جہنم کے سوداگر(آٹھویں قسط)

(Muhammad Jabran, Lahore)

"میری کیاپوزیشن ہے اور کیا نہیں ہے اس کا تمہیں ابھی پوری طرح سے انداز ہ نہیں ہے۔جانتے ہوکرنل اشر میرے ہاتھ میں اس وقت کون سی فوٹو گرافس ہیں ؟نہیں خیر تمہیں کیسے پتہ ہوگاجب تک میں تمہیں بتاؤں گانہیں۔لیکن تمہیں ایک بات ضروربتادوں کہ ان فوگرافس کو دیکھ کر ڈیوڈ کی حالت پتلی ضرور ہوگئی ہے،میں نے اس کی آنکھوں میں چھپاہوااضطراب دیکھ لیاہے۔اس چیزسے تمہیں خود ہی اندازہ ہوجاناچاہے کہ میرے ہاتھوں میں وہ چیزہے جو تمہیں بل سے نکالنے پر مجبور کردے گی۔خیر اب تمہیں میں اتناانتظار نہیں کرواتااب سسپنس ختم کردیتاہوں۔میرے پاس ان افراد کی فوٹوگرافس ہیں جنہیں تم دیکھ کر سر کے بل دوڑتے ہوئے میرے پیردھونے کے لئے آؤگے۔وہ لوگ اپنے حلیئے سے عربی لگتے ہیں اور اپنے جذبوں سے تو لگتاہے کہ وہ کسی خاص مشن پر روانا ہونے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور میں یہ بھی جانتاہوں کہ وہ آئندہ آنے والے دنوں میں کیا گُل کھلانے والے ہیں ۔۔۔۔۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ تم یہ ہرگز نہیں چاہوگے کہ تمہارا یہ پول میڈیا کھول دے اور ایک ایسا راز افشاں ہوجائے کہ جس پر امریکہ آئندہ آنے والے دنوں میں پوری دنیا کو سرکس بنانے والاہے اور تم اس کے سب سے بڑے مداری ہوگے مسٹر اشر ۔۔۔۔۔"میجر ڈریگن نے اب جاکر اپنا اصل ترپ کا پتہ پھینکاتھاجو واقعی نشانے پرلگنے والاتھا۔کیونکہ یہ فوٹو ز ان ہائی جیکرز کی تھیں جو نائن الیون کے روز امریکاکی سب سے بڑی ائیرلائنز ہائی جیک کرنے والے تھے ۔جو بدقسمتی سے کرنل اشر نے آخری دفعہ مجھے دی تھیں اور کہاتھا کہ میں ا ن سے جاکر ملوں اور ان کے ارادوں پختہ کروں اور مشن کی کامیابی کے بارے میں بریف کروں۔میں اس کے بعد اپنی کوٹھی واپس چلاگیاتھااور واپسی پر وہی ڈریس دوبارہ پہن کر کھاناکھانے ہوٹل گیاجس کے کوٹ کی اندرونی جیب میں یہ فوٹو گرافس رکھی ہوئی تھیں۔مگر اب یہ میجر ڈرگن کے ہاتھ لگ گئی تھیں ۔۔۔یہ فوٹو گرفس ٹاپ سیکرٹ تھیں جن کی بیک پر ان تمام ہائی جیکر ز کے مکمل کوائف درج تھے ۔یہ فوٹوگرافس اتنی قیمتی تھیں کہ وقت سے پہلے ان کے لیک ہونے سے ساری گیم چوپٹ ہونے کا خطرہ تھا۔ابھی میں انہی سوچوں میں گم تھاکہ دوسری طرف کرنل کی تشویش بھی آواز آئی ۔یہ اس کے لئے زندگی موت کادرجہ رکھتی تھیں ۔یہ اس کی بلیک ڈائمنڈ ایجنسی کا ماسڑپلان تھااور پہلی بار وہ اس پلان پر خود عمل درآمد کروارہاتھا۔اس سے قبل وہ بڑے بڑے پلان امریکہ کے خفیہ اداروں کو تھنک ٹینکس کی حیثیت سے بناکر دیاکرتاتھا۔اگر وہ اس میں ناکام ہوجاتاتو اس کی زندگی تمام محنت پر پانی پھر جاتا۔وہ عزت جو اس نے تنکا تنکاجوڑ کر زائنسٹ آرگنائزیشن میں بنائی تھی ان کے لیک ہونے کی وجہ سے اس کا شیراہ بکھر جاناتھا۔اب سوال یہ پید ا ہوتاتھاکہ کیا میں ایسا ہونے دیتا؟لیکن اگر ایساہوجاتاتو اس کے کیانتائج نکل سکتے تھے ؟لازمی امر تھاکہ یہ فوٹوگرافس کا اسکنڈل امریکی کانگریس میں جاتااور پھر وہاں سے ہمارا زبردست میڈیاٹرائل شروع ہوجاتا۔جو پوری بلیک ڈائمنڈ ایجنسی سمیت میرے بھی کورٹ مارشل پر جاکر ختم ہوسکتاتھا۔اس لئے مجھے کوئی بھی کام کرنے سے قبل خوب سوچ سمجھ کر قدم بڑھاناتھا۔۔۔خیر یہ بعد کی بات تھی میں اب واپس مستقبل سے حال میں آگیا۔
"اوہو۔۔۔تو وہ فوٹوگرافس تم تک پہنچ گئیں ،یقینایہ ڈیوڈ کی غلطی سے ہواہوگا۔مگر و ہ ایسی غلطی اس سے پہلے دفعہ ہوئی ہے ایسے وہ کرتاتو نہیں ہوتا۔نہ ہی وہ اتناغیر ذمہ دار ہے۔لیکن ہماری فیلڈ میں کبھی کبھی یہ بھی ہوجاتاہوتاہے۔۔اوکے اب جو ہونا تھاوہ ہوچکاہے۔میں اب تم سے ڈیل کرنے کے لئے تیارہوں ۔بولو کیاڈیمانڈ ہے اگر میں کرسکاتو پھر بتاؤں گاتمہیں ۔۔۔۔"کرنل اشر نے فوراً ہی حامی بھر لی ویسے اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔کرتابھی تو آخر کیا؟ اس کی اپنی گردن پھنسی ہوئی تھی۔مگر وہ ایساسانپ تھا جو آخری دم تک کچھ نہ کچھ چکر دینے کا سوچتاہی رہتاتھا۔اس کا اس طرح یوں اچانک سرینڈر کرنابھی ایک بہت گہر ی چال ہوسکتی تھی۔جس کا پہلے کوئی بھی اندازہ نہیں کرسکتاتھالیکن جب وہ چال وقوع پذیر ہوتی تھی تو تب جاکر لوگوں کو احساس ہوتاتھاکہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیاہے۔اگر کرنل اشر ایک شاطر سانپ تھاتو میجرڈریگن بھی اس سے کسی لحاظ سے کم نہیں تھادونوں ایک دوسرے کی ٹکر کے تھے۔دنوں بلاکے ذہن چالاک اور انتہائی شاطر تھے ذرا بھی پتہ نہیں چلنے دیتے تھے کہ ان کی کھوپڑیوں میں کیا چل رہاہے۔میجرڈریگن تو اپنے دشمن کو دھوکہ دینے کے لئے مکمل طور پر احمق بھی بن جاتاتھااور اپنے احمق پن کی آڑ میں چھپ کر وار کرتاتھاتو دوسری جانب کرنل اشرایک چالاک یہودی تھااور جب بھی بازی ہاتھ میں نہیں ہوتی تھی تو وہ ایک ہارے ہوئے جواری کارول بخوبی نبھالیتاتھا۔بظاہر وہ اپنے کمزور ہونے کا ہی تاثر دیتاتھااور پھر وقت آنے پر پوری بازی پلٹ دیتاتھا۔میں اس پور ے ڈرامے کااچھی طرح سے جائزہ لے رہاتھا۔تاکہ آنے والے وقت کو اپنے حق میں موڑ سکوں ۔۔
"آہاں ۔۔۔۔۔۔تو اب آئے ہو ناں کرنل تم لائن پر ،اب تم خود سوچوکہ میری کیا پوزیشن اور کیا حیثیت ہے۔اب اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ گدھے پر بیٹھ کر میرے پاس آؤ تو تم وہ بھی کروگے۔پتہ نہیں کیوں تم اب تک مجھے ہلکالے رہے تھے۔اب تو تم خود سر کے بل چل کر اپنے بیٹے ڈیوڈ کے پاس آؤ گے ۔۔۔اوہو میں بھول گیاڈیوڈ نہیں تم تو ان فوٹوگرافس کے لئے آؤ گے ۔تم نے اپنا بیٹاتو کب کامیرے حوالے کردیا۔بقول تمہارے میں اب اس کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا مجاز ہوں۔لو میں بھی کتنابھلکڑ ہوں ڈیوڈ تو اب تمہارے لئے ناکارہ ہوگیاناں۔کیوں ناں اسے اب استعمال کرکے ڈسٹ بن میں پھینک دیناچاہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاخیر یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ااور ڈیوڈ کی قسمت کا فیصلہ بھی بعد میں ہوجائے گا۔پہلے اصل مدعے کی طرف آتے ہیں ۔مجھے وہ مائیکر و فلم چاہیے جو آج سے چند سال قبل تم نے ایک مشن کے دوران حاصل کی تھی۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتاکہ تم نے اس فلم کی کاپی کی ہوگی یانہیں بالکل وہی تاثر تمہارا میرے بارے میں ہوگا،اگر نہیں ہے تو قائم کرلواور میں جانتاہوں کہ تمہیں تمہارا ماسٹر پلان نافظ کرنے میں زیادہ دن نہیں لگنے ۔اس لئے تم نہیں چاہو گے کہ درمیان میں کوئی بھی گڑبڑ ہوجائے ،جیساکہ اب ہوگئی ہے تو اسے جلداز جلد نپٹاناچاہوگے اور تمہاری اس مجبوری سے میں اچھی طرح واقف ہوں۔لہذا مزید وقت برباد کئے بغیر تم جلداز جلد ہماری میٹنگ کی کوئی جگہ طے کرواگر نہیں کروگے تو تمہاراویسے بھی بڑا نقصان ہوگااور تمہارا یہ قابل ترین ایجنٹ بے موت ماراجائے گا۔تم نے جو اس پر اب تک لاکھوں کروڑوں ڈالرز خرچ کئے ہیں وہ ضائع ہوجائیں گے۔اب فیصلہ کا اختیار تمہارے ہاتھ میں ہے جو چاہو کرلوچاہوتو وقت اور جگہ طے کرلو ،اگر چاہوتو یہ مہلت گنوادو۔نقصان تمہارا ہی ہوگا۔۔۔ہاں ایک بات تم پر میں واضح کردوں کہ یہ پرائیویٹ نمبر ہے اور لہروں کے ذریعے اس کے سگنلزآتے ہیں۔سو تم لاکھ سرپٹخ لو تم اسے ٹریس نہیں کرسکوگے۔مزید یہ کہ یہ لہریں جن کی مدد سے یہ فون کام کررہااس کا تمام کمانڈ اینڈ کنٹرول روس کے ہاتھ میں ہے اور امریکہ کو اس تک پہنچنے میں بڑا وقت صرف ہو گا۔ممکن ہے کئی نسلیں لگ جائیں۔۔۔۔"
اس بار لگ رہاتھاکہ میجرڈریگن کا ہاتھ کرنل اشر کے اوپر ہے اور واقعی اس نے اپنی نفسیاتی برتری ثابت کردی تھی۔اس لئے اس کالہجہ بھی خاصہ پر اعتماد تھااور اسے یہ یقین تھا کہ وہ جو کہہ رہاتھااس پر عمل کرے گااور اس کی زبان سے ادا ہونے والے ہر لفظ پر اس کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔کرنل کو اب کچھ اور ہی تدبیر سوچنی تھی تاکہ وہ اس کی نفسیاتی برتری سے باہر آسکے ۔
"ٹھیک ہے اب روس میں تو میٹنگ ہونے سے رہی اور نہ تم امریکہ میں میرے مہمان بنناپسند کرو گے تو اس کے لئے ہمیں کسی نیوٹرل مقام کا انتخاب کرناہوگا۔لیکن اگر تم میرے مہمان بنتے تو میں تمہاری خوب خاطر مدارت کرتا،اب کوئی ایسی جگہ کا انتخاب تم کرلو جہاں تم سمجھتے ہو کے ہمارے معاملات احسن طریقے سے حل ہوسکیں گے۔البتہ جہاں تک فلم کا تعلق ہے تمہاری تمام تر قیاس آرئیوں کے باوجود میں اب تمہیں وہ لوٹانے کے لئے تیار ہوں ۔اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اس کی کاپی نہیں بنائی ہوگی تو میں بھی تم سے یہی امید رکھتاہوں کہ تم میری فوٹوگرافس کی کوئی کاپی تیار نہیں کروگے۔۔۔۔امید پر دنیاقائم ہے اور آزمائش شرط ہے دنوں ایک دوسرے کو آزمالیتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کہ کون سب سے اچھی ڈیل کرسکتاہے۔۔۔۔۔"
"ٹھیک ہے تمہاری یہ بات نہایت معقول ہے ،میرا بھی یہی خیال تھاکہ کو ئی نیوٹر ل مقام ہوناچاہیے ۔اگر خدمت تم کرسکتے ہو تو میں بھی تمہاری ٹھیک ٹھاک کر سکتاہوں ۔مگر مجھے معلوم ہے کہ تم نے میری میزبانی قبول ہی نہیں کرنی تو صلاح کرنا بھی نہیں بنتا۔مقام لازماً وہ نیوٹرل ہوگا جس پر ہمارے دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اعتراض نہ ہو۔پھر اس کسوٹی پر اسرائیل بھی پور انہیں اتر سکتااگرچہ ہماری حکومت کے تعلقات اسرائیل سے ہر دور میں سرد گرم رہے ہیں اور اسرائیل کی سالگرہ کے دن بہت سے یہودی روس سے ہجرت کر کے بھی گئے اور اب بھی آتے جاتے رہتے ہیں ہمارے یہاں ان پر اب کوئی قدغن نہیں ہے۔بہت سے یہودیوں کے ہمارے ملک میں بھی اچھے خاصے کاروبار ہیں مگر میں جان بوجھ کر اسرائیل کا انتخاب نہیں کرونگاکیونکہ وہ تمہارا اپناہی گھر ہے۔سو یہ آپشن تو اب خارج ہی سمجھواس کے ساتھ ساتھ جتنے بھی عرب ممالک ہیں ان سے بھی ہمارے تعلقات خطے کی سیاست کو دیکھتے ہوئے بدلتے رہتے ہیں ۔وہاں بھی اکثر خزاں ہی رہتی ہے،ہم امریکہ کو نیچادیکھانے کے لئے لگے رہتے ہیں تو امریکہ ہمیں ،سو مڈل ایسٹ پے بھی تم انکار ہی سمجھو۔اگر ایشیاء کا کوئی ملک ہو جائے تو تمہاری اس بارے میں کیارائے ہوگی ؟"
"ایشیا میں چین ہے یاتو پاکستان اور بھارت ،پاکستان پر تو تم ہرگزبھروسہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم لوگ ان پر کرتے ہیں ۔ہم بظاہر ان کے دوست ہیں مگر یہ ہمیشہ ہمیں ڈبل کراس کرجاتے ہیں خاص طور پر ان کی سیکرٹ سروس سے تو ہم دور ہی رہتے ہیں ۔اب دیکھاجائے تو تمہارے سفارتی تعلقات بھی پاکستان سے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔سو پاکستان تو کسی بھی صورت میں بھی ہم دونوں کے لئے قابلِ اعتمادنہیں ہوسکتاہے۔۔۔۔اب بھار ت کو دیکھ لو تو بے شک ہمارے تعلقات اس سے اچھے رہے ہیں اور وہ کہنے کو ہمارا دوست ملک ہے مگر ماضی گواہ ہے کہ ان کا ہمیشہ جھکاؤ تمہاری طرف زیادہ ہوتاہے ۔سو میٹنگ بھارت میں ہوناہماری حکومت کو بالکل قبول نہیں ہوگی ۔اب پاکستان اور بھارت تو ددنوں ہی غیر موضوں ہوگئے۔میرے خیال میں اگر چین یاجاپان میں سے کسی ایک ملک کا انتخاب کر لو تو یہ زیادہ بہتررہے گا۔لیکن میرے خیال میں لوکیشن ابھی صیغہ راز میں رکھی جائے تو زیادہ مناسب ہے ہم اس سے پہلے اگر میٹنگ کا ایجنڈا طے کرلیں تو ہم دونوں کے لئے اچھا رہے گا۔۔۔"
" میٹنگ کا ایجنڈا بالکل واضح ہے اس میں زیادہ بحث کے لئے ابھی کچھ باقی نہیں رہا۔مجھے مائیکرو فلم چاہے اور تمہیں فوٹوگرافس دوسرااگر تمہیں اپنالاڈلہ ،چہیتااور واحد ڈائمنڈ ڈیوڈ چاہیے تو اس کے لیے میری ایک خاص شرط ہوگی۔"
"بولو کیا چاہتے ہو؟کون سی شرط ہے تمہاری ؟"
"مجھے وہ فلم تومل ہی جائے گی اب مجھے اس کی اتنی فکر نہیں مگر تمہارا گریٹ گیم اب میرے علم میں آچکاہے اور وہ شایداس فلم سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ کیا ہے ناں کہ میری عادت ہے کبھی کبھی میری زبان خام خواہ غلط وقت پر کھل جاتی ہے۔اس کو تالالگانے کے لئے خاص محنت کرنی پڑتی ہے۔۔۔۔تمہاری گریٹ گیم کا میں اب سن تو چکا ہوں لیکن مجھے خاموش کرانے کے لئے اس میں سے حصہ ملناچاہیے ۔حصہ اور وہ بھی جائزحصہ اس کے بعد ڈیوڈ تمہارا ہوا۔۔۔۔اس حصے کے بغیر تمہاری دال گلتی مجھے نہیں نظر آرہی۔بولو کیاکہتے ہواس بارے میں ؟"
"بہت معقول بات ہے ،میں تم سے متفق ہوں میرا بھی یہی خیال ہے کہ تمہیں بھی تگڑا حصہ ملناچاہے اور میں نہیں چاہوں گا کہ تم بار بار میرے اس کھیل میں ٹانگ اڑاؤ۔۔۔بولو کیا چاہیے تمہیں۔"
"ڈیوڈ کا سر۔۔۔۔۔"
"دیکھو اب تم بلاوجہ پٹری سے اتررہے ہو اور میری مصالحت پسند ی کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہو۔جب میں تمہارے ساتھ پورا پورا تعاون کررہاہوں تو تمہیں اس کاتھوڑا ساپاس ضرور رکھناچاہیے ۔تمہاری یہ بات انتہائی غیر مناسب ہے اس کے علاوہ تم کیا چاہتے ہو وہ بتاؤ۔مگر یاد رکھناکے بات جائز ہو ۔۔"
"گیارہ ستمبر کے بعد شروع ہونے والی گیم میں روس کے لئے حصہ ۔۔۔"
"کیساحصہ ؟ ۔۔۔"
"تمہارے ماسٹر پلان کے مکمل دستاویزات ۔۔۔۔"
"یہ ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"تو پھر میری وہی ضد ہے کہ مجھے ڈیوڈ کا سر چاہیے ۔۔۔۔۔"
"ٹھیک ہے جب ہم ملیں گے تو تمہیں ان دستاویزات کی کاپی مل جائے گی ۔لیکن میری بھی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ جب تک ہماری ملاقات ایک نیوٹرل مقام پر نہیں ہوجاتی اس وقت تک تم ڈیوڈ کو نہ صرف زندہ رکھوگے بلکہ اسے ایک خراش بھی نہیں آنی چاہیے ۔۔۔ورنہ ملاقات کینسل۔۔۔۔۔"
"مجھے منظورہے اب ذرا مقام بھی طے ہوجائے ؟"
"میرے خیال میں جاپان کا درالحکومت ٹوکیو زیادہ مناسب رہے گا۔۔۔۔"
"اور دن کون سامناسب رہے گا؟۔۔۔"
"میرے خیال میں پرسوں دن بارہ بجے۔۔۔۔"
"ڈَن۔۔۔اور وہاں پر کس جگہ ملنا ہے یہ میں تمہیں بتاؤں گا"
"ڈَن اور تم ڈیوڈ کو کب میرے حوالے کروگے ؟۔۔"
"یقینادستاویزات ملنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔"
میجر ڈریگن کا یہ کہناہی تھاکہ دوسرے طرف سے لائن کٹ گئی۔اس کے ساتھ ہی اس نے مجھے مسکراتے ہوئے دیکھااور پھر گویاہوا
"سن لیا تم نے ؟ سارے معاملات تمہارے سامنے ہی طے ہوئے ہیں۔اب یہاں سے نکلنے کا خیال اپنے دل سے نکال دو۔تم اب صرف دودن کے مہمان ہو۔مجھے پورا یقین ہے کہ جو دستاویزات کرنل اشر مجھے دکھائے گا وہ جعلی ہونگی اس لئے کہ اس کو تم سے رتی برابر بھی کوئی ہمدردی نہیں ۔وہ صرف اپنے فوٹوگرافس لیناچاہتاہے اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تمہارے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ تم میرا گروپ جوائن کرلوتمہیں کرنل اشر سے زیادہ عزت ،دولت ،بنگلا،گاڑی اور جو عیاشی تم کہوگے وہ تمہیں ملے گی۔ورنہ مرنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔اس غلط فہمی میں نہ رہناکہ تم اس وقت روس میں ہو۔یہ وہ جگہ ہے جو ابھی تک دنیا کے نقشے پر ظاہر نہیں ہوئی۔اگر تم نے تھوڑی سی بھی مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو تمہارے موت کے پروانے پر دو دن قبل ہی دستخط ہوسکتے ہیں ۔لہذاہر قسم کی چالاکی اور عیاری سے باز رہنااس تھوڑے کہے کو بہت سمجھویہی تمہاری لاسٹ وارننگ ہے۔۔۔۔گڈبائے ۔۔۔"یہ کہتے ہی وہ اٹھااورتیزی سے کمرے سے باہرنکل گیا۔اس کے کمرے سے نکلتے ہی اس کے ساتھ کھڑے ہوئے شخص نے اپنی کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک سرینج اور ایک چھوٹی سی شیشی نکالی جس میں ایک بے رنگ محلول بھراہواتھا۔اس نے وہ محلول سرینج میں بھرا اور اس سے قبل کے میں کچھ سمجھتااس نے نہایت بے دردی وہ میری گردن کی بیک سائیڈ پر جڑدیا۔سوئی کے اندر گھستے ہی میرے جسم میں عجیب سی درد کی ایک لہر دوڑ گئی ،یہ حال کچھ دیر تک رہااور پھر میں دنیا و مافیاسے ایک بار پھر بے گاناہوتاچلاگیا۔۔۔۔
*******
اب ڈیوڈ بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیاتھااس نے بھی میری طرح گھڑی دیکھی اور پھر مسکراتے ہوئے اپنی دائیں آنکھ دبادی۔گھڑی کے کانٹے تیزی سے اپنی چال چلتے ہوئے میری منزل کو مجھ سے دور کرتے جارہے تھے ۔اب جو کچھ بھی ہونا تھا وہ ان تین منٹوں میں ہونا تھاابھی میں اسی خیال میں ہی تھا کہ اس نے عقاب کی طرح اپنے بازوپھیلاکر مجھ پر حملہ کردیا کہ میں اچانک سائیڈ پرہوا اور پھر ہلکی سے جھکائی دے کر میں نے اس کی کمرپر اپنی کہنی رسید کی تو وہ اڑتاہوا پوری شدت کے ساتھ زمین پر گھرااور پھر اسی قوت سے ہو اچھل کر کھڑ ا ہوناہی چاہتاتھامیں اس کے سر پر پہنچ گیااورپھر میں نے مضبوطی سے اس کی گردن اپنے ہاتھوں میں دپوچ لی۔ وہ کچھ دیر اپنے بچاؤ کے لئے اِدھرُ ادھر ہاتھ مارتارہاپھر اس نے اپناہاتھ پشت پے لے جاکر میری گردن کو الٹے ہاتھ سے دبوچ کر پوری شدت سے مجھے اپنے اوپر سے اچھال کر زمین پر پٹخ دیا۔میں زمین پر گرتے ہی اپنی کمر کی پرواہ کئے بغیر اپنی دونوں ٹانگیں کھڑی کرکے ایک بار پھر سے اس کی گردن کو آکٹوپس کی ماندمضبوطی سے جکڑلیا۔
میں نے ٹانگوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں کو بھی اس کی گردن کے سختی سے لپیٹ لیاتھا۔وہ میرے داؤ میں بری طرح سے پھنس کر مچل رہاتھا۔اب بظاہر اس کے نکلنے کی کوئی صورت باقی نہیں تھی ، میں رفتہ رفتہ اپنی گر فت اس کی سختی کو مزید بڑھاتاجارہاتھا۔اب ایک بات تو طے تھی کہ میں اسے یہاں سے قتل کئے بغیر نہیں جاسکتاتھا۔یہاں اگر کوئی دوسری صورت تھی تو مجھے ابھی تک نظر نہیں آرہی تھی۔ابھی لڑائی کی اس پوزیشن کو کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آن کی آن میں ڈیوڈ کی رگھوں میں بلاکی پھرتی آئی اور اس نے پوری قوت کے ساتھ مجھے فضامیں اٹھالیا،اس دوران اس کے منہ سے ایک بھرپور چیخ بھی نکل رہی تھی اور پھر اتنی ہی شدت سے اس نے مجھے اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا۔فرش پر گرتے ہی میری گرفت اس پر سے ڈھیلی ہوگئی اور وہ آزاد ہوگیا۔یہ سارا عمل مشکل سے چند سیکنڈ ہی چلاہوگاکہ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔وہ دنیاکا ماناہوافائٹر تھااور ایک عام سے پاکستانی فائٹر کے سامنے اپنے آپ کو یوں ہارتاہوا نہیں دیکھ سکتاتھا۔
اس کا پور ا چہرہ لال ہوگیا،خود سے مجھے سے آزاد ہوتے ہی وہ بپھر گیا۔ دوسرے ہی لمحے اپنے آپ کو تولتے ہوئے ایک بار پھر سے اچھل کر کھڑا ہوگیا۔اب ہم دونوں ایک بار پھر سے آمنے سامنے کھڑے ہوئے تھے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک اور جست لگائی اور ہوا میں اٹھ کر ایک بھرپور فلائنگ کِک لگائی تو میں نے اس کاوار اپنے دونوں ہاتھوں سے روکااوار اس کے ساتھ ہی اتفاق سے اس کی دونوں ٹانگیں میرے ہاتھوں میں پھنس گئیں ۔میں نے چند سیکنڈ میں اس کے وزن کو ہوا میں تولا اور پھر اسے پوری شدت کے ساتھ سائیڈ دیوار میں دے مارا۔اس کا جسم اڑتاہواپوری رفتار کے ساتھ دیوار سے ٹکرایا اور پھر زمین پر گرا ہی تھا کہ میں اس کے سر پر پہنچ گیا۔میں نے اسے ایک بار پھرسے تولا اور اس کے بعد اسے دوبارہ اٹھاکرہوا میں بلند کرکے زمین پر پٹخ دیا۔اس بار وہ نیچے گرتے ہی پھر سے چیخامگر اپنے درد پر قابو پاتے ہوئے اس نے لیٹے ہی لیٹے میرے پیٹ میں اپنی دونوں ٹانگیں جوڑ کر پوری قوت سے ماریں۔ مجھے ایک شدید جھٹکالگااور میں اچھل کراڑتاہوا اس دیوار سے ٹکرایاجس سے ڈیوڈ اندر داخل ہوا تھا۔
اس سے قبل کے ہمارے درمیان مزید لڑائی ہوتی اتفاق سے مارا ہاتھ دیوار کے ابھار پر لگااور ایک دم سے گڑگڑاہٹ کی آواز آئی اور ایک بار پھر زمین درمیان سے جداہوئی اس کے بعد میرے پیچھے والی دیوار بھی پھٹی اور میں گھوم کر دوسری چلاگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے میرے پیچھے دیوار دوبارہ برابر ہوگئی ،جبکہ میں اس دوران زمین پر ہی پڑا ہواتھاکہ دوسری طرف کا منظر دیکھ کر مجھے ایک فوری فیصلہ کرناتھاکیونکہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔میرے سامنے ہی عابد ڈان اپنی ریوالور تھامے کھڑا ہواتھا، اس کی انگلی عین ٹریگرپر تھی اور اس کا رخ یقینامیری طرف ہی تھا۔
بس پھر کیا تھا؟چند لمحوں کی بات تھی اس نے مجھے دیکھااور میں نے اسے دیکھااور پھر میں شاہین کی طرح اچھلااور اس پراڑتے ہوئے چھلانگ لگادی۔ابھی میں ہوامیں ہی تھاکہ اس نے ٹریگر دبادیامیں فوراً ہوامیں لٹو کی طرح گھومااور پھر اڑتاہوا عین اس کے سائیڈ سے ہوتاہوااس کے پیچھے جاکر کھڑ ہوگیا۔فائر ہوا مگر گولی خطاہوگئی تھی ۔میں نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالا اور پھر دوسرے ہی لمحے میں نے اس کی گرد ن پوری شدت کے ساتھ موڑ دی ۔کڑک کڑک کی آواز کے ساتھ ہی عابد ڈان کی گردن ہمیشہ کے لئے مڑگئی اس کی زبان اس کے دانتوں میں آکر پھنس گئی اور پھر اس کی جسم ڈھیلا ہونا شروع ہوگیا۔پھر میں نے اسے زمین پر پھینکاتو وہ بری طرح سے پھڑک رہاتھا۔
اس کے فارغ ہوتے ہی میں نے ادھر ادھر دیکھاتو اوپر زینے جارہے تھے اور یہ حصہ بھی تہہ خانے کا ہی حصہ تھا۔ سب سے پہلے میں نے جھک کر عابد ڈان کی جیب چیک کی تو اس میں سے مجھے کوئی ریموٹ کنٹرول نہ ملا۔
میں نے اس کی پوری تلاشی لی جب مجھے اس کے کپڑوں میں سے بھی میرے مطلب کی کوئی چیز نہ ملی تو میں دوڑتاہوازینے چڑھ کر اوپر پہنچا تو مجھے سامنے ہی ڈاکڑ عباس ایک ہال نما کمرے میں نظر آئے وہ اسی طرح سے ایک کرسی پر ٹائم بم کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔گھڑی کی ٹک ٹک میرے کانوں میں بری طرح سے رس گھول رہی تھی۔میں نے چند ساعتوں میں ہی سارا منظر دیکھ لیا۔ڈاکڑ صاحب اب بھی مطمئن تھے ان کے چہرے پر ذرابرابر کوئی پریشانی کے کوئی آثار نظرنہیں آرہے تھے۔ان کے اعتماد کو دیکھ کر مجھے بھی دلی راحت کا احساس ہوا۔ان کی شخصیت بھی بہت پروقار اور رعب دار تھی ،اپنی ظاہری حالت سے وہ دوسرے کو کافی متاثر کرتے تھے ۔ہال کسی قسم کے سازو سامان سے خالی تھاالبتہ اس کے وسط میں کرسی پر ڈاکڑ عباس بیٹھے ہوئے تھے۔
میں نے ایک نظر گھڑی کی جانب دیکھا تو ڈیڑھ منٹ سے بھی کم وقت رہ گیاتھا۔ اپنے رب کو یادکرتے ہوئے میں اس کے بعد دوڑتاہواڈاکڑعباس کے پا س پہنچااور ان کے جسم پر لگے ہوئے ٹائم بم کو اچھی طرح سے دیکھنے لگا۔ ڈاکڑ صاحب نے مجھے اشارہ کیااور مجھے اپنے پاس بلالیا۔
"بیٹامیرے دائیں جانب جو دیوار پر تم پردے لگے ہوئے دیکھ رہے ہو اس کے پیچھے اس عمارت کا مکمل کمانڈ اینڈ کنڑول سسٹم ہے تم ایساکرو کہ وہاں چلے جاؤ۔۔۔ وہیں پر تمہیں ریموٹ کنڑول بھی مل جائے گاذرا اس پر دیکھو کیا تمہیں کوئی مدد ملتی ہے یا نہیں ۔"یہ کہتے ہی وہ خاموش ہوئے جبکہ اس دوران ٹائم بم والی گھڑی تیزی سے دوڑ رہی تھی اب اس میں صرف ایک منٹ باقی رہ گیاتھا۔میں دوڑ کر وہاں پہنچا اور پردے ہٹاکر دیکھے تو واقعی وہاں بہت سے بٹن لگے ہوئے تھے اور ایک اسکرین بھی موجود تھی، جس میں لیبارٹری کا پورا نقشہ بناہواتھا۔
میں نے وہاں جاکر پورے پینل کو ایک ایک کرکے دیکھناشروع کردیا۔مجھے اس پینل کو سمجھنے میں چند سیکنڈ لگ گئے۔ اس کے نظام کو سمجھتے ہوئے میں نے ایک بٹن پریس کیاتو ایک سلیٹ باہر نکل آئی اس کے اندر ریموٹ کنٹرول رکھاہواتھا۔اسے کچھ دیر تک میں دیکھتارہااور پھر مجھے احساس ہوا کہ زبردست چوٹ ہوگئی ۔کیونکہ یہ ریموٹ کنٹرول ٹائم بم کے لئے نہیں استعمال ہوناتھابلکہ اس کا استعمال تو تہہ خانے کے میکنزم سے متعلق تھا۔اسے دیکھ کر میں نے اسے واپس سلیٹ میں رکھااور دوڑ کر ڈاکڑعباس کی کرسی کے پاس آگیا۔
اس وقت مشکل سے دس سیکنڈ باقی تھے ،وقت تیزی سے اپنی پرواز کر تا ہوا مجھے اور ڈاکڑ عباس کو ہرلمحہ موت سے قریب کرتاجارہاتھا۔کیامعلوم آج ہی ہم دونوں کی زندگی کی گاڑی کی شام ہوجائے۔وہاں پر چاررنگوں والی تاریں لگی ہوئی تھیں ۔ہری ،لال،سیاہ اور سفیداب ان تاروں میں سے مجھے کسی ایک کو توڑ کر الگ کرناتھا۔سب سے پہلے میں نے ہری تار کو پکڑا تو ڈاکڑ عباس نے نفی میں اپناسر ہلایااس کے بعد میں نے سیاہ والی تار کو اپنے ہاتھوں میں لیاتو اس پر بھی ڈاکڑ صاحب نے نفی میں اپناسر ہلایا۔جب ڈاکڑعباس اور میراکچھ لمحوں کے لئے جینامرناساتھ تھاتو پھر میں ان کے مشورے قبول کیوں ناں کرتا۔وقت ہم دونوں کے ہاتھو ں سے ریت کی مانند پھسل رہاتھااور اب مجھے کچھ کرنے کے لئے دو سیکنڈ باقی تھے ۔۔۔۔گھڑی کی ٹِک ٹَک نے ہم دونوں کی کی سماعتوں کو بری طرح سے مجروح کردیاتھا۔مسٹری میں ہرپل اضافہ ہوتاجارہاتھا۔۔۔
میں نے اللہ کا نام لیااور آنکھ بند کرکے میں نے لال تار پکڑ کر ایک جھٹکے سے نکال دی ۔ان چند لمحوں میں کیاسے کیا ہوجاتا،یاتو ہمارے جسموں کے پرخچے اڑجاتے اور ہمیں اس دنیا میں مرنے کے بعد دفن ہونے کے لئے دوگز زمین بھی نصیب نہ ہوتی ۔پھر تار توڑتے ہی کیاہوا؟؟؟اس کا جواب مجھے فوری ہی مل گیامگر لگتاتھاکہ قدرت ہم دونوں پر مہربان تھی اس لئے جو ہواوہ اس کے برعکس ہوا۔میری آنکھیں اب بھی بند تھیں کے ڈاکڑ عباس کی پر وقاراور بارعب آواز نے مجھے آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا۔ہم خدا کے فضل سے نہ صرف محفوظ تھے بلکہ سانسیں لے رہے تھے۔
"مبارک ہو بیٹاہم دونوں محفوظ ہیں ۔زندگی دینے والا میرا رب ہے جو نہایت ہی مہربان ہے وہ تمام دروازے بند کرنے کے باوجود بھی ایک دروازہ کھلارکھتاہے۔بے شک اس نے تمہیں وسیلہ بناکرمیری جان بچائی ہے میں اس پر سب سے پہلے اپنے رب کا اور اس کے بعد تمہارا مشکور ہوں جوان۔جیتے رہو۔خدا تمہیں زندگی کے ہر میدان میں کامیاب کر ے۔۔۔"انہوں نے مسکراتے ہوئے کہاتو میں بھی ایک گہراسانس لے کرمسکرانے لگا۔
"جی ہاں جناب ۔۔۔آپ کو بھی مبارک ہو،یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اب پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے ۔آپ جیسے سائنسدا ن بلاشہ پاکستان کے لئے کسی تحفے سے کم نہیں۔۔۔"اس سے قبل کے ہمارے درمیان مزید کو ئی بات چیت ہوتی ایک مردانہ آواز نے ہم دونوں کی اپنی جناب متوجہ کرلیا۔
"پاکستان کا مستقبل اس وقت محفوظ ہوتاجب میں تم دونوں کے درمیان نہ ہوتا۔۔۔۔خبردار وقار کوئی حرکت نہ کرنااور خاموشی سے جہاں ہو وہیں کھڑے ہوجاؤ۔۔۔۔۔تمہیں میں نے موقعہ دے کر بہت بڑی غلطی کی تم اپنی قسمت کے دھنی ہواور اپنے باقی ساتھیوں کی نسبت بہت تیزہو۔۔۔۔۔۔مگر اب تمہارا یہ کھیل ختم ہوناوالا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور ڈاکڑ عباس کو تو مرنا ہی ہوگااب یاتو یہ رہیں گے یامیں رہوں گادوسرااور کوئی راستہ نہیں ۔۔۔"جس دروازے سے نکل کر میں ہال تک پہنچاتھااب وہاں سے اب ڈیوڈ اندر داخل ہورہاتھا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور بھی چمک رہاتھااس کی آنکھو ں کو دیکھ کر لگ رہاتھاکہ وہ جو کہہ رہاہے لازمی کرگزرے گا۔اس کو آتادیکھ کر میں ڈاکڑ عباس کے سامنے ڈھال بن کرکھڑا ہوگیا۔
"ڈیوڈ تم بھول رہے ہوکہ تمہارے اور ڈاکڑ عباس کے درمیان میں بھی موجود ہوں ان تک پہنچنے کے لئے سب سے پہلے تمہیں میری لاش کے اوپر سے گزر کر جاناہوگااور تم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہوکہ میرے جیتے جی تم ڈاکڑ عباس کو ٹچ بھی نہیں کرسکتے ۔۔۔"میں بھی اس کے دباؤ میں آئے بغیر سینہ طانے آہستہ آہستہ چلتاہوااس کے پاس آنے لگا۔اس کے ریوالورکا رخ یقینامیری طرف تھااور ہم دونوں کے درمیان زمین پر ایک خالی منرل واٹر کی بوتل پڑی ہوئی جس پر میری نظر پڑتے ہی میری آنکھوں میں تیزچمک ابھر آئی ۔مجھے اس کادھیان بٹانے کے لئے اس کے قریب سے قریب تر ہوناتھا۔
"خبردار اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایاتو۔۔۔میری گولی اندھی ہے، یہ کسی کا لحاظ نہیں کرتی کہ اس کے سامنے کون ساانسان ہے اس لئے تم جہاں کھڑے ہو وہیں کھڑے رہوورنہ تمہاری کھوپڑی میں سوراخ ہوتے دیر نہیں لگے گی۔۔۔"اس کی آنکھوں میں خون اتراہوا تھاوہ واقعی جو کہہ رہاتھاوہ یقیناکرگزرتااور پھر ایساہی ہوااس کی گرفت ریوالور کے ٹریگر پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ۔قریب تھاکہ وہ فائر کردیتااور میرے زندہ رہنے کاچانس بالکل ختم ہوجاتامگر ایک سیکنڈکے ہزارویں حصے میں میں نے منرل واٹر کی خالی بوتی پر ایک خاص انداز سے رکھ کر پیرمارا تو وہ اچھل کر فضامیں اڑی تومیں نے ایک لمحہ توقف کے بعد اپنی لات گھماکر بوتل پر رسید کی ۔تو دوسری جانب اس نے بھی ٹریگر دبادیا۔
گولی نکلی مگر اس سے قبل منرل واٹر کی بوتل اڑتی ہوئی ٹھیک اس کے ریوایور والے ہاتھ پر لگی اور فائرہوگیامگر گولی سیدھا چھت پر جا لگی اور ڈیوڈکادھیان ایک پل کے لئے ہٹاپس وہی پل اس کے لئے بھاری ثابت ہوا۔میں فضامیں اچھلااور عقاب کی طرح اڑتاہوااس کی جناب بڑھااور پھر میں فضامیں ہی لٹو کی طرح تین دفعہ گھوم کر اس کی کنپٹی پر بھرپور انداز میں لات گھومائی اور وہ کٹے ہوئے شہتیرکی طرح نیچے گر گیا۔اس کے گرتے ہی میں زمین پر آیا ہی تھا کہ ڈیوڈ نے لیٹے ہی لیٹے اپنی ٹانگ چلائی اور میری پنڈلیوں پر بھرپورانداز میں وار کیاتو میں اپناتواز ن کھو کر گرا تو وہ میرے سر پر پہنچ گیا۔اس نے اپنے بوٹ کی ٹو سے میرے پیٹ میں تین چار انتہائی خطرناک ٹھوکریں لگائیں اور پھر میں نے اپنے دانت پیستے ہوئے اس کی لات کو پکڑ کر اسے پوری شدت جھٹکادیااور اس کی ٹانگ کو موڑکر میں نے ایک بار پھر سے بھرپورجھٹکادیاتو اس کی چیخیں اندر ہی کہیں گھٹ کر رہ گئیں ۔وہ بری طرح سے کراہنے لگا۔اس دوران اس کا بیلنس بگڑا اور وہ زمین پر گرگیا۔
اسے زمین پر گرا کر میں اس کے اوپر آیااور اسے دو تین گھونسے پوری شدت سے اس کی ناک پر لگائے تو اس کی ناک پچک گئی اور اس میں سے خون رسنے لگا۔اس نے تڑ پ کر کروٹ لی اور مجھے لیتا ہواخود اوپر آگیا۔ اب میں نیچے تھااور وہ میر ے اوپر اس سے قبل کے وہ مجھ پر کوئی مزید وار کرتامیں نے اس کے سر کو مضبوطی سے تھاما اور اپنے سر کی شدید ٹکریں اس کے ماتھے پر رسید کیں اور پھر کروٹ بدل کر میں ایک بار پھر اس کے اوپر آگیا۔
حیرت انگیزطور پر اس کا سانس بری طرح سے پھولا ہواتھامگر اس کے باوجود بھی وہ لڑنے کے لئے اسی طرح سے چاق و چوبند تھا۔میرے اوپر آتے ہی اس بار اس نے میری گردن میں اپنابازوپھنساکر ایک جھٹکے سے میری گردن توڑنا چاہی کہ ایک شدید جھٹکے کے ساتھ اپنے آپ کو چھڑایا ہی تھا کہ وہ زخمی جانور کی طرح ایک بار پھر سے تڑپ کر کروٹ لیتاہوا اوپر آیااور مجھ پر اپنے گھونسوں سے نہلانے لگا۔اس سے قبل کے ہماری لڑائی مزید آگے بڑھتی ۔ایک گرجدار آواز نے ہم دونوں کو اپنی جانب متوجہ کردیا۔
"خبردار تم دونوں ایک سائیڈ پر ہوجاؤ ورنہ اس ریوالور سے نکلنے والی گولی بھی کسی ڈیوڈ کا لحاظ نہیں کرے گی۔۔۔۔"ہم ایک دوسرے سے الگ ہوکرکھڑے ہوئے تو اگلا منظر دیکھ کر میرے منہ سے بے اختیار سیٹی نکل گئی ۔ڈاکڑعباس اپنی بندشوں سے آزاد ہوچکے تھے اور اب ریوالور ان کے ہاتھ میں تھے ۔جو ں ہی ڈیوڈ مجھ سے الگ ہوا انہوں نے دو تین فائر اس کی طرف ریوالور کا رخ کرکے کردیئے۔مگر اگلالمحہ گزشتہ لمحے سے کچھ زیادہ ہی حیران کن تھا۔کیوں کہ ریوالور سے گولیاں نکلنے کے بجائے خالی ٹھک ٹھک کی آواز آرہی تھی ۔ گویا ریوالور کا چیمبر خالی تھی ۔ یہ صورت حال دیکھ کر ڈاکڑ عباس کا منہ حیر ت سے کھل گیااور دوسرے منظر میں ڈیوڈ کا ایک انتہائی بھیانک قہقہہ بلند ہوااور اس نے اپنی بند مٹھی کھولی تو اس میں سے چار گولیاں نکل کر فرش پر گر گئیں ۔۔۔۔
ڈیوڈکا ایک بار پھر سے بھرپورقہقہہ بلند ہوااور پھر چشم زدن میں منظر بدلا اور شاں کی آواز کے ساتھ ایک گولی ڈیوڈ کے ماتھے میں سوراخ کرگئی ۔اس کی آنکھیں جو قہقہہ لگانے کی وجہ سے چند لمحے کے لئے بند ہوگئیں تھیں اچانک حیرت سے کھل گئیں اور اس کا قہقہہ ادھورارہ
گیا ۔چند لمحوں میں حیرت سے اس کامنہ بھی کھل گیااور پھر وہ دھڑام سے زمین پر گرگیا۔ریوالور سے چارگولیاں ڈیوڈ نے پہلے ہی نکال لی تھیں جبکہ ایک گولی منرل واٹر کی بوتل لگتے ہی ضائع ہوگی تھی اور آخری گولی اب ڈیوڈ کی زندگی کا چراغ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گل کرگئی تھی۔یہ آخری گولی ہی تھی جوواقعی اندھی ثابت ہوئی تھی اور ٹھیک نشانے پر لگی تھی۔
ڈیوڈ کی آنکھیں اسی طرح سے کھلی ہوئی تھیں اور اس کے ماتھے سے خون ٹپک رہاتھاپھر کچھ ہی دیر میں وہ آنکھیں بھی بے نور ہوتی چلی گئیں ۔پوری دنیاکے لئے ناقالِ تسخیر سمجھاجانے والاایجنٹ ،پوری دنیامیں جس کی فائٹ کے چرچے بہت مشہور تھے آج وہ اُس شخص کے ہاتھوں اپنی زندگی کی بازی ہمیشہ کے لئے ہار گیاتھاجس کا پیشہ گولی چلانا نہیں بلکہ مختلف کیمیائی گولیوں کو ملاکر اس کی مدد سے کیمیائی عمل کے ذریعے ایٹم بم بناناتھا۔درحقیقت وہی پاکستان کے اصل محسن تھے جن کے جذبے اورجرات کی داستان کو ہر پاکستانی سن کر انہیں بے اختیار سلیوٹ
کر نے پر مجبور ہوجائے ۔وہ محسن اور کوئی نہیں بلکہ ہمارے قومی سائنسدان ڈاکڑ عباس تھے ۔
ڈائمنڈ گروپ کا ہونہار ڈائمنڈ آج ڈاکڑعباس کی ریوالور سے نکلنے والی آخری گولی کا شکار ہوکر اپنے ابدی سفر پر روانہ ہوچکاتھا۔اس کی موت پر اس کی روح بھی حیران ہوگی کہ اس کا یہ انجام کیسے ہو گیاہوگیاجبکہ وہ ہر بازی جیتنے کے باوجود بھی ہارگیاتھا۔۔۔۔
(جاری ہے )
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Jul, 2018 Total Views: 118 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Jabran


I am M Phil Scholar In Media Studies. Previously, i have created many videos which are circulating all over Social Media.
I am the Author of thre
.. View More

Read More Articles by Muhammad Jabran: 47 Articles with 24919 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB