زلزلہ کے 13سال بعد

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

آزاد کشمیر اور سرحد میں8 اکتوبر2005ء کے زلزلے کو13سال ہو گئے ۔ متاثرین کی آبادکاری اور تعمیر نوکا کام اب بھی جاری ہے۔ زلزلہ متاثرین کی فوری ریسکیو،بحالی، تعمیر نو اور آبادکاری کے مختلف مراحل طے کئے گئے۔تا ہم آج بھی سیکڑوں منصوبے مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔ آزاد کشمیر کے زلزلہ سے متعلق تعمیر نو اور بحالی کی ایجنسی سیرا کے مطابق ابھی تک تعمیر نو کا 68فی صد کام ہی مکمل ہو سکا ہے۔32 فیصد کام 13سال گزرنے کے باوجود نہ ہوسکا۔ سیرا کے مطابق اس کی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے۔ آزاد کشمیر کے متاثرہ شہروں مظفر آباد،باغ اور راوالاکوٹ میں اگر چہ ماسڑپلان کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ۔ماہرین کہتے ہیں یہ پلان قابل عمل ہی نہ تھا۔گو کہ اس کو مرتب کرنے کے لئے کثیر رقم خرچ کی گئی۔ جن علاقوں میں زمینیں لینڈ سلائیڈنگ میں بہہ گئیں۔ان میں سے بیشتر متا ثرین کو متبادل اراضی نہیں دی گئی۔اس زلزلہ میں اگر چہ حکومت نے تقریبا 80ہزار افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تا ہم ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔کیوں کہ کئی برس بعد تک مظفر آباد کے نزدیکی علاقوں میں تباہ گاڑیاں اورڈھانچے، لاشیں بر آمد ہوتی رہی ہیں۔ زلزلے میں ہزاروں کی تعداد میں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ہزاروں سکول و کالجز زمین بوس ہوئے ۔مظفرآباد یونیورسٹی کے شعبہ جیالوجی میں اس وقت پروفیسر زلزلہ پر لیکچردے رہے تھے جب مقامی وقت کے مطابق صبح 8بجکر 50منٹ پر زمین زور دار جھٹکوں سے لرز اٹھی۔ پل بھر میں ہی عمارتیں ڈھیر ہونے لگیں۔ بیرون دنیا کاکشمیر سے رابطہمنقطع ہو گیا۔ سب فون بند تھے۔ افواہیں تھیں۔ پھر پتہ چلا کہ مظفر آباد پر سیاہ دھواں اور گرد و غبار کے بادل منڈھلا رہے ہیں۔سٹیلائٹ سے بھی کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔زلزلے کا مرکز مظفر آباد سے 9کلو میٹر کی دوری پر واقع علاقہ تھا۔ ریکٹر سکیل پر زلزلہ کی شدت 7.6تھی اور اس کے جھٹکیکابل،دہلی اور اتر پردیش تک محسوس کئے گئے۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ افغانستان میں نصف درجن لوگ جاں بحق اورسینکڑوں زخمی ہوئے۔ آزاد کشمیر کے مظفر آباد، نیلم، باغ اور راولاکوٹ اضلاع جبکہ صوبہ سرحد کے بالاکوٹ ، مانسہرہ، بٹگرام ، الائی کے علاقے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ ان علاقوں میں سکولوں کی عمارتیں گرنے سے تقریباً 20ہزار طالب علم جاں بحق، ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔تباہی کا یہ عالم تھا کہ آزاد کشمیر کے اس وقت کے وزیراعظم سکندر حیات خان نے کہا کہ وہ قبرستان کے وزیراعظم ہیں۔

زلزلہ کے فوری بعد پاک افواج نے اپنے جانی و مالی نقصان کے باوجود ریسکیو آپریشنز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اورمظفرآباد راولپنڈی سمیت اہم شاہراؤ ں کو کم وقت میں کھول دیا ۔زلزلہ میں پاکستانی عوام نے انتہائی ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا۔آزاد کشمیر اور سرحد کے متاثرین کی امداد کے لئے پاکستان کے بچوں اور بزرگوں تک نے بڑھ چڑھ کر امداد کی۔امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں اور ٹرالوں کے قافلے دن رات چلتے رہے۔ دنیا بھر سے مسلم اور غیر مسلم رضاکاروں نے بھی بے مثال کام کیا ۔ یہاں تک کہ عیسائی خواتین نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر انتہائی کٹھن کام کئے ۔ زلزلہ کے دوران ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے دوران چندبے ضمیر اور لالچی لوگوں نے بھی اپنے مذموم کرتب دکھائے۔ انہوں نے زلزلہ متاثرین کے لئے آنے والی امداد کو جگہ جگہ لوٹااور امدادی کارکنوں کو ہراساں کیا۔ ریسکیو اور ریلیف کے بعد حکومتی امدادی پروگرام شروع ہوئے۔ عالمی تھینک ٹینکز اور میڈیا گروپ اعتراف کر رہے ہیں کہ ریلیف کے کاموں میں مصروف این جی اوز نے اپنے انتظامی معاملات پر متاثرین کے فنڈز کی 80فیصد رقم خرچ کر ڈالی۔این جی اوز نے امداد کا بڑا حصہ دفاتر ، ٹرانسپورٹ، مواصلات، رہائش اور اس طرح کے امور پر خرچ کیا ۔ یہ بات سچ ثابت ہو گئی کہ زلزلہ متاثرین کے لئے آنے والی امداد میں دھاندلی بھی کی گئی اور اسے فضول کاموں پر خرچ کیا گیا۔ متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے ادارے ایرا ERRAاور SERRAبھی حکمت عملی کے فقدان کا شکار رہے۔ اس بات کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ ایرا میں تقریبا ً50ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈایریکٹرز تعینات کئے گئے۔ اس ادارے میں افسران کی بھر مارتھی۔یہ عوامی نہیں بلکہ افسروں کا ادارہ بن گیا ۔پھر تعمیر نو کا دور شروع ہوا۔زلزلہ متاثرین کے 55ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو منتقل کر دیئے گئے۔ یہ آزاد کشمیر کے حقوق پر ظالمانہ ڈاکہ تھا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ فنڈز خرچ نہ کرنے کے باعث منتقل کئے۔ سیرا نے جو رقم پانچ سال میں خرچ کرنا تھی اسے دو سال میں کیسے خرچ کیا جاتا۔ وفاق کی یہ دلیل بلا جواز تھی۔ اب تک یہ رقم آزاد کشمیر کو واپس نہیں کی گئی۔

آزاد کشمیر میں سیرا اور خیبر پختونخوا میں پیرا کے زریعے ایرا نے 71.94ارب روپے 2005ء کے زلزہ متاثرین کو ادا کئے ۔ ڈونرز نے حکومت کو 877ملین ڈالرز دیئے۔ یہ تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہے۔ زلزلہ کے تیرہ سال بعد آج جائزہ لیں تونمایاں تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، چین اور دیگر ممالک کے تعاون سے تعمیرات کی گئیں۔ سکول، ہسپتال ، مساجد،پل تعمیر ہوئے۔ آج مظفر ّآباد ایک جدید شہر کے طور پر نظر آرہا ہے۔ زندگی رواں دواں ہو چکی ہے۔ بازار با رونق ہیں۔ عوامی سرگرمیاں تیز ہیں۔ عوام کے امن و سکون کو بھارت کی جنگی جارحیت نے متاثر کیا ہے۔ مگر لوگوں کے حوصلے بلند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں آج یوم استقامت کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں سیکڑوں سکول، ہسپتال ابھی تک تعمیر نہیں ہو سکے ہیں۔13سال بعد بھی نئی بالا کوٹ سٹی میں ایک بھی گھر تعمیر نہیں کیا جا سکا۔جب کہ 40فی صد صحت مراکز اور50فیصد تعلمی ادارے ابھی بھی تعمیر نہیں کئے جا سکے ہیں۔اگر ایرا کی ویب سائٹ پر اکتوبر2015سے دیئے گئے ٹینڈر نوٹسز کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کل40 میں صرف7تعمیر نو کے بارے میں ہیں ، 31ٹینڈرز ایرا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کی تزین و آرائش اور اپ گریڈنگ کے بارے میں ہیں۔اس سے ایرا کی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ عالمی برادری نے نئی بالا کوٹ سٹی اور شاہ عبداﷲ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ کے لئے 5ارب ڈالر دئے اس میں کیسی دھاندلی کی گئی۔ اور آزد کشمیر میں کیا دھاندلی ہوئی، اس کے بارے چیف جسٹس آف پاکستان اگر از خود نوٹس لیں تو حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔جب کہ چیف جسٹس نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا ہے۔ اس لئے سیرا، ایس ڈی ایم اے اور دیگر ترقیاتی اداروں کو پی این ڈی کے ساتھ مل کر تعمیر نو کی حکمت عملی اپنی چاہیئے تا کہ ایرا کے تعاون سے تعمیر نو کے منصوبے مکمل کئے جا سکیں۔ زلزلہ متاثرین کے منتقل 55ارب کی واپسی کے لئے بھی ریاستی حکومت کو وفاق سے رابطہ کرنا چاہیئے۔ مظفر آباد میں مسلم لیگ ن اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔آزاد حکومت مگر مچھ کے آنسو بہاتی رہی تو اسے کچھ نہ ملے گا۔ توقع ہے آزادکشمیر حکومت تعمیر نو کے لئے وفاق سے رجوع کرنے اور حقوق کی بحالی کے لئے مزید تاخیر نہیں کرے گی۔بلکہ تعمیر نو سمیت نیلم دریا کا رخ موڑنے سے پیدا ہونے والے مسائل بھی وفاق میں اٹھائے گی۔کے پی کے اور وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ خیبر پختونخواہ کے زلزلہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Oct, 2018 Total Views: 78 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 343 Articles with 78643 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB