تمام طالب علموں کے لئے۔ دور حاضر کے وسائل کا صحیح استعمال۔۔۔‎

(Shoaib Haneef, )

دور حاضر کے وسائل کا صحیح استعمال تمام طالب علموں کو ایک اچھا مستقبل دے سکتا ہے۔ وسائل کا مطلب ۔ وسیلہ، سہارا، زریعہ، جو بھی وقت اور چیزیں اور وسیلہ، سہارا ، زریعہ دور حاضر میں میسر ہیں اُن کا دُرست اور اچھا استعمال۔

طالب علم ملک پاکستان کا وہ سرمایہ ہیں جو آنے والے وقت میں ملک پاکستان کے حالات بدل سکتے ہیں اور نئی روشنیاں اور نئے جدید دور میں ملک پاکستان کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن اس کام کے لیے تمام طالب علموں کو اس بات کو سمجھنا ہوگا کے ہمیں کس طرح وقت رہتے اپنے دور حاضر کے وسائل کا استعمال کرنا ہے۔ وہ بچے جو میٹرک میں ہیں یہ کالج میں ہیں ۔اور آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو ان بچوں تک ضرور اس تحریر کہ خلاصہ پہنچائیں اپنے الفاظ میں ۔ تاکہ اُن کے دل دِماغ میں اگر آنے والے وقت اور دور حاضر کے وسائل کا دردست استعما کا پتہ نہیں ہے یہ اُنہیں معلوم نہیں ہے تو آپ کی گفتگو اُنہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دےگی کے ہاں ہمیں ابھی سے سوچنا چاہئے ۔ایک سٹوڈنٹ جو ابھی چھوٹی کلاس میں ہیں یہ میٹرک میں یہ کالج میں ہیں وہ اس گہرائی سے کبھی مستقبل کو نہیں سوچتے ۔۔۔ یہ کام ماں باپ کا ہے یا گھر میں موجود بھائی بہن جو بڑھے ہیں اُن کا ہے کہ وقت سے پہلے اُنہیں آنے والے وقت کے لیے تیار کر دیں۔کچھ سٹوڈنٹ کو اللہ پاک نے خود کار صلاحیتوں سے نوازا ہوتا ہے وہ خود ہی بڑھتے ہیں اور چھوٹی سی عمر میں ہی بڑھے بڑھے کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن سب نہیں صرف وہ جنہیں اللہ پاک نے ان صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ اس لیے گھر کے بڑھوں کو اور اسکول کالج میں اساتزہ کو یہ کام کرنا ہوگا تب جا کر ایک بچا جو اسکول کالج سے نکلےتے ہی نوکری کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔ وہ یہ سوچنا شروع کرے گے۔ کہ آگے زِندگی میں کرنا کیا ہے۔۔کیا زِندگی ایک نوکری کرتے رہنے کا نام ہے۔کیا مستقبل اسی چیز کا نام ہے۔ تب جا کر ایک بچے کی سوچ تبدیل ہوگی اور ایک نوکری پیشہ خوان نہیں ایک الا سوچ رکھنے والا ملک پاکستان کا سنہرا مستقبل سامنے آئےگا۔۔۔گھر میں موجود افراد یا اساتزہ یہ باتیں خود ذہن میں رکھیں کے دور حاضر کے کون سے وسائل ایسے ہیں جو بچوں کے لیے انمول ہیں ۔۔ اور پھر اُن وسائل کے بارےمیں بچوں کو بتائیں دینی دنیاوی تربیت کے ساتھ ساتھ آنے والے مستقبل کی تیاری کروانا بھی بہت اہم ہے جو کے ہم لوگ نہیں کرواتے۔ ایک بچے کو دینی دنیاوی تعلیم ضرور دیں لیکن ساتھ ساتھ اس بچے کو مستقبل کے لیے بھی تیار کیجیۓ۔ اگر چھوٹی عمر سے ہی تھوڑا تھوڑا سمجھنا شروع کر دیا تو ایک عمر تک پونچھتے پونچھتے بچا خود سمبھل جائے گا بلکہ وہ آپ کا سہارا بھی بن چکا ہوگا۔۔۔ میں کچھ کا ذکر کر رہا ہوں اس طرح کے بیشمار اور وسائل بھی ہو سکتے ہیں صرف ضرورت غور کر نے کی ہے۔۔

دور حاضر میں سب سے پہلا وسائل وقت ۔ وقت رہتے وقت کا صحیح استعمال کرنا۔

دور حاضر میں والدین بہت اہم اور انمول وسائل ہیں ۔۔والدین کی موجودگی میں آگے بڑھنا اور اگر کوئی کاروبار ہیں والد کا یہ بھائی کا تو اس میں دل چسپی لینا اور سیکھنا -

دور حاضر میں تعلیم جس بچے کو مل رہی ہے وہ بہت خوش قسمت ہے اور یہ بھی ایک وسائل ہے۔ تعلیم حاصل کرتے وقت آنے والے وقت کا خاص خیال رکھنا۔

اساتذہ کی موجودگی دور حاضر کا انمول وسائل میں سے ہیں ان کا بھر پور فائدہ اٹھانا ۔ اور اُن سے بہت کچھ سیکھنا۔

کتابوں کا ہونا اور آپ کے پاس ان تک رسائی ہونا یہ بھی ایک قیمتی وسائلِ کہلائے گا۔ تعلیمی نصاب سے ہٹ کر بھی مطالعہ کرنا ۔

وسائل جب ہی وسیع ہونگے جب آپ کا مطالعہ وسیع ہوگا اپنے مطالعے کو وسیع کرنا اپنی دل چسپی کو جاننا جس کام میں دل چسپی ہو ۔خاص کر کتابوں سے دوستی رکھنا ۔

والدین کے پاس بیٹھ کر اُن معملات کو ڈسکس کرنا جو آپ آنے والے وقت میں کرنا چاہتے ہو ۔اور اس طرف بڑھنا اور صحیح سمت کا تعین کرنا ۔

ساتھ ساتھ تعلیم سے وابستہ رہنا اور آنے والے کل کو خود سے سوچنا کے آنے والے وقت میں کیا کروں گا ۔یہ کیا کرنا چائیے۔

یہ دور حاضر کے کچھ وسائل ہیں جن کا ذکر میں نے اوپر کیا یہ تمام وسائل ہی کہلائیں گے اس لیے کہ یہ سب چیزیں وسیلہ بھی ہیں زریعہ بھی ہیں اور آگے بڑھنے کا سہارا بھی ہیں۔ وقت رہتے ان کی قدر کیجیئے۔ لیکن افسوس ہم ان اہم چیزوں کو باتوں کو بھول جاتے ہیں جب ہم ہی ان باتوں کو اہمیت نہیں دیں گے تو ہم سے جو چھوٹے ہیں وہ کیسے اہمیت دیں گئے ۔۔۔ یہاں جن باتوں کا ذکر کیا میں نے اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کے ایک چھوٹے بچے پر یہ سوچ مسلط کرنا کے آپ بڑھے ہوگئے ہوں۔ اور زندگی کو سمجھو ۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب ایک بچے کی تربیت کی جاتی ہے۔ ورنہ ایک جوان انسان کو سمجھا کر دیکھیں جس کو آپ نے بچپن سے کبھی نہیں سمجھایا پھر آپ کو فرق کا اندازہ ہوگا ۔۔۔۔اس لیے یہی عمر ہوتی ہے تربیت کی ۔۔۔

اس تحریر کہ مقصد صرف یہ ہے کہ نوجوان نسل کو آنے والے وقت کے لیے ہر طرح سے تیار کرنا اور انہیں دور حاضر کے وسائل کا صحیح استعمال سیکھانا ۔۔۔جن چیزوں کا ذکر میں نے کیا ہے وہ شاید دیکھنے میں معمولی لگائیں لیکن دراصل ان تمام باتوں کی اپنی ایک حیثیت ہے بس غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

اللہ پاک ملک پاکستان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور تمام بری نظروں سے پاکستان کو بچائے اور نوجوان نسل کو پاکستان کا روشن مستقبل بنائے آمین ۔۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Jun, 2018 Total Views: 572 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Shoaib Haneef

Read More Articles by Shoaib Haneef: 12 Articles with 7932 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB