ہمارے اعمال اور ظالم حکمران

(Emmi Khan Durrani, Peshawar)

ہم پر آج کل جیسے لوگ حکمرانی کررہے ہے یہ ہمارے اپنے ہی عمال کا نتیجہ ہے۔

یہی ایک کتاب ہی ہمیں جوڑتی ہے اور یہی ایک کتاب ہی ہمیں سیدھی راہ دیکھاتی ہے۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلسَّلاَ مُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ

ہم لوگ ایک عجیب قوم ہے ہمارے سوچ بھی بہت ہی عجیب ہے ہم لوگ آئے دن ظالم حکمرانوں کا رونا روتے ہے ہم پر ظالم حکمران اتے ہے ملک لوٹتے ہے ملک دشمن اسلام دشمن ہے اور سب چیزوں کا انہیں ذمےدار ٹھہراتے ہیں۔ پر خود پر کبھی ہم غور نہیں کرتے نا خود کو ٹھیک کرتے ہے ہم خود عدل اور انصاف والی قوم نہیں اسلئے تو ہمارا یہ حال ہے۔

قرآن مجید میں اللّٰہ تعالٰی کا ارشاد ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ،

"اللہ عدل کا ،بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کےکاموں، نا شائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے وہ خود تمہیں نصیحت کر رہا ہے کہ تم نصیحت کرو۔"(سورۃ النخل)

عدل و انصاف کے بارے میں حدیث ہے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
اگر عدل و انصاف نہیں ہوگا تو تین چیزیں ہوں گی
۱ قہط
٢مہنگایٔ
اور تیسرے اللہ ظالم بادشاہ مسلّط کر دینگے۔۔
(سنن ابن ماجہ حدیث ۳۲۶۲)

اگر دیکھا جائے تو ہم ایسے ہی قوم بن گے ہے آجکل ہمارا معاشرے میں انگریزی تعلیم کے نام پر اسلام سے دور کیا جارہا ہمارے ایسے برین واشنگ کی جارہی ہے کے ہمیں ہر چیز جو اسلام میں غلط ہے ہمیں وہ ٹھیک لگتی ہے۔زنا ہم میں عام ہوگیا اسلام کے لفظ الف کا بھی ہم لوگوں کا علم نہیں عدل انصاف تو ہم کرتے نہیں اپنے ہی بہن بھائیوں کے پیر کاٹتے ہے۔

سورہ انفال میں اللّٰہ تعالٰی نے جس بدترین جانور کی بات کی ہے اگر دیکھا جائے تو ہم ہے وہ جانور ہم لوگ اخلاق کے اس درجے سے گر گئے ہے جو ہمیں اشرف المخلوقات بنارہی ہے۔

آج اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہورہے ہے تو یہ ہمارے اپنے عمال ہے ہمارے اپنا کیا دھرا ہے۔
بس میرے بات کا مقصد یہ ہے ہم خود کو ٹھیک کرے اسلام کی راہ پر چلے۔

اللّٰہ ہمیں اسلام کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اللّٰہ ہم پر اور ظالم حکمران مسلط نا کرے اللّٰہ اسلام کے اس قلعے پاکستان کی حفاظت فرمائیں اور اللّٰہ اسلام دشمن اور اسلام کے اس قلعے اسلام کے دشمنوں کو نیست ونابود کردے۔

آمین
والسلام

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
29 Jun, 2018 Total Views: 1020 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Emmi Khan Durrani


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
http://hamariweb.com/articles/104046
By: Farrukh Abidi, Toronto on Jul, 23 2018
Reply Reply
0 Like
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آمین، آپ کے اس تجزیہ کو صدیوں پہلے ایک امام نے کچھ اسطرح تحریر کیا، اس کا عربی ترجمہ:

حاکم اور محکوم

امام ابن القیم رحمہ اللہ (المتوفی 751ھ) نے اپنی کتاب میں ایک مضمون کی صورت میں تحریر فرمایا، یہ اقتباس میری نظر میں ایک شہکار ہے جو حاکم اور محکوم (عوام) کے متعلق ہے، اسکا اردو ترجمہ و مفہوم مندرجہ ذیل ہے، بریکٹ کے الفاظ میں نے اسکو صحیح سمجھنے کے لیے ڈالے ہیں:

محکوم (عوام، جن پر حکومت کی جاۓ) کے اعمال کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے ان اعمال سے جو ان کے حکام کرتے ہیں، اور یہ خداداد حکمت ہے (یعنی جیسا عمل محکوم (عوام) کا ہوگا ویسا ہی عمل حکام کا ہوگا) اگر وہ (محکوم اور عوام) دیانتدار رہیں، تو ان کے بادشاہ دیانتدار رہیں گے، اور اگر وہ ہٹ جائیں گے (دیانتداری سے)، تو وہ (بادشاہ) بھی ہٹ جائیں گے دیانتداری سے. اور اگر وہ (عوام) ظلم کریں گے (اپنے اپر اور دوسروں پر) تو ان کے بادشاہ اور حکام ان پر (عوام پر) ظلم کریں گے، اور اگر ایسا لگے کے کہ وہ (عوام) سازش اور دغا بازی کریں گے، تو ان کے حکام بھی (عوام کے ساتھ) ایسا طرز عمل کریں گے اور اگر عوام اللہ کے حقوق پامال کریں گے جو ان کے مابین ہیں اور کنجوس اور بخیل ہو جائیں گے (ایک دوسرے کے حقوق میں) تو پھر ان کے بادشاہ اور حکام ان کے حقوق روک لیں گے جیسے وہ (عوام) ایک دوسرے پر بخیل ہوگۓ اور ایک دوسرے کے حقوق روک لیے. اور اگر وہ (عوام) لیں گے اس سے جو کمزور گردانا جاتا ہے، وہ جو اس سے لینے کے حق دار نہیں اپنے کاروبار میں (یعنی کاروبار یا لین دین میں خورد برد کریں گے)، تو پھر ان کے بادشاہ (حکام) ان سے لیں گے وہ جو وہ (حکام) ان سے لینے کے حقدار نہیں اور لاگو کریں گے تکلیف دینے والا محصول (ٹیکس). اور ہر وہ چیز جو انہوں نے (عوام نے) کمزور سے لی تو بادشاہ (حکام) ان سے بزور طاقت لیں گے.

تو ان کے اعمال (عوام کے اعمال) ان میں ظاہر ہوتے ہیں (یعنی بادشاہ اور حکام کے اعمال میں) .اور یہ حکمت خداداد نہیں کہ برے اعمال اور گناہ گاروں پر حکومت ہو (کسی کی) مگر ان (حکام کی) جو ویسے ہی ہیں (مراد یہ ہے کیونکہ عوام میں برائ چھوٹے پیمانے پر موجود ہے اس لیے ان کے حکام بھی ویسے ہیں ورنہ اللہ کی خواہش نہیں کہ برے لوگ ہی حکام بنیں) واللہ اعلم.

اور جب سب سے پہلا گروہ (اسلام کی) بہترین نسل میں تھا، اور سب سے تقوی دار، تو اس کے حکام بھی ویسے ہی تھے. اور جب وہ آلودہ ہوگۓ (بد اخلاق، اسلام سے دور) تو ان کے حکام بھی ویسے ہی ہوگۓ. تو نتیجہ میں، الله کی حکمت نے اس بات کا انکار کیا کہ معاویه رضی الله عنه اور عمر بن عبدالعزیز رحمه الله جیسے حکام ہم پر آئیں (آٹھویں صدی ہجری میں) کجا کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی الله عنھما جیسے حکام.

بلکہ ہمارے حکام ہماری (فطرت کے) مطابق ھیں اور ہم سے پہلے حکام اسی طرح تھے جس طرح وہ لوگ (یعنی جیسے پہلے لوگوں کی فطرت)

(حوالہ: مفتاح دار السعادۃ ،دار ابن عفان پبلیشینگ، جلد 2 صفحہ 177)

اگر چہ یہ اقتباس ابن القیم رحمہ اللہ نے 8ویں صدی ہجری کے حوالہ سے تحریر فرمایا مگر یہ اقوال آج کی 14ویں صدی میں بھی ثابت آتے ہیں، اللہ ھمیں ان کو سمجھنے اور ھم عوام کو شریعت کی طرف بدلنے کی توفیق عطا فرماۓ، آمین

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ حاکم صحیح ہو گا تو عوام صحیح ہوگی، یہ غلط ہے، بلکہ صحیح تو یہ کہ جیسا کہ ابن القیم رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ جیسی عوام ہوگی تو ویسے حکام ہوں گے اور اللہ نے فرمایا، مفہوم:

"حقیقت یہ ہے کہ اللہ نہیں بدلتا حالت کسی قوم کی جب تک کہ (نہ) بدلے وہ ان (اوصاف) کو جو اس میں ہیں.."
(سورۃ الرعد:11)
By: Manhaj As salaf, Peshawar on Jul, 10 2018
Reply Reply
0 Like
بلکل درست فرمایا آپ نے۔۔
By: Rabi, Varanasi on Jun, 30 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB