غیر صحابی کے لئے '’ رضی اﷲ عنہ‘‘ کا استعمال

(Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore)

یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کے الفاظ کسی غیر صحابی کے لئے نہیں کہنے چاہئیں، کیونکہ یہ الفاظ صحابہ کرام کے ساتھ مخصوص ہیں۔

عرض ہے کہ غیر صحابی کے لئے ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کے الفاظ استعمال کرنا جائز ہیں، جیسا کہ فقہ کی مشہور کتاب’’درمختار مع شامی، جلد پنجم، ص۴۸۰ پر ہے (ترجمہ) یعنی صحابہ کے لئے’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کہنا مستحب ہے اور اس کا اُلٹ یعنی صحابہ کے لئے’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ اور تابعین وغیرہ علماء ومشائخ کے لئے راجح مذہب پر’’رضی اﷲ عنہ‘‘ بھی جائز ہے، اسی طرح علّامہ شہاب الدین خفا جی رحمۃ اﷲ علیہ نے’’نسیم الریاض شرح الشفاء قاضی عیاض‘‘جلد سوم، ص۵۰۹ پر تحریر فرمایاہے، (ترجمہ) یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ آئمہ وغیرہ علماء ومشائخ کو غفران ورضا سے یاد کیا جائے تو غفراﷲ تعالیٰ اور رضی اﷲ تعالیٰ کہا جائے۔

حضرت شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے’’اشعۃ اللمعات‘‘ جلد چہارم، ص۷۴۳ پر حضرت اویس قرنی رضی اﷲ عنہ لکھا ہے، حالانکہ وہ صحابی نہیں، علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے فتاویٰ شامی، جلد اوّل میں امام اعظم ابوحنیفہ کو چھ جگہ رضی اﷲ عنہ لکھا ہے، امام فخر الدین رازی رحمۃ اﷲ علیہ نے تفسیر کبیر، جلد ہشتم، ص۳۸۲ پر امام اعظم ابو حنیفہ کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے، حضرت ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ’’مرقاۃ شرح مشکوٰۃ‘‘ جلد اوّل، ص۳ پر امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی کو رضی اﷲ عنہ لکھاہے، مسلم شریف کے شارح امام محی الدین نووی رحمۃ اﷲ علیہ نے’’مقدمہ شرح مسلم‘‘ ص۱۱ پر امام مسلم کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے، مشکوٰۃ شریف کے مصنف شیخ ولی الدین تبریزی رحمۃ اﷲ علیہ نے مشکوٰۃ شریف کے مقدمہ ، ص۱۱ پر علامہ ابو محمد حسن بن مسعود فراء بغوی کو رضی اﷲ عنہ لکھا ہے، مولوی عاشق الٰہی میرٹھی نے بھی مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی قاسم نانوتوی کے لئے رضی اﷲ عنہ لکھا، دیکھئے(تذکرۃ الرشید، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، انار کلی، لاہور، ص۲۸) ، غیر مقلدین نے بھی ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ کو غیر صحابی کے لئے کہنا جائز لکھا، دیکھئے( ہفت روزہ الاعتصام، لاہور، شمارہ ۱۱ ستمبر ۱۹۹۸ئ، ص۶) ۔

قرآن کریم سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ رضی اﷲ عنہ کے الفاظ صحابہ کرام کے ساتھ خاص نہیں، سورہ البینہ پارہ ۳۰ میں ہے یعنی’’رضی اﷲ عنہ ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈریں‘‘ مفسرین نے اس آیت کے تحت لکھا ہے، جیسا کہ امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں کہا کہ اس کی تفسیر دوسری آیات میں ہے کہ اﷲ کے بندے علماء ہی کو خشیت الٰہی حاصل ہوتی ہے، ’’انما یخشی اﷲ من عبادہ العلموا‘‘ ثابت ہوا کہ’’رضی اﷲ عنہ‘‘ صرف باعمل علماء ومشائخ کے لئے ہے، مگر یہ الفاظ بڑے مؤقر ہیں، اس لئے بہت سے لوگ انہیں صحابہ کرام ہی کے لئے خاص سمجھتے ہیں، لہٰذا انہیں ہر ایک لئے استعمال نہ کیا جائے بلکہ انہیں بڑے بڑے علماء ومشائخ کے لئے ہی استعمال کیا جائے، جیسا کہ ہمارے بزرگوں نے کیا ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Apr, 2011 Total Views: 1095 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Saqib Raza Qadri

Read More Articles by Muhammad Saqib Raza Qadri: 147 Articles with 136284 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
حضرت کیا عیر مسلم کے لیے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہنا جائز ھے
By: Izharuddin , Jubail ksa on Apr, 24 2018
Reply Reply
0 Like
ماشاء اللہ بہت خوب ثاقب بهائی لاهور
By: fazeel ateeq, kashmir on Mar, 03 2016
Reply Reply
0 Like
مکرمی و محترمی جناب خالد رومی صاحب

آپ کی حوصلہ افزائی اور قیمتی مشوروں کا بہت بہت شکریہ

درحقیقت اس کالم کو پوسٹ کرنے کا مقصد یہی تھا کہ جو عظیم الشان ہستیاں دور صحابہ کے بعد ہوئیں جب ان کے نام کے ساتھ کوئی شخص اس کا استعمال کرتا ہے تو کچھ حضرات تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور طرح طرح کے سوالات تراشتے ہیں لہذا ان حضرات کی تشفی کے لئے اصل مسئلہ پیش کر دیا ، اسی موضوع پر مزید حوالہ جات بھی فقیر کے پاس محفوظ ہیں ان شا اللہ کبھی وہ بھی پوسٹ کر دیے جائیں گے۔

آپ کی رائے نہایت اہم ہے کہ رضی اللہ عنہ کے استعمال ہر ایرے غیرے کے ساتھ نہیں بلکہ اکابرین کے نام کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا فی الدارین

By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore on May, 19 2011
Reply Reply
0 Like

بہت خوب ، ثاقب رضا قادری صاحب ! فقیر آپ کی علمی و ادبی خدمات کا نہ صرف تہہ دل سے قائل ہے بلکہ فی زمانہ آپ ایسی علمی شخصیت کا وجود ایک غنیمت سمجھتا ہے اور یہ میں بصد اخلاص نیت کہہ رہا ہوں کیونکہ خوشامد ہمارے مسلک و مشرب میں قطعا نہیں-
کج کلاہوں سے نہیں خاک نشینوں کو غرض
اپنے گھر بیٹھے جو ہو وقت کا سلطاں کوئی


ماشاء اللہ ! آپ نے بجا فرمایا- آپ کی علمی تحقیق نہایت درست اور صحیح ہے مگر یہ فقیر اس ضمن میں صرف اتنی گزارش کرے گا کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کا علمی دلائل اور شریعی و فقہی پس منظر کے ہوتے ہوئے بھی ہم روز مرہ کے معمولات میں اس کا ویسا استعمال نہیں کر سکتے- کیونکہ بعض امور کا تعلق اپنے اپنے ادوار اور زمان و مکان کے حوالے سے ہی بھلا محسوس ہوتے ہیں-

جیسا کہ آجکل اکثریت علماء و فضلاء کے بھیس میں جہلائے مطلق کی ہے- ان پڑھ، غیر تعلیم یافتہ اور علم و ادب سے دور ، اخلاقی اقدار سے نا آشنا ، حریص جاہ و منصب، زر پرست اور دنیا کے پیچھے دیوانہ وار بھاگنے والے لوگ ایسے کلمات کے مستحق تو نہیں ہو سکتے ناں-

ہاں ! اگر کوئی علوم و فنون پر ید طولٰی رکھنے والی نابغہء روزگار شخصیت جو سراپا پیکر اخلاص و وفا ہو، دل درد مند اور طبع گداز رکھتی ہو، بندہ نوازی اور گدا پروری کے اصول جانتی ہو اور صحیح معنوں میں خدا آشنا اور عارف باللہ درویش مستغنی دل ہی اس کا صحیح مصداق ہو سکتا ہے، ہر کس و ناکس پر ایسے معتبر قسم کے کلمات کا لاگو کر دینا( اگرچہ شریعت اسکی ممانعت نہیں کرتی) کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح ان نفوس قدسیہ کی حق تلفی ہوتی ہے-

آپ کی تحقیق ہر چند درست ہے مگر یہ گفتگو کرنے کا مقصد کوئی( خدا نخواستہ) آپ پر اپنی علمیت کی دھونس جمانا یا آپ کی در پردہ مخالفت اور نفی کرنا نہیں جیسا کہ ہمارے ہاں اکثر اہل علم و قلم کی یہ معمول کی عادت ہے ، بلکہ ہم اس تحریر کو فقط اس خدشہ کے پیش نظر آپ ایسے عالی مرتبت حضرات کو ہدیہ کر رہے ہیں کہ کہیں (اللہ نہ کرے) اب یہی الفاظ شریعی استدلال کی آڑ لے کر عامتہ الناس ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیں- جو ان کی پسندیدہ ہستی ہو ، اسے وہ اپنی تعریف و توصیف کی سیڑھی پر اتنا اوپر اٹھائیں کہ اسکو آل و آصحاب امت تو کجا انبیا و مرسلین علیھم السلام تک جا پہنچائیں ( خواہ وہ انسان، انسانیت کے معیار سے کوسوں نیچے گرا ہوا ہو) اور جس کسی سے انکی مخالفت اور رنجش ہو تو اس کو وہ اتنا رسوا کر کے رکھ دیں کہ اس جیسا رو سیاہ شاید ہی کوئی دنیا میں ہو ( بھلے وہ شخص معراج انسانیت کے اعلٰی ترین منصب پہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے ہی کیوں نہ فائز ہو)- تاریخ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ ماضی کے اہل قلم نے اس قسم کی علمی خیانتیں اپنے اپنے دور میں بے حساب کی ہیں-

پس اسی خدشے کے پیش نظر فقیر کا یہ کہنا ہے کہ ایسی علمی تحقیقات ، جن سے( عامتہ الناس بجائے استفادہ کے ، دوسرے رخ پر چل نکلیں) معاشرے میں ایک الٹی گنگا بہہ نکلے ، سے کسی قدر پرہیز ہی لازم ہے-

اللہ تعالٰی ہم سب کو ذہن رسا اور فہم و فراست یعنی سمجھ بوجھ کی دولت عطا فرمائے- میرے مکرم عالی جناب کو ان کے جملہ متعلقین سمیت اپنے حفظ و امان میں رکھے-
آمین
والسلام

