حاصل و لاحاصل

(Maryam Arif, Karachi)

(مزدور بھائیوں کے نام)

تحریر:صبغہ احمد، لیہ
ڈوبتے چڑھتے سورج کی کیفیات کو محسوسات میں لائے بغیر مزدور پیشہ افراد اپنے کام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ان کے لیے موسموں کا تغیر و تبدل کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ دلی احساسات کو رد کیے محوِ روزگار ہیں۔ یہی ایک دھن ہے جو ان کے اعصاب کو مضبوط سے مضبوط تر بناتی چلی جاتی ہے۔ ان کے لیے زندگی بس اتنی سی ہی ہے۔ وہ دو وقت کی روٹی کو اپنا مقدر جانتے ہوئے بنا چوں چراں کیے اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ غالباً انہوں نے زندگی میں خواہشات پالنا سیکھا ہی نہیں، یا پھر وہ اس کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتے۔ تاہم چند ایک ایسے بھی ہیں جو خواہشات کو نگاہ کا مرکز بنائے چپکے چپکے ذہن کے پردے پر لاتے ہیں، پھر یک دم اس خیال کو جھٹک دیتے ہیں۔

یقیناً اپنی کم مائیگی کا احساس ان کے دلوں میں کوند جاتا ہوگا پھر وہ اس خیال کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ ان خواہشات کو حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اس لیے کہ ان گراں قدر خوابوں کا بوجھ اپنی پلکوں پر سجا کر وہ اپنی راتیں تنگ نہیں کرنا چاہتے۔ سو وہ ٹوٹتے بکھرتے خوابوں کی کرچیاں زمین بوس کر دیتے ہیں اور پھر ایک نئی صبح اپنی سفیدی بکھیرتی ہے۔ سورج اپنی کرنوں کی دھاک بٹھائے ہر سو اجالے کا باعث بن جاتا ہے اور زمین پر جیتے جاگتے انسان پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے پھر سے حاصل و لاحاصل کی ایک نئی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Sep, 2018 Total Views: 118 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 773 Articles with 182553 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB