسر تھی یقینا شاندار طرز رہائش دیکھ کر ہمارے ایک قلمی ساتھی نے کہا کاش میں بھی یتیم ہوتا اور آغوش میں پرورش پاتا۔ ہر کمرے میں مانیٹرنگ کیمرے لگے ہوئے ہیں ۔کمروں کے باہر ایک بٹن لگا ہوا ہے۔وارڈن رات کے وقت بجلی آن کر کے باہر سے بچوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے سچ پوچھیں تو مانیٹرنگ کا یہ اندازمجھے بہت اچھا لگا اور واش رومز صاف ستھرے، پینے کے لئے گرم و ٹھنڈے پانی کی سہولت موجود، ڈائننگ ہال کی طرف چکر لگا تو خوشی دوبالا ہو گئی کیونکہ یہ کسی سٹینڈرڈ ادارے سے کسی قیمت کم نہیں تھا۔ ایک اور بات جو ہمیں انوکھی لگی وہ یٕہ تھی کہ کچن سٹاف اور بچوں کو الگ الگ پورشن میں رکھا ہوا تھا بچے خود ہی سروس کرتے اور کھاتے۔ جب مینیو کی طرف توجہ دلائی گئی تو دلی مسرت ہوئی۔ آغوش کے بچوں کو وہی میسر ہےجو کھاتے پیتے گھرانوں کو میسر ہےکھیل کے میدان میں جھولے لگے ہوۓ ہییں بچے جھولوں میں لہلہتاتے پھولوں کی مانند نظر آرہے تھے۔

بعض بچے جمناسٹک کا مظاہرہ کر رہے تھے بچوں کے لئے فرسٹ ایڈ کی سہولت بھی میسر تھی۔ جب مسجد میں نماز کے لئے داخل ہوئے تو سارے بچے موجود تھے نماز کے بعد بچوں نے زبانی احادیث پڑھیں نماز سے فارغ ہوۓ تو بچوں سے ملاقات ہو گئی ان سے نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا انکی باڈی لینگوج سے ذہانت ٹپک رہی تھی انکی باتوں میں اعتماد تھا انکے بول چال سے پیار چھلک رہا تھا۔یہ جان کر خوشی ہوٸ کہ بچے پشاور کے قابل فخر سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ہر بچے پر اوسطاًساڑھے دس ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے حقیقت یہ ہے کہ الخدمت فاٶنڈیشن کا یہ قابل فخر ادارہ ہے۔عبد الشکور، محمد شاکر صدیقی ،خالد وقاص چمکنی اور تحسین اللہ آغوش ادارے کی نگرانی کرتے ہیں

اس ادارے کا حسن انتظام دیکھ کر انتظامیہ کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ یقیناًمبارکباد کے مستحق ہیں وہ شخصیات جنکی بدولت بچوں کو وہ سب کچھ مل گیا ہے جن کے سروں پر والدین کا سایہ موجود ہوتا ہے۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ پھول جیسے بچے یتیم نہیں رہے بلکہ آغوش ہی ان کی ماں بھی ہے اور باپ بھی۔
خدا کرے کہ دنیا بھر کے بچوں کو آغوش جیسی شفقت ملے۔ آمین

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Jun, 2018 Total Views: 270 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Saleem Afaqi


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
AOA , Thank you for publishing my article.My name is Muhammad Saleem Afaqi PhD scolar in education from Sarhad University Peshawar.Studied Mphil Education and won Gold Medal from Abasyn University Peshawar. Moreover Master in Political science,International Relation,Islamiyat and Education
By: Saleem Afaqi, peshawar on Jun, 24 2018
Reply Reply
0 Like
Would that we respect orphans and widow. we should follow Islam in this way. good article
By: Kashif, Peshawar on Jun, 17 2018
Reply Reply
0 Like
I read it, very good article and beneficial for humans.
By: Kashif, Peshawar on Jun, 16 2018
Reply Reply
0 Like
Productive one
By: noreen habib, islamabad on Jun, 16 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB