استاد کا مقام اور دور حاضر کے اساتذہ

(Muhammad Rashid Rafiq, )

کہتے ہیں ماں باپ بچوں کو صرف پیدا کرتے ہیں لیکن ان کو انسان استاد بناتے ہیں۔جس نے بھی یہ بات کہی اس نے کمال بات کہی۔استاد معاشرے کا وہ فرد یا جزو ہے جس کے بغیر دنیا ادھوری ہے وہ دیا ہے جس سے آگے کئی دیوں کو جلایا جا سکتا ہے۔وہ روشنی ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔وہ سایہ دار درخت ہے جس کے سایے میں لاکھوں لوگ بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔استاد وہ آلہ ہے جو لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے کر آتا ہے۔جانور اور انسان کے درمیان فرق استاد کی وجہ سے ہی ہے۔ استاد وہ لیڈر اور رہبر ہوتا ہے جس کو لوگ اپنا آئیڈیل سمجھ کر پیروی کرتے ہیں۔ سوچیں! اگر استاد اس دنیا میں نہ ہوتے تو اس دنیا کا کیسا حال ہونا تھا۔ دنیا ویران ہونی تھی ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہونا تھا۔لوگ شعور سے عاری ہوتے۔جانوروں اور انسانوں میں فرق نہ ہوتا۔الغرض انسان کا تصور ہی نہ ہوتا۔حضرت علی ؓکا قول ہے’’جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا گویا اس نے میرے استاد کا درجہ پایا‘‘ ۔

دنیا کے مختلف ممالک نظر دوڑائیں تو استاد کی عزت حاکم وقت سے بھی زیادہ کی جاتی ہے اور کیوں نہ کی جائے وہ لوگ ہیں بھی اسی قابل کہ ان کی عزت کی جائے۔بلاشبہ استاد کا مقام ایسا ہے جیسے ریڈھ کی ہڈی۔ استاد کی عظمت نہ صرف ایک مستقل قدر ہے بلکہ کوئی بھی معاشرہ اس کے بغیر علم و ترقی کا ایک قدم بھی طے نہیں کر سکتا۔ استاد کسی قوم کا وہ معمار ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے وہی بتاتا ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔اخلاقیات ،مساوات ،امن اور بھائی چارہ کا درس دیتا ہے۔کہتے ہیں کہ دنیا میں تین طرح کے باپ ہوتے ہیں۔ ’’ایک وہ جو تجھے دنیا میں لایا ، ایک وہ جو تجھے اپنی بیٹی دیتا ہیاور تیسرا وہ جو تجھے علم سیکھاتا ہے‘‘۔ ان میں سے تیسرا باپ سب سے زیادہ عظمت رکھتاہے کیونکہ دنیا میں تجھے آج جو بھی مقام حاصل ہے وہ استاد کی وجہ سے ہی ملا ہے۔علم پڑھانا یہ سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔ارشاد ہے کہ! ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘ لیکن معاشرے کے اندر آہستہ آہستہ استاد کی عزت و عظمت میں کمی آنے لگی اور اسکی وجہ کوئی اور نہیں خود استاد ہیں۔ جب معاشرے میں استاد کی جگہ سر اور ٹیچر نے لے لی ہو تو ان کی عزت و تکریم میں کمی آنے لگی۔ ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگ استاد کی مجلس سے اٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے لیکن آج ٹیچر (استاد) کے پاس بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ کبھی البیرونی ،الرازی ،ارسطو، افلاطون، حکیم لقمان ،ابن بطوطہ، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ آپا جیسے شہرہ آفاق اساتذہ کرام کا طوطی بولا کرتا تھا لیکن کچھ کم بخت ٹیچرز حضرات نے اساتذہ کی شان میں کمی کا باعث بنے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگوں کی عزت و تکریم ہم سب پر لازم و ملزوم ہے ایک ماں باپ اور دوسرا اساتذہ کرام۔لوگ اپنی ذات سے زیادہ اپنے استاد کا احترام کرتے تھے پھر یوں ہونے لگا کہ ٹیچرز حضرات استاد کے نام کو غلط استعمال کرنے لگے۔کبھی طلباء کے ساتھ زیادتی کے کیس میں نام آنے لگا تو کبھی چوری کے کیس میں۔کبھی حبس بے جا کے کیس میں نام آنے لگا تو کبھی امتحانی مراکز میں رشوت لینے میں ،الغرض مختصر ! ہر برائی کے اندر ٹیچرز کا نام آنے لگا۔آجکل ہمارے ملک کی جامعات (یونیورسٹیز) ، کالجز اور سکولز میں کو ایجوکیشن کا بڑا ٹرینڈ چلا ہوا ہے۔سٹوڈنٹس کا آپس کا افئیر تو سمجھ آتا ہے پر ٹیچرز حضرات کا سٹوڈنٹس کیساتھ افئیر سمجھ سے بالا تر ہے۔کبھی کسی سکول میں بچوں کیساتھ زیادتی کا قصہ سننے کو ملتا ہے تو کبھی کسی پرائیویٹ اکیڈمی کی فحش ویڈیو اپ لوڈ ہوئی ملتی ہیاور کبھی کبھی کالجز اور جامعات کے اندر طلباء کو حبس بے جا میں رکھنے کا واقعہ ملتاہے۔جس میں زیادہ تر طالبات ان واقعات کا شکار ہوتی ہیں۔ذرا سوچیں! کس قدر وہ طلباء مفلس اور مجبور ہوتے ہیں جو بدنامی سے بچنے کے لئے اپنا منہ تک نہیں کھولتے۔لیکن نمبروں یا گریڈ کی آڑ میں یہ لوگ ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک بات واضح کردوں میرا مقصد قطعا کسی ٹیچر کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ہے جس کی وجہ آج اساتذہ کرام بدنام ہو چکے ہیں۔میں سبھی ٹیچرز کی بات نہیں کر رہا ان میں سے چند ایک ایسے ہیں جو استاد کے نام پر دھبہ ہیں اور معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں۔اگر امتحانی مراکز میں یہ حضرات اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے انجام دیں تو کبھی بھی استاد کی شان میں کمی نہ آئے۔کچھ حکومت کی ناقص پالیسی بھی ہے جس کی وجہ سے ٹیچرز کو شارٹ کٹ لینا پڑتا ہے۔اگر رٹا سسٹم کی جگہ نظریے کو پڑھایا جائے تو بچے بھی آگے جا کر اچھے استاد بنتے ہیں۔جہاں ان جیسے مطلب پرست ٹیچرز ہیں وہیں پر آج بھی اشفاق احمد اور بانو قدسیہ آپا جیسے شفیق اساتذہ موجود ہیں جو آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔کیا ہم لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں؟ کیا ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں؟ کیا ہمارے بچے محفوظ ہیں؟۔ دنیا کا ایک مقولہ ہے ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘ اگر آج ہم اس کرسی پہ بیٹھ کر ایسا کر رہے ہیں تو کل کو ہماری فیملی اور بچوں کے ساتھ ایسا ہونا ہے۔ ہم یہ سب کرتے کیوں نہیں سوچتے؟۔ میری ایسے ٹیچرز حضرات سے درخواست ہے کی خدارا! اس پیشہ پیغمبری کا مذاق نہ اڑائیں۔ خدارا!اساتذہ کی شان میں کمی کا باعث نہ بنیں۔خدارا! ان درس گاہوں کو بدنام نہ کروائیں۔خدارا! استاد کو وہ مقام دلوائیں جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔خدارا! ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس سے والدین اپنے بچوں کو تعلیم حاصل نہ کرنے دیں۔کیونکہ استاد ہی وہ ہستی ہے جو اپنے طلباء کو ترقی ملتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ذرا سوچیے! اگر آگے بڑھنا ہے تو الف، ب ، پ پہ یقین رکھنا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا !
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی خوشبو
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
رہبر بھی ہمدم بھی یہ غم خوار ہیں ہمارے
استاد یہ قوموں کے معمار ہیں ہمارے
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Oct, 2018 Total Views: 448 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Rashid Rafiq

Read More Articles by Muhammad Rashid Rafiq: 11 Articles with 2345 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB