درندہ

سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی ہم بھی ایک کار میں ٹریفک کے اِس بہاؤ کا حصہ تھے اچانک ہما رے سامنے والی کار ایک جھٹکے سے رک گئی جس کی وجہ سے ہما ری گاڑی بھی اگلی کار سے ٹکراتے ٹکراتے بچی ‘اگلی کار کے سامنے شاید کو ئی آگیا تھا جس کو بچانے کے لیے اُسے اچانک بریک لگانی پڑی ‘ٹریفک رک چکی تھی مختلف گاڑیوں سے لو گ تیزی سے نکل کر جائے حادثہ کی طرف اکٹھے ہو رہے تھے ‘میں بھی کار سے اُتر کر وقوعہ کی طرف بڑھا ‘وہا ں پر حیران پریشان کر دینے والا منظر میرا منتظر تھا ۔ میں اُس منظر کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا ‘ایک انسان جس کے ہا تھ پا ؤں نہیں تھے وہ پیٹ کے بل سرکتا ہوا سڑک کراس کر رہا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہو چکی تھی ہم روز مرہ زندگی میں روزانہ معذوروں کو دیکھتے ہیں کسی کا ہا تھ نہیں تو کسی کی ٹانگ نہیں یا کسی کی نظر نہیں ہے لیکن یہ اپنی نو عیت کا پریشان کر دینے والا معذور تھا جواپنے دونوں بازوؤں اور ٹانگوں سے محروم تھا ‘معذوری اتنی خو فناک کہ جس نے بھی دیکھا اُس کا کلیجہ پکڑ اگیااُس کی معذوری اوراوپر سے کچھوے کی طرح رینگتے ہوئے سڑک کراس کر نا جس نے بھی دیکھا اُس نے کانوں کو ہا تھ لگا ئے آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے ‘لوگ توبہ توبہ کر تے اپنی گاڑیوں کی طرف بڑھے اِسی دوران معذور سڑک کراس کر کے کنا رے پر لیٹا لمبے لمبے سانس لے رہا تھا اُس کی حالت زار دیکھ کر میری نبض اور سانس تھم چکی تھی میں اُس کی حالت دیکھ کر پر زے پرزے ہو رہا تھا اُس کی بے بسی لاچارگی مجھے اندر ہی اندر اُدھیڑ رہی تھی میرا کلیجہ پھٹ رہا تھا اُس کی معذوری سے واضح پتہ چل رہا تھا کہ اُس کی معذوری پیدائشی نہیں تھی بلکہ کسی نے اُس کے ہا تھ پاؤں بازوؤں اور ٹانگوں سمیٹ کاٹ ڈالے تھے ‘ اُس کے ساتھ ایسا سلوک کس نے کیا اور کیوں کیا کون تھا چنگیز خان کی اولاد جس نے اِسے نشان ِ عبرت بنا دیا تھا بے بسی کا چلتاپھرتا اشہار بنا دیا تھا اِس کی وجہ کیا تھی کیوں اِس کے ساتھ یہ سلوک ہوا‘اِن سوالوں سے میرے دماغ کا ناریل چٹخنے لگا سر میں دھواں سا بھرنے لگا ‘ ہم نے گاڑی سائیڈ پر لگا ئی اور اُس کے پاس آگئے باقی لوگ اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے ہم جا کر اُس کے پاس بیٹھ گئے اُس نے اپنی بے نور ویران آنکھوں سے ہما ری طرف دیکھا میں شفیق محبت آمیز نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا ‘میرے دوستانہ روئیے سے اُسے حو صلہ ہوا اُس نے مسکرانے کی کو شش کی لیکن مسکراہٹ ابھرنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی ‘ معذوری کی وجہ سے دن رات سڑکوں پر رینگ رینگ کر اُس کا جسم سیاہ ہو چکا تھا جس پر مٹی کی کئی تہیں چڑھ چکی تھیں اُس کی جلد بن چکی تھی وہ بے حس و حرکت خا موش ویران بنجر نظروں سے ہما ری طرف دیکھ رہا تھا میں نے ہا تھ بڑھا یا اُس کے کندھے پر رکھا اور میٹھے لہجے میں بولا آپ نے کہاں جانا ہے ہم آپ کو منزل تک پہنچا دیتے ہیں ۔ اُسے شاید شفیق برتاؤ کی عادت نہیں تھی اُس کی آنکھوں میں شکرانے کا رنگ لہرانے لگا اب وہ بولا جناب آپ کیوں تکلیف اٹھا تے ہیں‘میں چلا جاؤں گا لیکن جب ہم نے بہت اصرار کیا تو وہ ہما رے ساتھ جانے پر راضی ہو گیا اب ہم نے اُسے اٹھایا اور پچھلی سیٹ پر لٹا دیا وہ ممنون نظروں سے ہما ری طرف دیکھ رہا تھا ‘آخر تجسس کے ہا تھوں مجبور ہو کر میں اُس سے مخا طب ہوا ‘جب سے میں نے تمہیں دیکھا ہے میرا کلیجہ کٹ رہا ہے مکروہ کون ظالم تھا جس نے تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا ‘ تمہیں چلتی پھرتی لا ش بنا دیا اِس زندگی سے تو موت بہتر تھی یہ تم پر ظلم ہے ‘ یاتمہا رے کسی بڑے گنا ہ کی سزا۔ میری بات سن کر اُس کی آنکھوں سے اشکوں کی روانی شروع ہو گئی رو رو کر اُس کے چہرے پر لکیریں بن چکی تھیں جو برسوں رونے کے بعد بنتی ہیں اب اُس نے بو لنا شروع کیا آپ ٹھیک کہہ رہے ہو میرا گنا ہ بہت بڑاتھا جس کے سامنے یہ سزا بہت چھو ٹی ہے اُس گنا ہ کی سزا میں اگر ہرسیکنڈ مجھے اِسطرح معذور کیا جائے تو بھی میری سزا کم ہو گی اور روز قیامت سب کے گنا ہ ایک پلڑے میں ڈال دئیے جائیں اور دوسرے پلڑے میں میراصرف ایک گنا ہ ڈال دیا جائے تو یقینا میرا پلڑا بھا ری ہو گا کیونکہ جو گنا ہ میں نے کیا ہے وہ شیطان بھی نہیں کر سکتا ‘ دنیا کا ظالم سے ظالم ‘ پتھر دل سے پتھر دل انسان بھی میرے گنا ہ سے پہلے کانوں کو ہا تھ لگائے گا بلکہ اِس گنا ہ کے بارے میں کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا ‘ جنگلی جانور اور درندے بھی ایسا گنا ہ نہیں کر سکتے جو گنا ہ مجھ سے سر زد ہو ا ہے ‘ میں دھرتی کا سب سے بڑا گنا ہگار اور وحشی درندہ ہوں ‘ میری درندگی کے سامنے چنگیز خان ہلاکو خان کی درندگیاں بھی شرمندہ ہو جا ئیں ‘ میں انسان نہیں وہ عفریت نما درندہ ہوں کہ انسانیت بھی منہ چھپا کر روتی ہو گی ‘ اب اُس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا انسان نما گوشت کے لو تھڑے میں اب لرزش طا ری تھی ‘ کبھی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتاکبھی ہچکیاں لینا شروع کر دیتا ‘ اب اُس نے پھر بولنا شروع کیا میں تو مسلمان گھر میں پیدا ہوا یہ گنا ہ تو بڑے سے بڑا کا فر بھی نہیں کر سکتا اب اُس نے اصل دلخراش واقعہ سنا نا شروع کیا میر ا تعلق پنجاب کے دور دراز گاؤں سے ہے میں جوان ہوا تو دیہات کے آوارہ اوباش جوانوں والی ساری غلط عادتیں مجھ میں موجود تھیں ‘ شراب ‘ زنا ‘ جوا ‘ لڑائی مار کٹائی کون سا عیب تھا جو مُجھ میں نہیں تھا لیکن ان تما م عیوب میں سب سے بڑا عیب جو میرے اندر تھا ‘ درندگی کی حد تک جنسی خواہشات کی تکمیل اس گھناؤنی خواہش کی تکمیل کے لیے میں انتہائی چالاکی سے مو قع کی تلاش میں رہتا ‘ رات کے اندھیرے میں یا زمینوں فصلوں میں جہاں کو ئی اکیلی لڑکی مجھے مل جاتی ‘ میں اپنا منہ کالا کر تا ‘ لڑکیاں بد نامی کے خو ف سے خود پر ہونے والے حادثے کا ذکر کسی سے نہ کر تیں میں چالاکی سے اپنا وار کر تا ایسی بے بس غریب کمزور لڑکیوں کا انتخاب کر تا جن کے سر پر مضبوط سہا را نہ ہوتا ‘ اِسی دوران میری زندگی کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا ہما رے گاؤں میں ایک مجذوبہ لڑکی تھی جو نئی نئی جوان ہو ئی تھی وہ اﷲ والی تھی سب گاؤں والے اور اردگرد کے گاؤں والے بھی اُس کی بہت عزت بلکہ پو جا کر تے وہ مجذوبہ تھی کچھ لو گ اُسے پاگل بھی کہتے پورا گاؤں اُس کی بہت عزت کر تا وہ جس دوکان پر جاتی لوگ خو شی خوشی اُسے چیزیں دیتے اگر وہ قریبی شہر چلی جاتی تو لوگ اُس کی منتیں کر تے کہ وہ اُن کی دوکان پر آئے ہر کو ئی اُس کو پیسے چیزیں دیتا اُس کی خدمت کر تا وہ شہزادیوں کی طرح معصوم تھی لوگ اُس کی نیکی پا رسائی کی قسمیں کھا تے کہ اُس کے منہ سے جو نکل جاتاہے وہ پورا ہو جا تا ہے لوگ اُس کو کامل ولیہ سمجھتے اُس کی درویشوں ولیوں کی طرح پو جا کر تے اُس کے اشارے پر کھڑے ہو جاتے وہ جس سے کو ئی چیز لے لیتی وہ اپنی قسمت پر ناز کر تا ‘ اب وہ بھرپور جوان ہو چکی تھی میری درندگی بیدار ہو ئی میں نے تانگہ بنا لیا اب مجذوبہ کو تانگے پر بٹھا کر گاؤں شہرگھومتا جو پیسے اکٹھے ہوتے ان سے عیاشیاں کرتا بات یہاں تک ہو تی تو معافی ہو جاتی میں نے درندگی کی ساری حدیں پھلانگ دیں اب اُس مجذوبہ کی عزت سے منہ کا لا کر نا شروع کر دیا ‘ معصوم فرشتوں جیسی مجذوبہ درندگی کا شکار ہو گئی اب قدرت کے انتقام کا وقت آیا مجذوبہ حاملہ ہو گئی آخری مہینوں میں لوگوں کو شک پڑا ڈاکٹر کو دکھایا تو پتہ چلا وہ تو بچے کی ماں بننے والی ہے ‘ میں خو ف سے گاؤں چھوڑ کر کراچی چلا گیا دوران زچگی مجذوبہ بچے سمیت جام فنا پی گئی ‘ اب لڑکی کے خاندان والے میری تلاش میں تھے جلد ہی مجھے ڈھونڈ نکالا ‘ اب سزا کے طور پر میری بازو ٹانگیں کاٹ کر مجھے نشان عبرت بنا دیا گیا ساری عمر کے لیے گاؤں سے نکال دیا میرے جیسے درندوں کو یہی سزا ملنی چاہیے ورنہ معاشرے ہما ری درندگی کا شکا ر ہوتے رہیں گے ‘ میری یہ سزا تھو ڑی ہے کاش روزانہ میرے ہزاروں ٹکڑے کر کے جہنم میں پھینک دئیے جائیں یہ کہہ کر وہ چیخیں مار کر رونے لگا ۔
Prof Abdullah Bhatti
About the Author: Prof Abdullah Bhatti Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 801 Articles with 655043 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.