By: Khalid Roomi, Rawalpindi on May, 18 2011
Reply Reply
0 Like

محترم عبدالمصطفی بھائی
یہاں دو چیزیں قابل ذکر ہیں۔ اول "درود" دوم "سلام"۔ جہاں تک درود بھیجنے کا تعلق ہے، تو درود ابراہیمی سے اس بات کا جواز ثابت ہے کہ اس میں نہ صرف حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام بلکہ ان دونوں انبیاء کرام کی آل پر بھی درود بھیجا جاتا ہے۔
اسی طرح سلام کے معاملے میں بھی (جیسا کہ ثاقب بھائی نے بیان کر دیا) تشہد میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ ہم خود پر اور تمام صالحین پر سلام بھیجتے ہیں۔ اسی طرح نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے نام کے ساتھ "صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم" لکھا اور بولا جاتا ہے، اور کوئی بھی اس میں اختلاف نہیں رکھتا۔ دیکھئے اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کی آل و اصحاب کے لیے درود اور سلام دونوں الفاظ ہیں۔ لیکن بہرحال "علیہ السلام" غیر انبیاء کے ناموں کے ساتھ مستقلاً لکھنا مناسب نہیں۔ اس سلسلے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے مدارج النبوت میں نفیس کلام کیا ہے، جسے یہاں نقل کر رہا ہوں۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "جمہور علماء کا جو مسلک مختار ہے اور جس پر کثیر فقہا و متکلمین متفق ہیں، یہ ہے کہ غیر نبی پر تنہا مستقلاً صلوٰۃ بھیجنا جائز نہیں، بلکہ یہ ایسی چیز ہے جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور ان کی تعظیم و توقیر میں اسے شعار و علامت مقرر کیا گیا ہے۔ لہٰذا یوں نہ کہا جائے مثلاً ابوبکر ﷺ، اگرچہ یہ معنی کے اعتبار سے صحیح ہے، جس طرح کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ تنزیہہ و تقدیس مخصوص ہے تو یوں نہ کہا جائے کہ محمد عزوجل، اگرچہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم معنی میں عزیز و جلیل ہیں۔ اسی طرح نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ صلوٰۃ و سلام کی تخصیص واجب ہے۔ اور وہ جو قرآن و حدیث میں لفظ صلوٰۃ واقع ہوا ہے، وہ دعا کے معنی پر محمول ہے نہ کہ بروجہ شعار و علامت۔۔۔۔۔۔۔۔علماء کرام فرماتے ہیں کہ صدر اول میں یہ روش رائج و معروف نہ تھی، بلکہ اسے کچھ اہل بدعت نے بعد میں ایجاد کیا اور انہوں نے اپنے بعض اماموں کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک و مساوی قرار دیا، لہٰذا ان کے طریقہ سے اجتناب و احتراز واجب ہے۔ اور آل و ازواج اور ذریت کا ذکر بروجہ تبعیت و اضافت ہے، نہ برطریق استبداء و اصالت۔ بطور تبعیت و اضافت ذکر کرنے میں کوئی اختلاف و کلام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ ابو محمد جوینی جو کہ امام الحرمین کے والد ہیں، فرماتے ہیں کہ سلام، صلوات کے معنی میں ہے لہٰذا غائب میں اسے استعمال نہیں کیا جائے گا اور تنہا غیر نبی میں مستعمل نہ ہو گا۔ لیکن حاضر کے صیغہ کے ساتھ سلام سے خطاب کیا جا سکتا ہے اور اس طرح کہا جائے کہ سلام علیکم، وعلیکم السلام۔ اور فرمایا کہ یہ مسئلہ اجتماعی ہے اور یہ طریقہ احتیاط اور آداب نبوت کی رعایت میں اسلم و اقرب ہے۔ مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں کہ غیر نبی پر صلوٰۃ و سلام کے اطلاق سے منع کرنے والے علما کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا یہ حرام ہے یا مکروہ تنزیہی یا خلاف اولیٰ کے باب سے ہے ، گویا حکم میں تین قول ہیں جسے امام نووی علیہ الرحمہ نے کتاب اذکار میں نقل کیا ہے اور کہا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ مکروہ بکراہت تنزیہی ہے، اس لیے کہ یہ اہل بدعت کا شعار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور متاخرین میں بعض دیگر اصطلاحات پیدا ہو گئی ہیں۔ ممالک عرب میں رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رحمۃ اللہ علیہ تمام مشائخ کے لیے کہا جاتا ہے ۔ اور صاحب ہدایہ اپنے لیے خود فرماتے ہیں کہ قال رضی اللہ عنہ، اور صوفیہ کے طریقے میں قدس سرہ العزیز یا قدس سرہ، ان اختلافات الفاظ کے ساتھ لکھا جاتا ہے جو اس باب میں ہے"۔

دائرہ ادب میں رہتے ہوئے ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ کسی معاملے میں اختلاف کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے موقف کی وضاحت دلائل و شواہد سے کی جائے۔ جب آپ کسی سے اتفاق کرنا چاہیں تو "جی ہاں" کہہ دینا کافی ہے، کیونکہ اس طرح آپ سامنے والے کے دلائل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیتے ہیں اور مزید دلائل کی حاجت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن جب کسی سے اختلاف کیا جائے تو محض "جی نہیں" کہہ دینا ہرگز کافی نہیں، بلکہ آپ کو مخالف کے دلائل کے جواب میں دلائل پیش کرنا چاہئیں جو آپ کے موقف کو ثابت کرنے میں معاون ہوں۔ اللہ تعالیٰ عزوجل ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

By: Ahmad, Lahore on May, 17 2011
Reply Reply
0 Like
G Nahi, Alaihis Salaam sirf or sirf Ambiya e Kiraam or Malaa'ika ke naam ke saath likhna jaa'iz hai
By: AbdulMustafa, Sindh on May, 15 2011
Reply Reply
0 Like

میرے ہم نام محترم ثاقب صاحب

برا مت مانئے گا مگر حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ جب انسان کو کسی چیز کا علم نہ ہو تو اس میں کلام نہیں کرنا چاہئے میں نے آپ کے سامنے دلائل دیے ہیں اور رضی اللہ عنہ کہنے کی جملہ توجیہات بھی نقل کر دیں

مزید ایک دلیل قرآنی آیت سے بھی ملاحظہ کریں اگرچہ میرے کالم میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے

رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠۝

اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے

اب بتائیے کہ رب تعالیٰ تو رضی اللہ عنہ کے حکم کو عام فرما رہا ہے اور بغیر کسی دلیل سے محض اپنے ظن سے اس کے حکم کو مقید بتا رہے ہیں جو کہ بالکل درست نہیں

رہا معاملہ کہ غیر صحابی کے لئے اس کے معنی کیا ہوں گے تو وہ میں اپنے کالم میں تحریر کر چکا ہوں کہ غیر صحابی کے لئے اس کے معنی دعائیہ ہوں گے کہ اللہ ان سے راضی ہو لیکن جب صحابہ کرام کے لئے بولا جائے گا تو اس کے معنی خبر کے ہوں گے یعنی اللہ ان سے راضی ہوا۔

امید ہے مسئلہ سمجھ آ گیا ہو گا ، اللہ عزوجل حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین

By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Karachi on Apr, 21 2011
Reply Reply
0 Like
MOHTARAM DOST " RADI ALLAH HO ANHU " AIK CERTIFICATE HAI JANNATI HONAY KA JO SIRF SAHABA KO ALLAH TALA KI TARAF SEY MILA......ISKAY ILAWA REHMATULLAH ALAIEY .TAU AIK DUA JO HAM KISI NAIK MUSLIM SHAKHSIAT K LIAY KARTAY HAIN ......................AUR JO KOI " KISI AISAY SHAKHS K SATH " RADI ALLAH HO ANHU ISTEMAAL KARAY JISS K BARAY QURAAN KI KOI AYAT NAZIL NA HUEE HO TAU WO BHI GHALATI PAR HAI.......................SAHABA IKRAM RIZWAN ULLAH HI AJMAEEN,,, AGAR KISI MUAMLAY MAIN GHALATI PAR HOTAY AUR UNKO PATA CHALTA TAU WO FORAN RUJU FARMA LIA KARTAY THAY ..................................................
By: saqib, karachi on Apr, 20 2011
Reply Reply
0 Like
is mein ikhtilaf hai aur jamhoor k nazdeek mana hai jb k baaz log Ahl e Baiat k liye is ka istemal krtay hein.

to Ulama ne yehi tatbeeq paish ke hai k Anbia e Kiram Alaihum us salam ke mutabat yani iqtida mein keh saktay hein jaisay namaz mein Tashhud ke halat mein hm pehlay Nabi e Akram Sallalah o alaihi wa alihi wassalam per Salam paish krtay hein us k baad apnay per aur phir tamam Saliheen k liye.

bahr haal ihtiat he behtar hai.
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Karachi on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
Kiya Sahaba keliyeh "Alaihi-Salam" use hosekta hay??
By: Qaumi Khabrien Online, Pakistan on Apr, 12 2011
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB