پیر سید محبوب علی شاہ

(پیرآف اوگالی شریف, Khushab)

حضرت قدوة الاولیاء ، زبدة الاصفیاء ، امام الاتقیاء ، سلطان الاسفیاء ، نقیب الاشراف ، عارف باﷲ
پیر سید محبوب علی شاہ (محبوب آبادی) کاظمی ، مشہدی ، حنفی ، چشتی ، نظامی المعروف شاہ جہاں قدس سرہ العزیز

ابوالحامدپیرمحمدامیرسلطان قادری چشتی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ونشریات پاکستان مشائخ کونسل
سجادہ نشین دربار عالیہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادی سون خوشاب

فیضان حدیث حق سے صورت نقش قدم کو حسن لازوال بخشنے کیلئے جو وجود پیکر سعادت ،مجسم علم ،ناطق حق اور حسن خط تقویٰ قرار پائے وہی وارث انبیاء معلمین کتاب و سنت ہیں ۔ جن کے علم و تقوی کی دلربا بہاریں ان کی پردہ پوشیوں کے بعد بھی عالم میں اپنے فیضان کو نسیم عرفان بنا کر بکھیر رہی ہیں ۔ کائنات انسانی کے ہدایت یافتہ طبقات ایسے نفوس مسعودہ کو ولی ، غوث ، قطب و ابدال ، مرشد و ہادی ، راہنما ، پیر ، درویش حق اور مرد حق آگاہ کے پر اثر القابات سے یاد رکھتے ہیں ۔ یہ کارآمد شخصیات اپنے وجود میں ذکر و تعلق حق سے ایسی تاثیر پیدا کرلیتی ہیں جو حیات جاوداں کی ضمانت قرار پاتی ہے ۔ دنیائے آزمائش کا جب کوئی بھی فرد ان کے آستان الفت کی طرف رجوع کرتا ہے تو اسے خانقاہی نظام سے تین چیزیں تحفتاً ملا کرتی ہیں۔
1 - تاکید ذکر الٰہی 2 - ترغیب توبہ 3 - فکرو عمل رد فرقہ

یہ تینوں حکمت و ہدایت افروز اسرار رشد و قرب حق سے جہان عمل خیر میں موسم گل مراد بپا کردیتی ہیں ۔ جس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ایسی طاقت پیدا ہوتی ہے جیسا کہ قطرہ کو دریا سے رشتہ حاصل ہونے کے بعد نصیب ہوا کرتا ہے ۔ اسی طاقت کو ہدایت اور معرفت کے نام کے طور پر بخوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔ در حقیقت خانقاہی نظام اسی طاقت کے فروغ اور ترویج کیلئے قائم ہے ۔ سیدنا امام حسن نے اسی فکر کی بنیاد ڈالی اور طبقات صحابہ میں ایسے نفوس قدسیہ موجود تھے جو صفائے باطنی کیلئے اپنی زندگیاں شروع سے ہی وقف فرما تھے ۔ ایسے افراد انوار میں جناب ابوذر غفاری ، سعید ابن جبیر ، ابی ابن کعب جیسے افراد قابل ذکر ہیں ۔ یہ جاننا اور سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیائے فکر و عمل و ریاضت و جہد و چلہ میں قادریت ، چشتیت ، سہروردیت اور نقشبندیت کے جداگانہ نام معروف ہیں مگر ان کی تاثیر ،جوہر ، منزل مراد اوران سے تعلق کی افادیت یکسر ایک جیسی ہے ۔ گویا ایک ہی عمل ومنزل کے مطلق فہم و ادراک اور تعلق کیلئے متعدد نام سہولت و اصالت کیلئے مقرر کئے گئے ہیں۔جبکہ مقصود میں اختلاف اور فرق ہرگز نہیں ۔ جس ماحول میں ایسی شائستگی ، الفت ، اپنائیت اور سراسر ہدایت موجود ہو وہی اہل اسلام میں راہ طریقت کے طور پر جانا جاتا ہے اور خانقاہی ماحول کا تعارفی اور ادراکی نقشہ و خاکہ یہی ہے ۔ دنیا بھر میں ایسی لا تعداد خانقاہیں مصروف تعلیم و تبلیغ و تربیت ہیں کہ جن سے حقیقی غیر متفرق فکرو طرز فروغ دین حق ترقی پارہا ہے ۔ان میں خانقاہ محبوب آباد شریف حویلیاں ضلع ایبٹ آباد مانند ابر بہار شریعت ہے ۔ جس میں گزرنے والا ایک ایک لمحہ گلدستہ عنایت باغ رضوان ہے ۔علم و تقوی ، حکمت و تبلیغ ، ادب و عشق حق ، تربیت وابستگاں ارشاد و اصلاح اور ترجمانی حق یہاں کا لازوال شیوہ و وطیرہ ہے ۔ خانقاہ معلی محبوبیہ محمودیہ میں علم و فضل و تقوی کی ایسی یکتائے روزگار شخصیات جلوہ آراء ہیں جو آشنائے منزل عشق اور راہنمائے سالکان طریقت و مانند ماہ شب چہار دہم ہیں ۔ ان زمانہ ساز حق آگاہ انقلابی شخصیات میں حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی ، حنفی ، کاظمی قدس سرہ العزیز ایک چمکتا ہوا آفتاب شریعت و ماہتاب طریقت ہیں ۔ آپ کے علم و معرفت فیوض و تصرف سے ایک عالم فیضیاب ہوا ۔ آپ کی صدائے دل نواز طالبوں کے دلوں کو شگفتگی اور عارفوں کی روح کو تازگی بخشنے والی ہے جن کا خاندان شریعت و طریقت میں امام و سلطان مقتداء و مرشد تسلیم کیا گیا ۔ جن کے اسلاف عالی تبار کے اسماء فیض بخش کا ذکر اگر شجرہ جات طریقت میں آجائے تو سلسلة الذھب قرار پائے ۔

نور شریعت اور ضیاء طریقت کا ایسا ہی ایک پاکیزہ جہان حضور والا صفات پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی کے وجود کمال میں بسا ہوا تھا ۔ آپ کی ولادت با سعادت ١١٧٠ھ میں موضع نڑوکہ اور بروایت ثانی موضع سربھنہ ضلع ایبٹ آباد میں ہوئی ۔ آپ کے والد گرامی حافظ پیر سید فقیر شاہ ولی محدث بائیں گوجری قدس سرہ العزیز علم و فقر میں فرید العصر تھے آپ کی خانقاہ قدس سے مخلوق خدا نے علم حدیث اور علم تفسیر میں خوب استفادہ کیا ۔ آپ اپنے زمانے کے علم حدیث کے جید ،ماہر اور قدآور نفوس علمیہ سے ہوئے ہیں ۔ آپ کا مزار موضع بائیں گوجری براستہ شملہ پہاڑی مرجع انام ہے ۔

شجرہ نسب : حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی کا شجرہ نسب معتبر کتب اور ذرائع انساب سے جو محقق تک پہنچا اور جامع الخیرات ، تاریخ فرشتہ ، بستان ولایت و روح المعارف و عظمت رفتہ اور تذکرہ علماء مشائخ سرحد سے مقتبس وماخوذہے ۔ سید محبوب علی شاہ کاظمی بن سید فقیر شاہ ولی محدث بن سید نواب شاہ بن سید عمر شاہ بن سید محبوب شاہ بن سید کبیر شاہ بن سید معمور شاہ بن سید عالم شاہ بن سید شاہ یار محمد بن سید فقیر محمد بن سید رحمت اﷲ بن سید محمود بن سید زین العابدین بن سید نصیر الدین بن سید علی شیر بن سید وجیہہ الدین بن سید ولی الدین بن سید محمد الغازی بن سید سلطان رضا الدین بن سید صدر الدین بن سید محمد احمد سابق بن سید حسین المشہدی بن سید سلطان علی بن عبداﷲ بن سید عبدالرحمن عرف بلبل شاہ بن سید اسحاق ثانی بن سید موسی زاہد بن سید عباس بن سید مصطفی بن سید محمد عالم بن سید عبداﷲ قاسم بن سید محمد اول بن سید اسحاق الموفق بن سید امام موسی کاظم بن سید امام جعفر صادق بن سید امام محمد الباقر بن سید امام علی زین العابدین بن سید امام حسین شہید کربلا بن سیدہ طیبہ فاطمة الزہرا بنت سید الانبیاء حضرت محمدمصطفی ۖ۔ حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی نجیب الطرفین حسنی حسینی سید تھے ۔ آپ کا سلسلہ نسب سادات مشہدیہ کاظمیہ سے جاملتا ہے ۔ آپ مذہبا حنفی ، مشربا چشتی نظامی تھے۔ حضرت سید شاہ عبداللطیف المعروف امام بری اور حضرت سید شاہ چن چراغ راولپنڈی سے آپ کا شجرہ نسب جا ملتا ہے ۔ حضرت خواجہ خواجگان قطب زمان سید وجیہ الدین مشہدی حنفی خسر حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری آپ کے اجداد میں سے ہیں ۔ آپ حضرت امام موسی کاظم کی اولادمیں کاظمی سادات سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ٣٨ واسطوں سے جدالسادات سید العالمین خاتم النبیین ۖ سے جاملتا ہے ۔

حضرت پیر سید محبوب علی شاہ نے علوم دینیہ کی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت حافظ سید فقیر شاہ ولی محدث بائیں گوجری قدس سرہ العزیز سے حاصل کی اور مزید علوم میں دسترس و مہارت کیلئے افغانستان ، بلخ، بخارا ، ثمرقند ، خراسان اورماوراء النہر کے جید علماء ، فقہاء اور صوفیاء سے استفادہ فرمایا ۔ علوم و فنون میں پختگی و دسترس پیدا ہوجانے کے بعد آپ اپنے آبائی علاقے کی طرف لوٹے اور تشنگان علم کو فیضیاب فرمانے لگے ۔ آپ نے بغداد عراق میں کئی سال تک حدیث و تفسیر کا درس دیا ۔ آپ لوگوں میں شاہ جہاں ،سوہنے سید اور باجی صاحب کے القابات سے مشہور و معروف تھے ۔ آپ طبعا غایت درجہ کے سخی و غریب پرور تھے ۔ عموما گھوڑے کی سواری فرماتے اور تبلیغ کیلئے اسی کو بروئے کار لاتے ۔ سفید رنگ کی گھوڑیاں آپ عموما اپنی ذاتی سواری کے طور پر رکھتے ۔ آپ لوگوں میں نہایت سادگی وفصاحت سے خطاب فرماتے ۔ معتبر راویان کی روایت سے یہ حقیقت حصہ تاریخ ہے کہ آپ کے خطاب کی برکت اور آواز کی شیرنی سے غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہو جایا کرتے ۔ آپ کا عمامہ مبارک بہت بڑا ہوا کرتا ۔ کسی موقع پر کسی کے استفسار پر آپ نے فرمایا یہ میرا عمامہ بھی ہے اور کفن بھی ۔ آپ کی صحبت و ہم نشینی سے اہل محفل کو روحانی و دینی فیض نصیب ہوتا ۔ آپ کے معاصرین آپ کے تبحر علمی اور تموج فضل کے قائل و معترف تھے ۔ آپ یقینا بیک وقت امیر شریعت ، راہنمائے راہ سلوک ، مقتدائے منازل معرفت ،شیخ کامل طریقت اور امام العصر تھے ۔ رب تعالی کے ایسے انعام یافتگان کا باطنی لمعان اپنی پرحکمت ضیاء پاشیوں کے باعث چشم طالبان سے محجوب نہیں رہ پاتا کہ مستنیرین حق ، تلذذ کاسات وصال کیلئے ان معنوی انہار کوثر کی طرف کھچے چلے آتے ہیں ۔

بیعت و خلافت : آپ حضرت خواجہ خواجگان سلطان الاولیاء شاہ سلیمان تونسوی کے خلیفہ خواجہ اﷲ بخش تونسوی سے جو ایک جلیل القدر ولی اﷲ تھے سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئے بعد میں اجازت سلسلہ و خلافت طریقت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ کو اپنے شیخ و مرشد سے از حد لگاؤتھا۔ عرصہ تک سفر و حضر میں ان کے ساتھ رہے اور ان کی مجالس سے فیضیاب ہوئے ۔

حضرت پیشوائے صالحاں پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی کی ذات سراسر کرامت و برکت کے حوالے سے بہت سے مصنفین و مؤرخین نے قلم اٹھایا ۔ جن میں علامہ محقق سید امیر شاہ گیلانی یکہ توت پشاور تذکرہ علماء و مشائخ سرحد میں لکھتے ہیں کہ آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں شہباز طریقت ، خواجہ اﷲ بخش تونسوی کے خلیفہ اعظم تھے -

علامہ محقق فرزند علی قادری اپنی کتاب بستان ولایت میں لکھتے ہیں کہ آپ اپنے معمولات میں محبت رسول کو ہر چیز پر غالب رکھتے اور آنحضرت ۖ کا ادب و عشق اور آپ کی اہلبیت اطہار سے عقیدت ہی آپ کا دائمی درس ہوا کرتا ۔ علامہ فرزند علی نقل کرتے ہیں کہ حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی کے خلیفہ حضرت بابا جی میخ بند جن کا وصال 160برس کی عمر میں سوات میں ہوا ۔ وہ فرماتے تھے کہ میں کئی سال تک آپ کے ساتھ بغداد شریف میں مقیم رہا اور آپ کی گفتار ،کردار ، وضع قطع و لباس سے نقشہ نبوی ۖکا تصور قائم ہو جاتا اور جب آپ درس حدیث دے رہے ہوتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ گویا سننے والے بارگاہ رسالت میں بیٹھنے کا تصور کرکے الفاظ کے توسل سے صاحب حدیث کے حضور پہنچ چکے ہیں ۔ علمی دسترس کا یہ عالم تھا کہ جب کوئی سائل کسی بھی سوال کو آپ کے روبرو پیش کرتا آپ نہایت متانت ،محبت اور سادگی سے اسے اسطرح برجستہ جواب دیتے کہ گویا آپ اسی ہی کی تیاری میں بیٹھے تھے اور اسی مضمون پر کتاب و سنت سے آپ نے دلائل کثیرہ گویا کہ پہلے سے اکٹھے فرما رکھے تھے ۔ دور جدید کے مصنف آل احمد رضوی مرحوم عظمت رفتہ میں لکھتے ہیں کہ آپ سالکان طریقت کیلئے ایک رہبر منزل شناس اسرار حقیقت جاننے والوں کیلئے مرشد حقیقت شناس تھے ۔ در کفے جام شریعت در کفے سندان عشق
ہر ہوسناکے نداند جام و سنداں باختن

کرامات: آپ کی لاتعداد کرامات ہیں جو کہ محض تقویت عقائد صحیحہ و اظہار دین و ایمان کی خاطر درج کی جاتی ہیں ۔ مولانا کریم بخش ملک ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر ساہیوال اپنے چند ہمراہیوںکے ساتھ خانقاہ محبوب آباد شریف ١٣فروری ١٩٨٤ء کو سلام کیلئے وارد ہوئے باقرار صالح بیان کیا کہ خطیب جامع مسجد شاہانی ساہیوال ضلع سرگودھا سید منظور حسین شاہ صاحب کا دھاری دار رومال دوران سفر کندھے سے گر گیا ۔ خانقاہ شریف کے اندر فاتحہ خوانی کرتے ذہن میں خیال گزرا کہ اولیاء خانقاہ محبوب آباد کی سلامی کے سفر میں رومال ہی گم ہوگیا معا سب کے سامنے روضہ کی چھت سے وہی رومال گرا اور گم ہونے سے پہلے جس طرح کندھے پر تھا اسی طرح ڈالا گیا اس پر مجھے انتہائی ندامت ہوئی کہ دنیاوی چیز کا خیال کیوں آیا مگر اس پر میرا عقیدہ مزید مضبوط اور درست ہوگیا ۔ حضرت خواجہ محبوب آبادی کے مرقد شریف کے سرہانے جگہ کھلی رکھی گئی ہے جس میں حفظ قرآن کرنے والے طلبہ حیران کن مختصر عرصہ میں قرآن کریم پڑھ کر حفظ کر لیتے ہیں ۔

آپ کے خلفاء و تلامذہ نے نہ صرف ہندوستان میں پیغام حق سنایا بلکہ ایران ، عراق ، افغانستان ، مشرق وسطی اور کشمیر میں بھی دین کی ترویج و اشاعت کیلئے زبر دست کوششیں کیں ۔ حضرت محبوب علی شاہ حکیم حاذق تھے مگر جب کبھی طبیعت میں ضعف و بیماری کا احساس فرماتے تو آپ اپنے شاگردوں اور مریدین کو حکم فرماتے کہ میرے گرد کھڑے ہوکر ذکر الہی کرو۔ چنانچہ اس وظیفہ پاک سے حضور اعلی فرحت ، طمانیت اور شفا حاصل کرتے ۔ یہی اولیاء کاملین کی نشانی ہے کہ ذکر الہی ان کے قلوب میں راحت پیدا کرتے ہوئے جان کی تسکین بنتا ہے ۔ جس کی بدولت حضور قدس سے ان پر غیث رضوان نازل ہوا کرتی ہے
اﷲ اﷲ کن کہ اﷲ می شوی
ایں سخن حق است باﷲ می شوی

شادی اور اولاد : حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی ، حنفی ، کاظمی نے دوشادیاں کیں ۔ پہلی شادی سے آپ کے ہاں دو صاحبزادے متولد ہوئے ۔ بعد ازاں درویش ربانی مرد حق آگاہ سلطان العصر حضرت سید ابراہیم بلخی قندوزی کی خواب میں بشارت و ہدایت پر عقد ثانی فرمایا ۔ جن سے چار صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں بفضل خاص عطا ہوئے ۔ حضور قبلہ مائی صاحبہ حد درجہ کی پرہیزگار ، شب بیدار، تہجد گزار اور قاریہ قرآن تھیں آپ نہایت مستجابة الدعوات تھیں تبلیغ دین میں حضور قبلہ کی آپ نے درون خانہ رہ کر خواتین کے معاملات میں بہترین مدد فرمائی اور لا تعداد خواتین آپ کے طرز زندگی سے حلقہ بگوش ذکر و ادب حق ہوئیں ۔ آپ کے جن چھ صاحبزادوں کا ذکر کیا گیا ان کے اسماء گرامی ذیل ہیں ۔
١۔ حضرت علامہ پیر سید علی اکبر شاہ حنفی کاظمی چشتی
٢۔ حضرت علامہ پیر سید احمد شاہ حنفی کاظمی چشتی
٣۔ حضرت ابو نعیم پیر سید عبدالقاضی محدث ہزاروی چشتی قادری سہروردی٤۔ حضرت علامہ پیر سید محرم شاہ حنفی کاظمی نقشبندی
٥۔ حضرت علامہ پیر سید غازی شاہ چشتی کاظمی حنفی
٦۔ حضرت پیر سید محمود شاہ محدث ہزاروی حنفی چشتی قادری سہروردی نقشبندی اشرفی جماعتی رفاعی شاذلی

آپ کے صاحبزادگان آپ کا بہترین نمونہ تھے ۔ حضور خواجہ قطب دوراں سید محمود شاہ محدث ہزاروی کی علمی ، روحانی ، دینی عالمی ، تحریکی فتوحات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے والد حضور کس قدر علمی ،روحانی مرتبہ و مقام رکھتے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ جب کسی چیز کی اصل پاک عمدہ ہو اس کی فرع ، جزو اور اولاد بھی پاکیزہ عمدہ اور بہترین ہوگی ۔ آپ کے آستانہ عالیہ کے موجودہ سجادہ نشین حضرت پیر سید محبوب علی چشتی نظامی حنفی کاظمی کے پوتے داعی حق و ہدایت مفکر اسلام ابوزین پیر سید محی الدین محبوب حنفی قادری بن سید محمود محدث ہزاروی ہیں ۔ آپ نے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فروغ دین حق کیلئے اپنی حیات وقف فرما رکھی ہے ۔ اور کئی کتابوں کے آپ مصنف ہیں خانقاہ میں قائم شدہ جامعہ میں درس نظامی کے اسباق بھی آپ طلاب کو پڑھاتے ہیں اور دینی و دنیاوی علوم سے بکمال بہرہ مند رہتے ہوئے اہل عالم کو علم و حکمت سے نواز رہے ہیں ۔ دنیا کی کئی مشہور یونیورسٹیز میں آپ تقابل ادیان اور تصوف پر مدلل خطابات کرچکے ہیں ۔ آپ کے پانچ سو سے زائد دینی و روحانی عنوانات پر خطابات ہوچکے ہیں ۔ دنیا کے 58 ممالک کا علمی ، دینی ، روحانی آپ دورہ فرما چکے ہیں اور اس وقت پاکستان میں آپ کے زیر انتظام 12 مدارس قائم ہیں۔ آپ نے طریقت قادریہ کو ممالک اسلامیہ سمیت ممالک یورپ میں بھی فروغ دیا اور بہترین نمونہ اسلاف ہیں -

عمر مبارک: حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی حنفی کاظمی نے طویل عمر مبارک پائی ۔ آپ کے خلیفہ اور مرید خاص حضرت میخ بند بابا سواتی نے حضرت محدث ہزاروی کو علاقہ میخ بند سوات کے دورے کے موقع پر دوران ملاقات بتایا کہ آپ کے والد حضور کی عمر مبارک 200 سال ہوئی ہے ۔ اور میں ان کے ہمراہ بارہ برس بغداد (عراق) خانقاہ غوثیہ مدرسہ قادریہ میں رہا ۔ آپ حافظ القرآن اور حافظ الحدیث تھے ۔ خاندان میں معروف تھا کہ حضرت کی عمر مبارک 180برس ہے -

وصال : ٨ رمضان المبارک بروز دوشنبہ بوقت ظہر ١٣٥٦ ھ لفظ اﷲ پر حضرت پیر سید محبوب علی شاہ چشتی نظامی بعمر 200 برس واصل باﷲ ہوئے تاریخ المغفور سے برآمد ہوتی ہے ۔
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہء عالم دوام ما

عرس مبارک: آپ کا مزار پر انوار خانقاہ محبوب آباد شریف حویلیاں شہر میں مرجع خاص و عام ہے ۔ اور آپ کا سالانہ عرس مبارک ماہ جون میں منعقد ہوتا ہے ۔ عرس مبارک 10,09,08 جون کی تاریخوں میں اہل اسلام کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ اسلام کی غرض سے منعقد کرکے اتحاد عالم اسلام کی خاطر دنیا بھر سے وابستگان سلسلہ عالیہ قادریہ محمودیہ اور علماء و مشائخ خانقاہ محبوب آباد شریف میں جمع ہوکر کتاب و سنت کے اسباق سے موقع اکتساب فیض عوام کو مہیا کرتے ہیں ۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 Jun, 2012 Total Views: 1531 Print Article Print
NEXT 
About the Author: پیرآف اوگالی شریف

Read More Articles by پیرآف اوگالی شریف: 809 Articles with 544636 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
سید حسین المشہدی بن سید سلطان علی بن عبداﷲ بن سید عبدالرحمن عرف بلبل شاہ بن سید اسحاق ثانی بن سید موسی زاہد بن سید عباس بن سید مصطفی بن سید محمد عالم بن سید عبداﷲ قاسم بن سید محمد اول بن سید اسحاق الموفق بن سید امام موسی کاظم
اس شجرہ نسب میں چند غلطیاں ہیں جن کی نشاندھی کی جاتی ہے :
اس شجرہ میں حسین المشہدی کے دادا کا نام عبداللہ بیان کیا گیا ہے جو سریع غلط اور مصادر انساب کے خلاف ہے ان کے دادا کا نام عبدالرحمن تھا اور جن کا لقب رئیس الزمان تھا جنہین اس شجرہ میں حسین مشہدی کا پردادا بتایا گیا ہے اس طرح اس شجرہ میں عبداللہ زاید بیان کیا گیا ہے اس کے لئے آپ گلزار موسی کاظم ، نسب نامہ شریف ، اور یزاروں قدیم مشجرات سادات کی طرف رجوع کر سکتے ہیں اور یہ جو عبدالرحمن کا لقب بلبل شاہ بیان کیا گیا ہے یہ بھی سریع غلط ہے ان دونوں بزرگوں کے زمانوں میں تین سو سال کا بعد ہے بلبل شاہ الگ بزرگ تھے اور ان کا زمانہ بہت بعد کا ہے ،ان کے اسلاف میں موسی زاہد کی ولدیت عباس اور دادا کا نام مصطفی جو بیان کیا گیا ہے یہ بھی درست نہیں بلکہ موسی زاہد کی ولدیت ابوالحسن محمد ہے جن کا ذکر اکثر قدیم عربی کتب انساب میں موجود ہے اسی طرح اس شجرہ میں بیان کیا گیا نام عبداللہ قاسم نہیں بلکہ ابوالقاسم عبداللہ ہے اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے اسحاق نامی بیٹے کا لقب موافق نہیں بلکہ الامیر اور الامین تھے۔
By: abu zahra fida hussain, muzaffarabad on Oct, 24 2012
Reply Reply
5 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB