عربی ہی ضروری کیوں؟(2)

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, )

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع مرحوم( کچھ حذف واختصار کے ساتھ) فرماتے ہیں،ہمارے اسلاف نے جب جزیرۃ العرب سے شمع ہدایت لے کر عجم کی طرف قدم بڑھایا تو جس طرح اسلام کی اشاعت وتبلیغ کی کوششیں کیں اسی طرح عربی زبان اور عرب کی وضع قطع،تہذیب وتمدن اورعادات واخلاق کو بھی عام کرنے کی سعی فرمائی ،تھوڑے ہی عرصہ میں وہ حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں کہ عالم میں اس کی نظیر نہیں ملتی، ایک طرف اگر دنیا کا جغرافیا بدل ڈالا تو دوسری طرف طبقات وممالک کی زبانیں بدل ڈالیں ،عربی زبان کے اس عموم وشیوع میں خود اس زبان کی شیرینی اور وسعت وسہولت کوبھی بڑا دخل ضرور ہے لیکن ساتھ ہی اس میں بھی شبہ نہیں کہ حضرات صحابہ وتابعین کی حکمت عملی اور اہتمام ِخاص کے بغیر کا یا پلٹ جانا ممکن نہ تھا ۔

اسی حکمت عملی کا ایک پہلویہ تھا کہ یہ اساطینِ امت جس خطہ میں اترے جب خطبہ دیا تو عربی زبان میں دیا ، حالانکہ مخاطبین تاحال اس زبان سے بالکل نا واقف تھے ،اور یہ حضرات اس پر قادر تھے کہ خود یا کسی ترجمان کے ذریعے خطبہ کو علاقائی زبان میں مخاطبین تک پہنچا دیں ، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا اور ضروری احکام کو مخاطبین کی ملکی زبان میں پہنچا دینے کے لیے دوسرے انتظامات کرکے خطبوں کو صرف عربی زبان میں منحصر رکھا،تا کہ مخاطب کو خود اس طرف رغبت ہو کہ امام وامیر کی تقریر کا مفہو م سمجھنے کے لیے عربی زبان سے آشناہونا ضروری ہے ،چنانچہ ایساہی ہوا۔

ہاں اس حکمت عملی میں بھی مسلمانوں نے اپنے امتیازی وصف یعنی اعتدال اور حفاظت ِحدود کا ایسا خیال رکھاکہ دوسری قوموں میں اس کی نظیر نہیں مل سکی ۔وہ چاہتے تھے کہ جلدسے جلدعربی زبان عام ہوجائے ،لیکن اس مقصد کو ترغیب کی حد سے بڑھنے نہیں دیا کہ جبرواکراہ کی نوبت آجائے اور اقوام عالم کی کسی ایسی ضرورت کو عربی زبان پر موقوف نہیں رکھا جس کے بغیر گزارہ مشکل ہو،البتہ یہ ترغیب کا ایک بہترین اور معتدل ذریعہ تھا کہ طبعی طور پر مخاطب کو رغبت ہوتی ہے اپنے حکمراں کی تقریر سمجھنے کی ۔
بخلاف صلیبی قوتوں کے ،جب ان کو اس گْرکی خبر ہوئی اور انہوں نے اپنی زبان کو عام کرنے کی ناکام سعی شروع کی تو اس مقصد کے لیے خلق اﷲ کی زندگی تنگ کردی ، انہوں نے سفروحضر اور معاملات ِبیع وشراء رزق وروزی کو اپنی زبان جاننے پر موقوف کردیا،ان کی ازلی محرومی اور زبان کی تنگی وسختی اگر درمیان میں نہ ہوتی تو بلاشبہ آج دنیا میں انگریزی کے سوا دوسری زبانوں کا نام ونشان نہ رہا ہوتا،اسی پر دیگر استعماری قوتوں کو قیاس کیجیے۔

لیکن یورپ کا مشہور ڈاکٹر گستادلی بان ، زبان عربی کی ہمہ گیری پر حیران ہو کر لکھتاہے : ’’ عربی ز بان کی نسبت ہم کو وہی کہناہے جوہم نے مذہب عرب کی نسبت کہا ہے یعنی جہاں پہلے کے فاتحین اپنی زبان کو مفتوحہ ممالک میں جاری نہ کرسکے تھے، عربوں نے اس میں کامیابی حاصل کی اور مفتوحہ اقوام نے ان کی زبان کو بھی اختیارکیا،یہ زبان ممالک اسلامی میں اس درجہ پھیل گئی کہ اس نے یہاں کی قدیم زبانوں یعنی سریانی ،قبطی ،یونانی ،بَربَری وغیرہ کی جگہ لے لی ، ایران میں بھی ایک مدت تک عربی زبان قائم رہی ،اگرچہ اس کے بعد فارسی کی تجدید ہوئی لیکن اس وقت تک علماء کی تحریر یں اسی زبان میں ہوتی تھیں ،ایران کے کل علوم ومذہب کی کتابیں عربی ہی میں لکھیں گئی ہیں ،ایشیا کے اس خطہ میں زبان عربی کی وہی حالت ہے جواز منہ متوسطہ میں لاطینی کی حالت یورپ میں تھی ، ترکوں نے بھی انہی کی طرز تحریر اختیار کرلی اور اس وقت تک ترکوں کے ملک میں کم استعداد لوگ بھی قرآن کو بخوبی سمجھ لیتے ہیں ۔‘‘
لاطینی میں بھی عربی زبان نے اپنے تسلط کے بین آثار چھوڑے ہیں ، موسیوڈوزی اور موسیو انگلمین نے مل کر زبان اندلس اور پر تگال کے ان الفاظ کی جو عربی سے مشتق ہیں ایک لغت تیار کرلی ہے ،فرانس میں بھی عربی زبان نے بڑا اثر چھوڑاہے ،موسیو سدیےو نہایت درست لکھتے ہیں کہ ادورن اور شوژمین کے بھی زبان عربی الفاظ سے زیادہ معمور ہوگئے ہیں اور ان کے ناموں کی صورت بھی بالکل عربی ہے ،ڈاکٹر سلمان أبو غوش کہتے ہیں کہ موجودہ انگریزی میں دس ہزار الفاظ عربی کے ہیں ’’ عشرۃ آلاف کلمۃ انجلیزیۃ من اصل عربی‘‘ ان کی کتاب کانام ہے ۔

تاریخ شاہد ہے کہ بلاد مغرب ویورپ میں دخول اسلام کو نصف صدی گزرنے نہ پائی تھی کہ وہاں کے عام سکاّن وباشندگان نے بَربَری اور لاطینی زبان کو دفن کردیا کہ ان ممالک میں نصارٰی کے پادری اس پر مجبور ہوگئے کہ اپنے مذہب کی نمازوعبادت کا ترجمہ عربی زبان میں کرکے مسیحی قوم کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ اس کو سمجھ سکیں ۔

الغرض امراء اسلام نے اشاعت زبان کے اہم مقصد کے ساتھ رعایا کی سہولت وآسانی کا بھی خاص اہتمام رکھا ہے ، اقوام یورپ کی طرح دنیا کو اس پر مجبور نہیں کیا ،بایں ہمہ جس طرح اسلام ناسخ الادیان مسلم تھا اسی طرح لسان عرب ناسخ َاَلسنہ ہوگئی ۔22 دسمبر1947میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ایک بھی اس واضح دلالت کرتی ہے۔

آپ غور کیجئے کہ اسلاف نے عربی زبان کی اشاعت میں یہ کوشش کیوں کی ؟ اس کا ایک سیاسی مقصد تو ظاہر اور عام ہے کہ حاکم ومحکوم اور سلطان اور رعیت میں ارتباط وانبساط بڑھے ۔دوسراایک اہم مقصد بھی ان حضرات کا مطمح نظر تھا کہ جب قرآنی زبان لوگوں میں رائج ہوگی تو قرآنی اخلاق ومعاشرت بھی ان میں با آسانی پیدا ہوسکیں گے چنانچہ عربی زبان کے عموم کے ساتھ ہی یہ دونوں مقاصد حاصل تھے ۔

آج کل یورپ کو اپنی ہمہ دانی پر ناز ہے وہ اپنے آپ کوتہذیب وتمدّن اور سیاست کا مالک سمجھتاہے اسی کی ایک مثال پر نظر ڈالیے۔

شیخ محمد کردعلی جو مصر میں مجمع اللغۃ العربیۃ کے صدر تھے ، اپنے سفرنامہ میں ، اندلس وپر تگال کے چشم دید واقعات اور اس کے ماضی وحال کا مواز نہ بتلاتے ہوے لکھتے ہیں :
’’ نہ فقط وہ ممالک ِیورپ جواسلام کے زیرنگیں آچکے تھے ، اسلامی زبان واسلامی معاشرت کے دلدادہ ہوگئے ،بلکہ گردوپیش کے ممالکِ یورپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ، جلالقہ ، لیوتیون ، نارفاریون کے تعلیمیافتہ لوگ عربی زبان لکھتے تھے ،وہ مسلمانوں کے تمدّن ومعاشرت پر ایسے فریفتہ تھے کہ اپنے مذہبی اصول کو چھوڑ کر مسلمانوں کی عادات وخصال مسلمانوں کی طرح اپنی عورتوں کو پردہ میں رکھنے کے عادی ہوگئے تھے ‘‘۔

افسوس کہ ہم کیا سے کیا ہوگئے ، کہاں سے کہاں جاپہنچے ،تہذیبوں کی موجودہ جنگ میں سلف کی اس ناخلف اولاد نے کس طرح ان کی عزت کے نشانات کو مٹایا اور غیروں کی غلامی کا طوق اپنے ہاتھوں سے اپنی گردن میں ڈال لیا ،ان کی قائم کی ہوئی بنیادوں کی ایک ایک اینٹ اور لگائے ہوئے چمن کا ایک ایک درخت نکال دیا ۔صد افسوس کہ جوقومیں ہماری نقالی (بجاطور پر ) فخر سمجھتی تھی آج ہم (بے جاطور پر ) ان کے نقّال بن گئے ، وضع قطع ان کی اختیار کرلی، زبان ان کی لے لی ، بے ضرورت بھی انگریزی لفظ بولنے کوفخر سمجھنے لگے ،صحیح لفظ بھی نہ آتا ہوتو غلط ہی سہی ،صاحب بہادرکی مشابہت کا تو ثواب مل ہی جاتاہے ، عورتوں کو پردے سے نکالا اور مردوں کے دوش بدوش لاکھڑا کیا ، ہم نے اول صرف ان کی زبان اور وضع اختیارکی اور سمجھا کہ ایمان واسلام کا تعلق قلب سے ہے ،ظاہری وضع وتراش کو اس میں کیا دخل ،لیکن تجربہ نے بتلادیا کہ یہی ایک بجلی کی روتھی جو قلب ودماغ پر چھاگئی اور انگریز یت ونصرانیت دلوں کی تہہ میں بیٹھ گئی ۔

ایک شخص ابتدامیں صرف انگریزی جوتااستعمال کرتاہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے ہم انگریز نہیں بن گئے ،لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں وہ دیکھ لے گا کہ یہ انگریز ی جوتا اس کے بدن سے اسلامی پاجامہ اتروا کر ٹخنوں سے تلے پتلون پہننے پر مجبور کردے گا،پھر یہ عمل اس کا اسلامی کرتا اور عبا اتروائے گا، اور جب اعضاء وجوارح اور بدن انسانی کی پارلمینٹ کے سب ارکان مغربی رنگ کے ہوگئے تو مجبور ہوکر ان کا تابع بننا پڑے گا ،انگریزی ٹوپی اسلامی عمامہ کی جگہ لے لے گی اور جب خود گھڑے گھڑائے صاحب بہادر بن گئے ،تو سمجھ لیجئے کہ اب گھر کے قدیم اصول ورواج کی خیر نہیں ، کیوں کہ یہ کسے کسائے صاحب بہادر کسی مسند پر نہیں بیٹھ سکتے ،دسترخوان پر کھانا تناول نہیں فرماسکتے ، نماز کے لیے بار بار وضو نہیں کر سکتے ، رکوع وسجدہ نہیں کر سکتے ،غرض گھر کا پرانا فرنیچر رخصت، پرانی وضع قطع رخصت ،رسم ورواج رخصت ، طہارت وعبادات رخصت ۔ غور کیجیے ،ایک انگریزی جوتے کی آفت کہاں تک پہنچی اور کس طرح اس نے دین ودنیا کو تباہ کر ڈالا۔

حقیقت میں گناہوں کا ایک سلسلہ ہے ،جب انسان ایک گناہ اختیار کرتاہے تو دوسرا خود بخود اس کے ساتھ لگ جاتاہے ،ایک حدیث میں ہے کہ نیکی کی فوری جزایہ ہے کہ اس کے بعد دوسری نیکی کی توفیق مل جاتی ہے اور گناہ کی فوری سزایہ ہے کہ اس کے بعد دوسرے گناہوں میں آدمی مبتلا ہوجاتاہے ۔

آج مسلمانوں کی نظر اس قدر سطحی ہوگئی ہے کہ اپنے بزرگوں کے برتے ہوئے مجرّب اصول اور ان کے بتلائے ہوئے گْر ان کی سمجھ میں نہیں آتے ،انہیں قرآن وحدیث کے ارشادات سنائے جاتے ہیں تو ان کے دل اس کے قبول کے لیے نہیں کھلتے ،سلف صالح کے حکمت آموز کلمات واصول بتلائے جاتے ہیں تو وہ ان کی نظر میں نہیں آتے ، وہ علماء کو یہ رائے دیتے ہیں کہ عربی زبان کے رہے سہے آثار بھی مٹادیں ۔ خطبے اردوزبان میں پڑھیں ، عربی کا نام نہ آنے دیں ، اس لیے آخر میں ہم خود اس قوم کے چند واقعات پیش کرتے ہیں جس کی کورانہ تقلید نے ہمارے بھائیوں کو مصائب وذلت کا شکار بنارکھاہے ۔

زوال اندلس کے وقت جب یورپی علاقے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر نصارٰی کے زیر نگیں ہوگئے ،تو نصارٰی نے ہر طرح کے جبرواکراہ سے یہ چاہا کہ رعےّت کواپنا ہم رنگ اور ہمنوا بنالیں ،مگر صدیوں کی پیہم کوششوں کے باوجود اس میں کامیابی نہ ہوئی تووہاں کے تجربہ کار اس تفتیش میں لگے کہ اس کا سبب کیاہے؟ ایک کمیشن اس کے لیے بنایاگیا ،اس کمیشن کی رپورٹ یہ ہوئی کہ ہم نے اگرچہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دیاہے لیکن اسلامی زبان (عربی )کے مدارس اور اس کی تعلیم وتعلم ابھی تک ہمارے ملک میں عام ہے ،اسلامی معاشرت وتمدّن رائج ہے ، اسی نے سب کے قلوب کو مسخر کیا ہواہے ، جب تک اسلامی زبان ،اسلامی کتب اور اسلامی معاشرت کو یہاں سے خٰتم نہ کردیا جائے گا، ہم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔1501ء میں یہ رپورٹ سامنے آئی ،اسی وقت سے حکومتوں نے اپنا تمام ترزور اس پر خرچ کردیا کہ اسلامی نشانات یہاں سے فناکر دئے جائیں ،چنانچہ اس سال قشتالہ وغرناطہ سے ایسے پکّے مسلمانوں کو بے سر وسامان نکل جانے پر مجبور کردیاگیا جن کے متعلق حکومت کو یقین تھا کہ یہ اپنی زبان ومعاشرت کو نہ چھوڑیں گے ۔1511ء میں انہوں نے اسلامی قلمی کتابوں کو اطراف وجوانب سے جمع کر کے غرناطہ کے میدان میں ایک عظیم الشان انبار لگادیا،جو عالم اسلام کے منتخب افراد کی صدیوں کی عرق ریزی ومحنت کے نتائج اور علوم شریعت وحکمت اور فلسفہ وریاضی کے علمی خزائن تھے ، ان ظالموں نے یہ عظیم الشان انبار نذر آتش کر دیا اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کسی اسلامی کتاب کا رکھنا قانونی جرم بنادیا اور جس جگہ کتاب ہاتھ آئی اس کو ضبط کر لینے اور جلادینے کا حکم عام کردیا ، مورخین کا بیان ہے کہ پچاس سال تک حکومت کی یہ کوشش جاری رہی جب جاکر اسلامی کتابوں کو مٹایا جاسکا ۔

آپ اس سے ایک طرف تو علوم اسلامیہ کی ہمہ گیری اور جاذبیت کا اندازہ کر سکتے ہیں اور دوسری طرف یورپین نصارٰی کی اوندھی ذہنیت ،کینہ طبیعت اور اسلام دشمنی کا کچھ تخمینہ کر سکتے ہیں کہ یہ علوم ومعارف کے خزائن جو ہر قوم کے لیے کام آنے والی چیز تھی اور ہزاروں فاضل علماء کی عمر بھر کی کمائی اور یکتا موتیوں سے زیادہ قیمتی خزائن تھے ان درندوں نے اس کے ساتھ کیا وحشیانہ سلوک کیا ،خود یورپ کے غیر متعصب عیسائی ان کے ظلم وستم پر ماتم کررہے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ مسلمانوں پر رحم کھاتے ہیں ، بلکہ اس لیے کہ وہ خود ان کتابوں اور علوم کے محتاج تھے ۔

1526ء میں فیلپ نے اپنی قلمرومیں یہ حکم جاری کردیا تھاکہ کوئی شخص کوئی عربی جملہ نہ بول پائے ،جن لوگوں کے نام عربی ترکیب پر مشتمل ہیں ان کے نام بدل دیئے جائیں اور جولوگ اس کو منظور نہ کریں وہ اس کی قلمروسے نکل جائیں ،چنانچہ لاکھوں مسلمانوں کو اسی قانون کے ماتحت بے سروسامان جلاوطن کردیاگیا۔یہ ناموں کی تبدیلی والا بعد میں کئی دیگر ممالک میں بھی چلااور اب بھی جاری وساری ہے۔

الغرض نصارٰی اور مغربی اقوام اس گْر کوسمجھتے ہیں جس کی بدولت ہمارے اسلاف نے اسلام اور عرب کا سکّہ لوگوں کے قلوب پر بٹھایاتھا اور اپنی کامیابی کا راز اس میں وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی آثارو شعائر اور زبان ومعاشرت کو فنا کردیں ۔

اسلام کا نام لینے والے اب بھی اس کو نہیں سمجھتے ، بلکہ جو کام فیلیپ نے بزور قانون اپنی رعےّت سے کرایاتھا ہمارے سادہ لوح مسلمان وہ خود اپنے ہاتھوں سے خوشی خوشی اس کو انجام دے رہے ہیں اور یہی نہیں کہ وہ اتفاقی اس بلامیں لگ گئے ہوں ،بلکہ اس سم قاتل کو آب حیات اور مرض کی دوا سمجھ رہے ہیں ۔
اﷲ تعالٰی ہم سب صحیح سمجھ نصیب فرمائے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Mar, 2013 Total Views: 1376 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 320263 views »
Reviews & Comments
مظفریات
ڈاکٹرشیخ ولی خان المظفر
اردو اصطلاحات ومحاورات
مولانا فضل الرحمن کی جمعیت نے حالیہ دنوں ایک شایانِ شان ’اسلامی تہذیب کانفرنس‘ بڑے دھوم دھام سے منعقد کی،وہ اس سے کچھ لوگوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کو اجاگر کیا جائے گا،تہذیب،تمدن اور ثقافت کا تعلق زبان سے ہے،اسی لئے ان کی کوششوں سے موجودہ حکومت نے اردو زبان کے نفاذکا بیڑا اٹھا یا ہے،نصف صدی سے بھی زیادہ مدت کے بعدوزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے احکامات بھی آگئے ہیں اورمختلف وزارتوں وسفارتوں میں تعمیل حکم بھی جاری ہے،لیکن ہماری ستم ظریفی دیکھئے کہ قوم کے اس اجماعی مطالبے اور اجتماعی خواہش کی طرف پیش قدمی کومیڈیا میں مختلف مواقع پر ہدفِ تنقید وتنقیص بنایا جارہا ہے،لسانیات میں محاوروں، کہاوتوں، اعلام،اصطلاحات،ضرب الامثال،تشبیہات،استعاروں اور کنایوں کے لطائف وقواعد سے بجا طورپر خبر نہ رکھنے والے یہاں عجیب وغریب مثالیں دے کر اس اہم مسئلے کی تخفیف کررہے ہیں، ایسے حضرات کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ یہاں مذکورہ نگارشات کے ساتھ ساتھ لسانیات کے موضوع کو کچھ وقت دے کر اسے سمجھا جائے اور پھراس پر عالمانہ وماہرانہ لب ولہجے میں تعمیری گفتگو کی جائے، تو شاید یہ ہم سب اور ملک وملت کے حق میں بہت بہتر ہوگا۔آیئے ہم اس پُر لطف موضوع پر آ پ کو لئے چلتے ہیں۔
’’محاورہ عربی زبان کا لفظ ہے اس میں"محور" شامل ہے جس کے معنی ہیں مرکزی نقطہ ٔفکر و عمل۔ جس کے گرد دائرے بنائے جاتے ہیں۔ یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محاورہ زبان کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے یعنی وہ دائرہ جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے گرد پھیلی ہوئی بہت ساری حقیقتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ ہمارے محاورات ہمارے مُشاہدوں اور طرح طرح کے تجربوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں کہیں عام معاشرتی انداز فلسفیانہ اور کہیں شاعرانہ انداز سے سامنے لایا جاتا ہے۔ اس میں گاہ گاہ پیشہ وارانہ انداز بھی شامل رہتا ہے۔ اور طبقہ وارانہ بھی اس میں ہمارے قدیم الفاظ بھی محفوظ ہیں اور قدیم روز مرّہ بھی یہ عمومی زبان اور عام لب و لہجہ سے قریب ہوتا ہے اور ایک حد تک اِس میں تخیل اور تجربہ کا اور تجزیہ کا آمیزہ بھی پایا جاتا ہے۔
"زبان" کے آگے بڑھنے میں سماج کے ذہنی ارتقاء کو دخل ہوتا ہے۔ ذہن پہلے کچھ باتیں سوچتا ہے، اُن پر عمل درآمد ہوتا ہے، اور وہیں سے اُس سوچ یا اُس عمل کے لئے الفاظ تراشے جاتے ہیں۔ اور پھر اُن میں سے کچھ فقرہ اور جملے محاورات کے سانچے میں ڈھلتے ہیں۔ اور ایک طرح سے محاورہ کی اِس حیثیت پر ہم نے کوئی کام نہیں کیا۔ اب تک یہ تو ہوتا رہا کہ محاورہ کی صحتِ استعمال پر زور دیا گیا۔ اُس کی نوکِ پلک دُرست رکھی گئی۔ اور اِس طرح کی کتابیں بھی بعد کے زمانے میں تحریر ہوئیں کہ محاورے کے معنی یہ ہیں اور اِس کا استعمال یہ ہے۔ یہ کام تدریسی نقطہ نظر کی سطح پر ہوا۔ یا پھر زبان کے ایک بڑے حصّے کو محفوظ کرنے کی غرض سے اسے انجام دیا گیا۔ چرنجی لال کی لغت مخزن المحاورات اسی کا ایک اہم نمونہ ہے اور قابلِ تعریف کام ہے۔ جس کو اب ایک طویل عرصہ گزرنے پر ایک یادگار عملی کام قرار دیا جا سکتا ہے۔
مگر اِس ضمن میں محاورے پراس پہلو سے غور و فکر نہیں کیا گیا کہ اُس نے ہماری زبان و بیان، تہذیبی رویوں اور معاشرتی تقاضوں سے کس طرح کے رشتہ پیدا کئے۔ اُن کو زبان و ادب اور معاشرت کا آئینہ دار بنایا۔ جب کہ محاورات کے سلسلے میں یہی سب سے اہم پہلو تھا اس لئے کہ زبان اور ادب کا ایک"اٹوٹ" اور"گہرا رشتہ" تہذیب سے ہوتا ہے۔ اور تہذیبی رشتہ وہ ہوتا ہے جو ہمارے معاشرتی رویوں کو سمجھنے اور سمجھانے میں مدد دیتا ہے بلکہ اُن کے لئے روشنی اور رہنمائی کے طور پر کام آتا ہے۔
تہذیبی مطالعہ ایک الگ سلسلہ ٔفکر و نظر ہے اور اخذِ نتائج کے لئے ایک جُداگانہ زاویہ نگاہ ہے۔ کیونکہ اس پہلو (Angle) سے محاورے پر ہنوز کوئی کام نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ الفاظ و صویتات ہوں یا پھر لغت و قواعد کے دائرہ میں آنے والی کچھ خاص اور اہم باتیں ہوں، اُن کو کلیتاً عصری تہذیب اور دواری دائرہ ہائے فکر و عمل سے آزاد نہیں کر سکتے۔ نیز بولی کو سامنے رکھ سکتے ہیں کہ شہری زبان کے ساتھ قصبہ و دیہات کی زبان میں بھی فرق آیا ہے۔ اور ایک زبان نے دوسری زبان کو متاثر بھی کیا ہے اور اِس نے تاثر بھی قبول کیا ہے۔
زبان میں محاورہ کی حیثیت بنیادی کلمہ کی بھی ہے اور زبان کو سجانے اور سنوارنے والے عنصر کی بھی اس لئے کہ عام طور پر اہلِ زبان محاورہ کے معنی یہ لیتے ہیں کہ ان کی زبان کا جو اصل ڈول اور کینڈا ہے یعنی Basic structure جس کے لیے پروفیسر مسعود حسن خاں نے ڈول اور کینڈا کا لفظ استعمال کیا ہے، جو اہلِ زبان کی لبوں پر آتا رہتا ہے۔ اور جسے نسلوں کے دور بہ دور استعمال نے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ اسی کو صحیح اور دُرست سمجھا جائے۔ اہلِ دہلی اپنی زبان کے لئے محاورۂ بحث خالص استعمال کرتے تھے۔ اور اس محاورہ بحث کو ہم میر کے اس بیان کی روشنی میں زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ میرے کلام کے لئے یا محاورۂ اہلِ دہلی ہے یا جامع مسجد کی سیڑھیاں یعنی جو زبان صحیح اور فصیح دہلی والے بولتے ہیں جامع مسجد کی سیڑھیوں پر یا اُس کے آس پاس اس کو سُنا جا سکتا ہے۔ وہی میرے کلام کی کسوٹی ہے۔
ہم ذوق کی زندگی میں ایک واقعہ پڑھتے ہیں کہ کوئی شخص لکھنؤ یا کسی دوسرے شہر سے آیا اور پوچھا کہ یہ محاورہ کس طرح استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے بتلایا۔ مگر پوچھنے والے کو ان کے جواب سے اطمینان نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی سند کیا ہے۔ ذوق ان کو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر لے گئے۔ انہوں نے جب لوگوں کو وہ محاورہ بولتے دیکھا تو اس بات کو مان گئے اور اس طرح معلوم ہو گیا کہ جامع مسجد کی سیڑھیاں کس معنی میں محاورہ کے لئے سندِ اعتبار تھیں۔ میر انشاء اللہ خاں نے اپنی تصنیف دریائے لطافت میں جو زبان و قواعد کے مسئلہ پر اُن کی مشہور تالیف ہے، اُن محلوں کی نشاندہی کی ہے جہاں کی زبان اُس زمانہ میں زیادہ صحیح اور فصیح خیال کی جاتی تھی شہر دہلی فصیل بند تھا اور شہر سے باہر کی بستیاں اپنے بولنے والوں کے اعتبار سے اگرچہ زبان اور محاورہ میں اس وقت اصلاح و اضافہ کے عمل میں ایک گوناگوں Contribution کرتی تھیں لیکن اُن کی زبان محاورہ اور روزمرّہ پر اعتبار نہیں کیا جاتا تھا۔ اِس کا اظہار دہلی والوں نے اکثر کیا ہے۔
میر امن نے باغ و بہار کے دیباچہ میں اِس کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ اپنی سات پشتوں سے دہلی میں نہیں رہتے وہ دہلی کے محاورے میں سند نہیں قرار پا سکتے کہیں نہ کہیں اُن سے چُوک ہو جائے گی ،اور وہی صحیح بولے گا جس کی"آنول نال" دہلی میں گڑی ہو گی اِس سے دہلی والوں کی اپنی زبان کے معاملہ میں ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔ محاورے سے مراد انگریزی میں Proverb بھی ہے اور زبان و بیان کی اپنی ادائے محاورہ کے دو معنی ہیں ایک محاورہ با معنی Proverb اور دوسرا محاورہ زبان و بیان کا سلیقہ طریقہ اور لفظوں کی Setting بھی۔
اس کے مقابلہ میں لکھنؤ والے اپنی زبان پر اور اپنے شہر کے روزمرہ اور محاورے کو سند سمجھتے تھے رجب علی بیگ سرور نے ’فسانہ عجائب ‘میں میر امن کے چیلنج یا دعوے کا جواب دیا اور یہ کہا کہ لکھنؤ کی شہریت یہ ہے کہ باہر سے کوئی کیسا ہی گھامڑ اور کندۂ نا تراش آتا ہے بے وقوف جاہل اور نامہذب ہو اور ہفتوں مہینوں میں ڈھل ڈھلا کر اہلِ زبان کی طرح ہو جاتا ہے یہ گویا میرا من کے مقابلہ میں دوسرا معیار پیش کیا جاتا ہے ۔
ہماری زبان میں ایک رجحان تو یہ رہا ہے اور ایک پُر قوت رجحان کے طور پر رہا کہ شہری زبان کو اور شرفاء کے محاورات کو ترجیح دی جائے اور اسی کو سندِ اعتبار خیال کیا جائے اور اِس کی کسوٹی محاورۂ اہلِ دہلی قرار پایا۔
اس سلسلہ میں ایک اور رجحان رہا جو رفتہ رفتہ پُر قوت ہوتا چلا گیا کہ زبان کو پھیلا یا جائے اور دوسری زبانوں اور علوم و فنون کے ذریعہ اس میں اضافہ کیا جائے، کہ زبان سکڑ کر اور ٹھٹھر کر نہ رہ جائے ،شہری سطح پر امتیاز پسندی آ جاتی ہے تو وہ لوگ اپنی تہذیب کو زیادہ بہتر اور شائستہ سمجھتے ہیں۔ اور اپنے لب و لہجہ کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اور امتیازات کو قائم رکھتے ہیں۔ لکھنؤ اور دہلی نے یہی کیا۔ اس کے مقابلہ میں لاہور کلکتہ اور حیدر آباد کا کردار دوسرا رہا۔ شاید اس لئے کہ وہ اپنی مرکزیت کو زیادہ اہم خیال نہیں کرتے تھے۔ اور اُس پر زور نہیں دیتے تھے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ آگے بڑھتے گئے، انہوں نے اضافہ سنئے اور نئی تبدیلیوں کو قبول کیا۔ زمانہ بھی بدل گیا تھا نئے حالات نئے خیالات اور نئے سوالات پیدا ہو گئے تھے۔
محاورہ کی ایک جہت ادبی ہے اور ایک معاشرتی۔ یعنی زبان کے استعمال کی صحیح صورت جب دہلی والے اپنے محاورہ کی بات کرتے ہیں تو اُن کی مراد صرف Proverb سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس روز مرّہ سے ہوتی ہے۔ جس میں بولی ٹھولی کا اپنا جینیس (Genius) چھُپا رہتا ہے اسی لئے دہلی والے ایک وقت اپنے محاورہ پر بہت زور دیتے تھے۔ اب وہ صُورت تو نہیں رہی مگر محاورے کی ادبی اور تہذیبی اہمیت کو پیشِ نظر رکھا جائے، یہ مسئلہ اب بھی اہم بلکہ یہ کہئے کہ غیر معمولی طور پر اہم ہے اس لئے کہ محاورہ زبان کی ساخت اور پرداخت پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور زبان کے استعمال کی پہلو داریوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔ دہلی والے جامع مسجد کی سیڑھیوں کو اپنے محاورہ کی کسوٹی قرار دیتے تھے۔ اُس کی اپنی لِسانی ادبی تاریخی اور معاشرتی پہلو داریاں ہیں۔ جن کو اِن خاص علاقوں میں بولے جانے والی زبان اور اندازِ بیان نے اپنے ساتھ خصوصی طور پر رکھا ہے اور اس طرح کئی صدیوں کے چلن نے اسے سندِ اعتبار عطا کی ہے۔ زبان اور بیان کی روایتی صورتوں کو الفاظ کلمات اور جملوں کو ایک خاص شکل دیتا ہے۔ اس میں روایت بھی شامل ہوتی ہے اور بولنے والوں کا اپنا ترجیحی رو یہ بھی۔ کہ وہ کس بات کو کس طرح کہتے اور سمجھتے ہیں۔ محاورہ میں آنے والے الفاظ تین پانچ کرنا یا نو دو گیارہ ہونا تین تیرہ بارہ باٹ یہ ایک طرح سے محاورے بھی ہیں اور جملے کی وہ لفظی اور ترکیبی ساخت بھی جو اپنا ایک خاص Setting کا اندازہ رکھتی ہے۔
اِن دو جہتوں کے ماسوا محاورہ کے مطالعہ کی ایک اور بڑی جہت ہے جس پر ہنوز کوئی توجہ نہیں دی گئی یہ جہت محاورہ کے تہذیبی مطالعہ کی ہے اور اُس کے ذہنی زمانی انفرادی اور اجتماعی رشتوں کو سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے اس تعلق کو اُس وقت تک پورے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا، جب تک اُن تمام نفسیاتی سماجیاتی اور شخصی رشتوں کو ذہن میں نہ رکھا جائے جو محاورہ کو جنم دیتے ہیں۔ اور لفظوں کا رشتہ معنی اور معنی کا رشتہ معنویت یعنی ہمارے سماجیاتی پس منظر اور تاریخی و تہذیبی ماحول سے جوڑتے ہیں یہ مطالعہ بے حد اہمیت رکھتا ہے اور اُس کے ذریعہ ہم زبان اُس کی تہذیبی ساخت اور سماجیاتی پرداخت کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں۔
عام طور پر ہمارے ادیبوں، نقادوں اور لِسانیاتی ماہروں نے اِس پہلو کو نظرانداز کیا اور اِس کی معنویت پر نظر نہیں گئی۔ اِس کے لئے ہم ایک سے زیادہ محاوراتی صورتوں کو پیشِ نظر رکھ سکتے ہیں‘‘۔
(اردو محاورہات کاتہذیبی مطالعہ۔از ڈاکٹر عشرت ہاشمی، مع تغییر واضافات)
’’کسی بھی زبان کا منظوم ادب ہو یا نثری اسالیب، محاورہ ادب کی ان دونوں شاخوں میں بڑی اہمیت رکھتا ہے- لسانیات اور ادبیات کے باب میں محاورہ کی ہمہ گیریت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی زبان سے اس کے محاورات الگ کرلیے جائیں تو جو کچھ باقی بچے گا وہ شاید ایک بے روح جسم کے علاوہ اور کچھ نہ ہو- محاورہ اپنی ہیئت ترکیبی اور معنوی گہرائی کے اعتبار سے زبان کی ایک خوبصورت فنی پیداوار ہوتا ہے- عام طور پر محاورہ تشبیہ، استعارہ اور کنایہ جیسی اصناف بلاغت کے حسین امتزاج سے تشکیل پاتا ہے اور عوام و خواص کا بے تکلف اور برجستہ استعمال اس کی فصاحت، بلاغت، ہمہ گیریت اور مقبولیت پر مہر تصدیق ثبت کردیتا ہے-
ڈاکٹر یونس اگا سکو کے بقول اردو میں محاورہ ’’ الفاظ کے ایسے مجموعہ کو کہتے ہیں جس سے لغوی معنی کی بجائے ایک قرار یافتہ معنی نکلتے ہوں- محاورہ میں عموماً علامت مصدر ’’ نا‘‘ لگتی ہے جیسے آب آب ہونا، دل ٹوٹنا، خوشی سے پھولے نہ سمانا- محاورہ جب جملے میں استعمال ہوتا ہے تو علامت مصدر ’’ نا‘‘ کی بجائے فعل کی وہ صورت آتی ہے جو گرامر کے اعتبار سے موزوں ہوتی ہے جیسے دل ٹوٹ گیا- دل ٹوٹ جاتے ہیں، دل ٹوٹ جائے گا وغیرہ‘‘ ( اردو کہاوتیں اور ان کے سماجی و لسانی پہلو ص:۴۵)۔
جدید عربی میں محاورہ کو ’’ التعبیر الاصطلاحی‘‘(Idiomatic Expression) کہتے ہیں-اس کے علاوہ بعض لوگوں نے اس کے لیے’’التعبیر الأدبی‘‘ یا ’’ العبارۃ الماثورہ‘‘ یا ’’ القول السائر‘‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں- عربی میں ’’ التعبیر الاصطلاحی‘‘ کا مفہوم اردو میں محاورہ کے مفہوم سے تھوڑا وسیع ہے- اردو میں ہم محاورہ، روز مرہ اور اصطلاح تین قسمیں کرتے ہیں اور ان تینوں کے درمیان لفظی و معنوی اعتبار سے فرق کیا جاتا ہے مگر عربی میں التعبیر الاصطلاحی اپنے وسیع تر مفہوم میں ان تینوں کو شامل ہے مثلاً، ’’مگر مچھ کے آنسو‘‘ اردو میں محاورہ نہیں بلکہ اصطلاح کے تحت درج کیا جائے گا، مگر عربی میں ’’ دموع التمساح‘‘ التعبیر الاصطلاحی کہلائے گا-
یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ عام طور پر محاورہ اور کہاوت یا التعبیر الاصطلاحی اور ضرب المثل کے درمیان خلط ملط کردیا جاتا ہے- یہ غلطی ایسی ’’ عامۃ الورود‘‘ ہے کہ عوام تو عوام بہت سے خواص بھی اس کا شکار ہوگئے ہیں- مثال کے طورپر پروفیسر محمد حسن کی کتاب ’’ ہندوستانی محاورے‘‘ میں آدھے سے زیادہ ضرب الامثال یا با لفاظ دیگر کہاوتیں درج کردی گئی ہیں- اسی طرح منشی چرنجی لال دہلوی نے ’’ مخزن المحاورات‘‘ کے نام سے جو ذخیرہ جمع کیا ہے اس میں کثرت سے امثال روز مرہ اور اصلا حات کو شامل کرلیا ہے- منیر لکھنوی کی مشہور لغت ’’ محاورات نسواں‘‘ میں ایک بھی محاورہ نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ ضرب الامثال اور کہاوتوں کا مجموعہ ہے-
پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی نے اپنی مشہور کتاب ’’ کیفیہ‘‘ میں دسواں باب محاورہ کے لیے خاص کیا ہے مگر اس میں بھی ۳۰؍ سے زائد کہاوتیں درج کردی ہیں- در اصل یہ خلط مبحث محاورہ اور مثل کی متفقہ جامع و مانع تعریف وضع نہ کیے جانے کا شاخسانہ ہے- مثال کے طور پر ’’ فرہنگ آصفیہ‘‘ کے مصنف نے اصطلاح کی جو تعریف کی ہے اس کو کسی حد تک محاورہ کی تعریف تو کہا جاسکتا ہے مگر ان کی بیان کردہ محاورہ کی تعریف در اصل نہ محاورہ پر صادق آتی ہے نہ ضرب المثل پر- محاورہ کی تعریف میں انہوں نے یہ جملہ لکھ کر مسئلہ کو اور پیچیدہ کردیا کہ ’’عین مستورات کی زبان کو محاورہ کہتے ہیں‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ محاورہ کی مثال میں مصنف نے میر کا یہ شعر نقل کیا ہے:
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب ان کی زلف کے اسیر ہوئے
اس میں غالباً ’’زلفوں کا اسیر ہونا‘‘ کو تو محاورہ کہا جاسکتا ہے مگر یہ مسئلہ تحقیق طلب ہے کہ یہ’’ عین مستورات کی زبان‘‘ کیونکر قرار پایا-
محاورہ اور ضرب المثل کی متضاد تعریفوں اور غیر متعین حدود اربعہ ہی کا نتیجہ ہے کہ جن مخصوص تراکیب کو فیروز اللغات میں محاورہ قرار دیا گیا ہے ان تراکیب کو فرہنگ آصفیہ میں صرف ’’ مصدر‘‘ کہا گیا ہے- اور صاحب فرہنگ نے جن تراکیب کو محاورہ لکھا ہے وہ فیروز اللغات میں ضرب المثل کے تحت درج ہیں-
اسی قسم کا خلط مبحث عربی میں نظر آتا ہے- مثلاً ابن عمر السدوسی کا رسالہ ’’ کتاب الا مثال‘‘ در اصل محاورات یا بالفاظ دیگر التعبیر الاصطلاحی کا مجموعہ ہے- ابن سلمہ نے ’’ الفاخر‘‘ میں محاورات اور امثال کو آپس میں گڈ مڈ کردیا ہے- البتہ الشعابی نے ’’ فقہ اللغۃ‘‘ میں محاورات کو امثال سے الگ رکھتے ہوئے ان کو ’’ فصل فی الا ستعارہ‘‘ کے تحت درج کیا ہے- ان متقدمین کا دفاع کرتے ہوئے ڈاکٹر کریم حسام الدین نے لکھا ہے کہ در اصل اس وقت زبان اور اس کے قواعد و ضوابط اپنے ارتقائی مراحل میں تھے- اور اصطلاحات کی تعریفات یا ان کے مفاہیم کے حدود اربعہ متعین نہیں ہوئے تھے اس لیے اس وقت مثل اپنے وسیع مفہوم کے تحت محاورات کو بھی شامل تھی- یہ دفاعی دلیل کسی حد تک قابل قبول ہے مگر آخر ان متاخرین یا معاصرین کے بارے میں کیا تاویل کی جائے گی جو مثل اور محاورہ میں اصطلاحی طور پر فرق متعین ہونے کے باوجود دونوں کو ایک دوسرے میں خلط ملط کیے ہوئے ہیں- مثلاً سلیمان فیاض کی ’’ معجم الماثورات اللغویہ والتعابیر الادبیۃ‘‘ میں ۹۰ فیصد امثال ہیں اور ’’ التعابیر الادبیۃ‘‘ براے نام ہی ہیں- دور حاضر کے ممتاز ادیب و ناقد اور ماہر ادبیات ڈاکٹر شوقی ضیف نے اپنی کتاب ’’ الفن ومذاھبہ فی النثر العربی‘‘ میں محاورات یا بالفاظ دیگر ’’التعبیر الاصطلاحی‘‘ کو’’ مثل‘‘ ہی کے تحت رکھا ہے، مزید الجھاؤ اس وقت پیدا ہوا جب انہوں نے مات حتف انفہ اور حمی الوطیس جیسے محاوروں کو کل الصید فی جوف الفرا جیسی مثل کی صف میں کھڑا کردیا (ص:۷۵)۔
المنجد میں بھی بے شمار محاورات کو مثل کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے-دراصل محاورہ اور مثل میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ مثل ہمیشہ جوں کی توں استعمال کی جاتی ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جاسکتی- مثلاً اردو کی کہاوت ہے ’’ کھسیانا بلی کھمبا نوچے‘‘ اب ایسا نہیں ہے کہ آپ اس کو مرد کے لیے استعمال کریں تو ’’کھسیا نا بلا‘‘ کردیں- اسی طرح عربی کی مثل ہے’’ بلغ السیل الزبیٰ‘‘،یہ ہمیشہ اسی طرح استعمال ہوگی، اس میں تبدیلی کر کے لم یبلغ یا سوف یبلغ وغیرہ نہیں کہا جاسکتا- اس کے بر خلاف محاورے میں تذکیر و تانیت واحد و جمع اور ماضی و حال و مستقبل کے اعتبار سے حسب ضرورت اور حسب موقع صیغہ میں تبدیلی کی جاتی ہے، مثلاً شرم سے پانی پانی ہوگیا، ہوگئے، ہوگئی، ہوجاؤگے وغیرہ، اسی طرح عربی میں بھی شمر عن ساعد الجد شمرت، شمروا، لم یشمر وغیرہ-
ایک فرق یہ بھی ہے کہ محاورہ عبارت کا جزٔبن کر اس میں جذب ہوجاتا ہے مگر مثل یا کہاوت عبارت میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہے- مثلاً ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا یا پھر ’’لا عطر بعد العروس‘‘یہ عبارت میں الگ سے پہچان لیے جائیں گے-
اردو یا عربی امثال کا ایک بڑا ذخیرہ وہ ہے جس کو ہم ’’ شعری ضرب الامثال‘‘ کہتے ہیں- امثال کی یہ قسم یا تو کسی شعر کا ایک مصرعہ ہوتی ہے جو اپنی برجستگی اور کثرت استعمال کے سبب مثل کے درجہ کو پہونچ جاتی ہے- یا پھر اتفاقیہ طور پر کوئی مثل کسی عروضی وزن پر ہوتی ہے- اردو کی مثل ہے…ع … ’’اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی‘‘، اسی طرح عربی کی مثل ہے ’’ ما ھٰکذا یا سعد تُورَد الابل‘‘ مگر محاورہ ابتدائً فاعلاتن فاعلن کی بھول بھولیوں میں کبھی قید نہیں ہوتا بلکہ اس کو حسب ضرورت شعر میں استعمال کیا جاتا ہے-
محاورہ خواہ کسی زبان کا ہو اس سے ہمیشہ حقیقی معنی کی بجائے مجازی معنی مراد ہوتا ہے، اہل زبان تو اپنے محاورات کے مجازی معنی خوب سمجھتے ہیں، مگر غیر زبان والے کو ان کا معنی سمجھنا دشوار ہوتا ہے، یہ معنی تو کبھی سیاق و سباق سے سمجھ میں آجاتا ہے اور بعض وقت سیاق و سباق بھی اس مجازی معنی کے فہم میں غیر معاون ثابت ہوتے ہیں- اردو کے محاورے میں ہم کہتے ہیں ’’ اس کا دل باغ باغ ہوگیا‘‘ اس کا معنی ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فرحت و انبساط میں مبالغہ کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی ’’ وہ بہت خوش ہوا‘‘ اگر آپ اس کا عربی میں لفظی ترجمہ کردیں تو یہ ہوگا کہ’’ اصبح قلبہ حدیقۃً حدیقۃً‘‘ ظاہر ہے کہ عربی کا بڑے سے بڑا ادیب بھی اس کا معنی سمجھنے سے قاصر رہے گا- اسی طرح عربی کا محاورہ ہے ’’ مات حتف انفہ‘‘ اہل زبان اس کا مجازی معنی سمجھتے ہیں، یعنی ’’ بغیر کسی ظاہری سبب یا مرض کے اس کا انتقال ہوگیا‘‘ لیکن اگر اس کا لفظی ترجمہ کردیں، تو یہ ہوگا کہ ’’ وہ اپنی ناک کی موت مرگیا‘‘ ،یہ اردو میں بالکل بے معنی ہے-
ہاں کچھ محاورے ایسے ہیں جو دونوں زبانوں میں مشترک ہیں- ایسے محاوروں کو سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی- کسی ایسے عربی محاورہ کا لفظی ترجمہ اگر ہم لغت میں دیکھیں تو فوراً ہمارا ذہن اس کے مجازی معنی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے- کیونکہ بعینہ انہی الفاظ میں وہ مخصوص مجازی معنی ہماری زبان میں موجود ہے- مثلاً عربی کا محاورہ ہے ’’اقتلعہ من جذورہ‘‘ اس کا ترجمہ یہ ہوا کہ ’’ اس کو جڑسے اکھاڑ پھینکا‘‘ بالکل یہی اردو کا محاورہ بھی ہے، لہٰذا ہم فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ عربی کے اس محاورہ کا مجازی معنی یہ ہوا کہ ’’اس کا صفایا کردیا‘‘، اسی طرح اردو کا ایک محاورہ ہے ’’ ہاتھ مانگنا‘‘ اس کا مجازی معنی ہے کہ کسی سے رشتہ کی بات کرنا یا شادی کا پیغام دینا- اس کا لفظی ترجمہ اگر عربی میں کردیا جائے،تو یہ ہوگا ’’أن یطلب یدھا‘‘یہ عربی کا محاورہ بھی ہے اور اسی معنی میں مستعمل ہے جس میں اردو میں مستعمل ہے لہٰذا کسی عربی کو اس کا معنی سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی-
کچھ محاورے ایسے ہیں جو بعینہ تو نہیں لیکن تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ دونوں زبانوں میں ہیں- مثال کے طور پر اردو کا محاورہ ہے ’’الٹی چھری سے ذبح کردیا‘‘ اس کا مطلب ہے بہت اذیت اور تکلیف پہنچائی- اسی معنی میں عربی کا محاورہ ہے ’’ ذبحہ بغیر سکین‘‘ یعنی بغیر چھری کے ذبح کردیا- اسی طرح اردو کا محاورہ ہے ’’ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا‘‘ اس کا مطلب ہے کسی کی کمزوری پکڑلی یا معاملہ کے سب سے اہم پہلو کی گرفت کی- اسی معنی میں عربی کا محاورہ ہے ’’وضع اصبعہ علی الجرح ‘‘یعنی زخم پر انگلی رکھ دی-
کچھ محاورے ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی تاریخی پس منظر ہوتا- یہ محاورے کسی واقعہ یا حادثے کے بطن سے جنم لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ اصل واقعہ فراموش ہوجاتا ہے مگر محاورہ سکہ رائج الوقت کی طرح باز ار ادب میں چلتا ہے- ہم میں سے کون نہیں کہتا کہ ’’میں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے‘‘ یعنی اس کو کرنے کا پختہ ارادہ اور عزم کرلیا ہے یا اس کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے، مگر کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ در اصل اس محاورہ کے پس منظر میں ایک راجپوتانہ رسم ہے- جب کسی سردار یا راجہ کو کوئی اہم کام یا مہم درپیش ہوتی تھی تو وہ دربار میں ایک تخت پر ایک تلوار، شربت کا پیالہ اور ایک پان کا بیڑا رکھوادیا کرتا تھا اور پھر مصاحبین اور خواص سے اس اہم کام کا ذکر کرتا تھا- ان میں سے کوئی سورما آگے بڑھ کر تلوار کمر سے باندھتا تھا، شربت پیتا تھا اور پان کا بیڑا اٹھاکر منھ میں رکھ لیا کرتا تھا- گویا اس نےمہم کو سر کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے ،چنانچہ یہ محاورہ بن گیا، اسی طرح عربی کے بہت سے محاورے اپنے پیچھے کوئی تاریخی واقعہ یا تہذیبی و سماجی پس منظر رکھتے ہیں، مثلاً ایک محاورہ ہے ’’ رفع عقیرتہ‘‘ اس کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے ایک شخص کی ٹانگ کٹ گئی- اس نے اپنی کٹی ہوئی ٹانگ اٹھاکر چیخنا چلانا شروع کردیا ،چونکہ کٹے ہوئے عضو کو ’’عقیر ۃ‘‘ کہتے ہیں لہٰذا چیخنے چلانے اور شور مچانے کے لیے یہ محاورہ بن گیا- (لسان العرب مادۃ عقر)۔
رفع عقیرتہ یعنی اس نے اپنی کٹی ہوئی ٹانگ اٹھالی بالفاظ دیگر اس نے شور مچایا اب مجاز در مجاز کی چوٹ کھاتا ہوا یہ محاورہ جدید عربی میں اس طرح استعمال ہوتا ہے ’’ رفع عقیرتہ ضد فلان‘‘ یعنی فلاں کے خلاف آواز اٹھائی-
جب تک کسی زبان کے محاورات پر گہری نظر نہ ہو ،اس وقت تک اس زبان میں اچھی انشا پردازی نہیں کی جاسکتی- اور اگر آپ ایک زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں کررہے ہیں ،تو محاوروں کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے- ایسی صورت میں ضروری ہے کہ آپ دونوں زبانوں کے محاورات سے بخوبی واقف ہوں تاکہ محاورہ کا ترجمہ محاورہ میں کیا جاے- اسی کو ’’ با محاورہ ترجمہ‘‘ کہتے ہیں، اگر آپ محاورہ کا لفظی ترجمہ کردیں گے تو یا تو وہ بے معنی ہوجائے گا یا کم ازکم غیر فصیح ہوگا- سواے ان محاورات کے جو لفظ و معنی میں یکسانیت کے ساتھ دونوں زبانوں میں ہیں مگر ایسے محاورے کم ہی ہیں - یہ ایسا نازک مقام ہے کہ یہاں اچھے اچھوں کی قابلیت غوطہ کھا جاتی ہے- ہمارے یہاں آج بھی ’’ ذھب ابو حنیفۃ الی کذا‘‘ کا ترجمہ ’’ ابو حنیفہ اس طرف گئے ہیں‘‘ کیا جاتا ہے- یہ ترجمہ نہ صرف یہ کہ غیر فصیح ہے بلکہ اردو محاورہ کے اعتبار سے بھی غلط ہے دراصل سلیس اور با محاورہ ترجمہ کرنا بھی ایک فن ہے جو محض زبان کے قواعد رٹ لینے اور مفردات کو حفظ کرلینے سے نہیں آتا بلکہ اس کے لیے ذوق سلیم اور ادبی شعور بھی ضروری ہے- شاید اسی ذوق سلیم اور ادبی شعور کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ ہمارے یہاں اگر ’’ فقد قال زید‘‘ کا ترجمہ ’’ پس تحقیق کہ کہا زید نے‘‘ نہ کیا جائے تو بعض ’’کافیہ بردوش‘‘ قسم کے علامہ چیں بجبیں ہوجاتے ہیں - اس قسم کے ترجمے درسگاہوں میں اگر نحو و صرف کی کتابوں میں دی گئی مثالوں تک محدود رہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب اسی قسم کے نحوی و صرفی ترجمے عام مذہبی، ادبی اور تاریخی کتابوں میں روا رکھے جاتے ہیں، ان کو دیکھ کر سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ ’’ شعر مرا بمدرسہ کہ برد‘‘ یہ تو عربی سے اردو ترجمہ کی بات تھی اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو سے عربی ترجمے اپنے جلو میں کیسے کیسے ادبی جواہر پارے اور محاوراتی شاہکار رکھتے ہوں گے-
ایک بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ عام طور پر عربی سے اردو یا اردو سے عربی لغات میں محاورات بہت کم شامل کیے گئے ہیں، اورجو ہیں بھی ان کے یا تو لفظی معنی درج کردئیے گئے ہیں یا پھر اپنی طرف سے کوئی ایسی تعبیر گڑھ دی گئی ہے جس سے اہل زبان نا آشنا ہیں-
اب تک کوئی ایسی کتاب بھی دیکھنے میں نہیں آئی جس میں عربی محاورات کو یکجا کر کے اردو میں ان کا متبادل محاورہ دیا گیا ہو- پاکستان سے شائع شدہ ایک دو کتابیں ضرور نظر سے گذریں مگر ان میں یا تو محاورات کے نام پر ضرب الامثال جمع کردی گئی ہیں یا پھر تعبیرات کے نام پر عرب کے مستند ادبا کی کتابوں سے شگفتہ اور عمدہ جملے یکجا کردئیے گئے ہیں-
جیسا کہ ہم نے ابھی عرض کیا کہ با محاورہ ترجمہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو دونوں زبانوں کے محاورات سے واقفیت ہو، مثال کے طور پر اگر عربی میں یہ ہو کہ ’’ضرب عصفورین بحجر‘‘ تو اس کا ترجمہ یہ نہیں ہوگا کہ اس نے ایک پتھر سے دو چڑیا ں ماریں بلکہ یہ ہوگا کہ اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے- اسی طرح اگر یہ ہو کہ ’’جعل الحبۃ قبۃ‘‘ تو اس کا ترجمہ یہ نہیں ہوگا کہ اس نے دانے کا گنبد بنادیا بلکہ یہ ہوگا کہ اس نے رائی کا پہاڑ بنادیا- اسی طرح اگر اردو میں یہ ہو کہ اس نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی مارلی تو اس کا ترجمہ عربی میں یہ نہیں ہوگا کہ ’’ضرب علی رجلہ بالفأس‘‘ بلکہ یہ ہوگا کہ ’’ بحث عن حتفہ بظلفہ‘‘ یعنی اس نے اپنے ہاتھ اپنی قبر کھود دی۔۔۔۔‘‘
(عربی اور اردو محاورات کا تقابلی جائزہ - علامہ اُسید الحق بدایونی ۔جامِ نور، جولائی ۲۰۰۴ مع تغییر واضافات)
بہرحال اس موضوع پر بھاری بھرکم کام کی شدید ضرورت ہے،البتہ اسلامی تہذیب وتمدن اور لسانیات کے عروج وزوال پر کافی دسترس رکھنے والے ماہرین کی نگرانی میں اس تحقیق کو آگے بڑھایا جائے،پھر کہیں جاکر لوگوں کو اردو کی تنفیذ کے حوالے سے سب کچھ سمجھ میں آجائے گا۔

By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Aug, 30 2015
Reply Reply
1 Like
ان پانچ حدیثوں کے جواب میں ایک ہی حدیث بیان کرتا ہوں .
کسی عربی کو اجمی کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہی سواۓ تقویٰ پر .
الحديث الثالث :(( من ابغض العرب فقد ابغضني ))
یہ ھدیث قوم پرستی کی دعوت دیتی ہے اس لیے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے جو حدیث نہی ہوسکتی .
الحديث الرابع : (( لا يكره العرب الا منافق ))
الحديث الخامس: (( حب العرب ايمان وبغضهم نفاق ))
کیا ہی اچھا ہوتا اگر ترجمہ بھی کر دیتے اگر میرا ترجمہ غلط ہو تو معافی دینا ورنہ پھر سوچنا
عرب سے کوئی کراہت نہی کرتا سوا منافق کے . دوسری حدیث کا ترجمہ عرب سے محبت ایمان اور اس سے بغض نفاق ہے یہ دونوں حدیثیں میری بیان کردہ حدیث کی تعلیم سے اختلاف کرتی ہیں ان سب میں تطبیق کریں ورنہ اپنی حدیثوں کو دوبارہ چیک کریں شکریہ
By: MUHAMMAD SARFRAZ, shorkot on Apr, 26 2013
Reply Reply
1 Like
qanoon aur hudood sai hai
By: shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Apr, 27 2013
0 Like
janab nai jo hadith zikr ki hai.us ka talluq qanoon aur hamari zikr kardah rewayaat ka talluq manaaqib se hai. thanks.
By: shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Apr, 27 2013
0 Like
ال انڈیا مسلم لیگ کا دو قومی نظریہ قرآن کے مطابق ہے جب تک دنیا میں اسلام ہے۔ مسلم قومیت کا یہ نظریہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا ہے۔ مسلم قومیت اور ہندو قومیت کے مبنی دو قومی نظریہ کے مخالف اسلام کے دشمن لوگ ہی ہو سکتے ہیں۔

عربی زبان سے ہندوؤں کی دشمنی اور دو قومی نظریے کا پس منظر

انگریزؤں نے ہندوستان پر قبضہ جمانے کے بعد ۱۸۳۵ء میں فارسی کو ہٹا کر اردو کو پورے ھندوستان کی سرکاری زبان بنا دی۔ اس وقت اردو زبان ميں موجود عربی رسم الخط اور عربی زبان کے الفاظ کی موجودگی کی کسی ہندو نے مخالفت نہیں کی۔ جنگ آزادی 1857ء کے بعد ہندوؤں نے اردو زبان میں عربی زبان کے اثر کی مخالفت کا مسئلے کو لاکھڑا کیا۔ یہ جھگڑا ہندی اردو 1867ء کے نام سے موسوم ہے۔ جبکہ اصل جھگڑا اردو زبان میں عربی زبان اور سنسکرت زبان کے اجاراداری کا تھا۔ 1867ء میں بنارس کے ہندوؤں نے لسانی تحریک شروع کر دی جس کا مقصد اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری اور عدالتی زبان کے طور پر رائج کرنا تھا۔ اور عربی رسم الخط کی جگہ دیوناگری رسم الخط کو اپنانا تھا۔ اس جنونی اور لسانی تحریک کا صدر دفتر آلہ آباد میں قائم کیاگیا جبکہ پورے ملک میں ہندوؤں نے کئی ایک ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دیں، تاکہ پورے ہندوستان کے تمام ہندوؤں کو اس تحریک میں شامل کیا جائے اور اس کے مقاصد کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔
اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو اردو کے خلاف ہندوؤں کی تحریک ایک ناقابل فہم اور غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔ کیونکہ اردو کو جنوبی ایشیاء میں نہ صرف متعارف کرانے اور ہر دلعزیز بنانے بلکہ اسے بام عروج پر پہچانے کے لیے انہوں نے وہی کردار ادا کیا تھا جو خود مسلمانوں کا تھا۔ اگر اردو کا کوئی قصور تھا بھی تو صرفاتنا کہ اس زبان میں عربی رسم الخط اور عربی زبان کے الفاظ کی کثرت تھی اس زبان نے مسلمانوں کے شاندار ماضی ان کے بہادروں ، عالموں اولیاء کرام او رسپہ سالاروں کے کارناموں اورکرداروں کو اپنے اصناف اور دبستانوں میں محفوظ کر لیا ہے۔ کئی مسلمان رہنماؤں نے ہندوؤں کو سمجھانے کی کوشش کی ان پر واضح کیا گیا کہ اردو انڈو اسلامک آرٹ کا ایک لازمی جزو بن گئی ہے۔ کوئی لاکھ بار چاہے تو جنوبی ایشیاء کی ثقافتی ورثے سے اس انمول ہیرے کو نکال باہر نہیں کرسکتے۔ مگران دلائل کا ہندوؤں پر کچھ اثر نہ ہوا۔ اس طرح ایک زبان بولنے والی اردو قوم پنجابی قوم کی طرح دو قوموں کے اندر تقسیم ہو گئی۔ سرسید احمدخان جو ان دونوں خود بنارس میں تھے بھی اپنی تمام تر مصالحتی کوششوں میں بری طرح ناکام رہے کیونکہ سرسید ہی کے قائم کردہ سائینٹیفک سوسائٹی آف انڈیا کے ہندو اراکین بھی اردو کے خلاف تحریک میں پیش پیش تھے۔ ہندی اور اردو کے درمیان اس قضیے کا نتیجہ بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات کی صورت میں برآمد ہوا۔ ثقافتوں کے اس ٹھکراؤ نے سرسید کے خیالات میں ایک اورانقلاب برپا کر دیا۔

سرسید احمد خان ہندی اردو جھگڑے سے پہلے ہندو مسلم اتحاد کے بڑے علمبردار تھے۔ اور متحدہ قومیت کے حامی تھے لیکن اس جھگڑے کے باعث ان کو اپنے سیاسی نظریات یکسر تبدیل کرنا پڑے۔ ہندو۔ مسلم اتحاد کی بجائے اب وہ انگریز مسلم اتحاد کے داعی بن گئے۔ اور متحدہ قومیت کے بجائے ہندوستان میں مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کے عظیم پیامبر بن کر ابھرے.

یہ تھا وہ جھگڑا جس نے ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت کو طشت ازبام کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندی اردو جھگڑے کی صورت میں ہم ان دو مختلف ثقافتوں کا ٹھکراؤ دیکھتے ہیں جو باوجود اس حقیقت کے کہ صدیوں تک ایک ہی خطے میں پروان چڑھی تھیں لیکن ریل کی دو پٹریوں کی طرح یا بجلی کے ایک ہی کیبل کے اندر دو تاروں کی طرح اور یا پھر ندی کے دو کناروں کی طرح نہ کبھی ماضٰ میں آپس میں گھل مل گئے اور نہ کبھی مستقبل میں ان کے گھل مل جانے کا کوئی امکان تھا۔

مسلم قومیت قرآن کے مطابق ہے۔

[اِنَّ ھَذِہِ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنَ وَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ کُلُّ‘ اِلَیْنَا رَاجِعُوْنَ ہ(۲۱:انبیاء:۹۳)
"بے شک(مسلمانو ں)یہ تمہاری اُمت/قوم، ایک اُمت/قوم ہے اور میں تمہارا رب ہوں تم میری ہی بندگی کرو اور جس نے اپنے امر (یعنی مسلم قومیت) کو باہم ٹکڑے کیا (تو) وہ سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔]

یعنی اب تمام مسلمین ایک اسلامی ثقافت کی حامل ایک اُمت ہے اور اس اُمت کی زبان عربی ہے۔ چونکہ ’’زبان‘‘ امت کے تمدن، ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے بلکہ ثقافت اور تمدن کو پیدا کرنے اور بیدار کرنے کے لئے ایک معاون کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور قومی تشخص پر بھی اثر انداز ہوتی ہے
تمام مسلمین ایک قوم بھی ہے:عربی کی لغت /قاموس میں ’’قوم Nation\ ‘‘ ان گروہ کو کہا جاتا ہے جن کی زبان اور ثقافت مشترک ہواور’’ اُمت‘‘ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جس کی ثقافت، تمدن، زبان،دین، لباس، تاریخ اور تہوار وغیرہ مشترک ہو ۔

قرآن مجید کے مطابق بھی قوم کے لئے ایک زبان کا ہونا ضروری ہے۔ [وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ لیُبَیِّنَ لَھُمْ ہ(۱۴: ابراہیم:۴)اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا ہے تاکہ انہیں (احکام الٰہی) کھول کھول کر بتائے۔] یعنی ہر قوم اور ہر زبان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور اللہ نے قرآن میں امت اور قوم کو ہم معنی لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ مثلاً [ثُمَّ اَرْسَلْنَا رسلنا تَتْرَاکُلَّ مَاجَاء اُمَّۃً رَّسُوْلُھَا کَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَھُمْ بَعْضاً وَجَعَلْنَاھُمْ اَحَادِیْثَ فَبُعْداًلِّقَوْمٍ لاَّیُوْمِنُوْنَ ہ(۲۳:مومنون:۲۴)پھر ہم پے در پے اپنے رسول بھیجتے رہے۔ جب کسی’’امت‘‘کے پاس اس کا رسول آتا تھا تو وہ اسے جھٹلا دیتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے لاتے رہے اور ان کی احادیث بناتے رہے پس جو ’’قوم‘‘ ایمان نہیں لاتی ان پر لعنت ہے۔] [وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلُ ہ (۱۰:یونس:۴۷) اور ہر ’’امت ‘‘کے لئے ایک رسول ہے ۔] [وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ ہ(۳:رعد:۷)اور ہر ’’قوم‘‘ کے لئے ایک ہدایت کرنے والا ہے۔] یعنی ان آیات کے مطابق قوم اور اُمت تھوڑے سے فرق کے ساتھ ہم معانی لفظ ہیں۔ عربی لفظ قوم کا اصل مادہ (ق۔و۔م۔)ہے جس کے معنی جگہ ،کھڑے ہونا، متوازن ہونا، کسی جگہ پر ٹھہر جانا،رک جانا کے ہیں اسی مادہ سے لفظ (قوام) عدل اور توازن ،(قامۃ) آدمی کا قد، ،اللہ کا نام (قیامت) کھڑے ہونا (مستقیم) سیدھا ، درست راستہ وغیرہ نکلے ہیں ۔ (قوم) کے معنی وہ گروہ ہے جو ایک جگہ ایک ساتھ رہائش پذیر ہوں جن کی زبان او ر ثقافت ایک ہوجائے وہ گروہ ’’قوم‘‘ کہلاتا ہے۔اُمت لفظ کا مادہ (ا۔م۔م۔) ہے جس کے معنی اِرادہ، اَساس، بنیاد ،مرجع،مرکزی اور اصل کے ہیں اوراسی مادہ سے لفظ (اُمّ) ماں ، (امام) آگے، سامنے، مستقبل (امام) جو شخص آگے ہو، (امامۃ) آگے ہونا، پگڑی (اُمی) اُم القری ٰ کے رہنے والے، سب قوموں سے آگے قوم، ماں کا جنا ہوا ،ان پڑھ وغیرہ نکلے ہیں۔ (اُمت) کے معنی وہ گروہ ہے جن کی تمام بنیادی اَساس بچپن سے ایک ہویعنی دین،ثقافت،زبان وغیرہ مسلمین کا گروہ اس تعریف پر پورا اُتارتا ہے جن کی ماں قرآن نے ’’اَزواج الرسول ؐ ‘‘ کو قرار دیا ہے۔[َ اَزْوَاجُہُ اُمَّھَاتُھُمْ (۳۳:احزاب:۶)] اور یہ رشتہ مجازی سے زیادہ حقیقی جیسا ہے۔[وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْْ ا اَ زْ وَجَہٗ مِنْ م بَعْدِ ہٖٓ اَبَدً ا ط (۳۳:۵۳) ]۔ قرآن میں مسلمین کے لئے ’’قوم‘‘ کا لفظ بھی آیا ہے جیسے قرآن میں لکھا ہے۔ [وَقَالَ الرَّسُوْلُ یَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوْا ھَذَا الْقُرْآنَ مَھْجُوْراً ہ (۲۵: فرقان:۳۰)اور رسول (اللہ) نے کہا کہ اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو مہجور( یعنی باندھ کر بے حرکت بنالیا ہے یا وہ جگہ جس کو ہجرت کے بعدخالی ہوجاتی ہے)] یعنی قرآن سے ہدایت نہیں لیتے ہیں اور جبکہ قرآن میں لکھا کہ ’’ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاس ہ‘‘ (۲:البقرہ:۱۸۰) ’’قرآن تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے ۔‘‘ اگر قرآن میں رسول کی مخاطب ’’میری قوم‘‘ تمام مسلمین ہے تو تمام مسلمین کو بھی قرآن کے مطابق ایک قوم بننا چاہئے۔
By: siddiq, karachi on Apr, 23 2013
Reply Reply
1 Like
أتساءل: لماذا هذا الحقد على العرب ؟, وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( لا يكره العرب الا منافق) وفي حديث آخر يخاطب سلمان الفارسي ( يا سلمان اياك أن تكرهني ) فقال سلمان مستغرباً : أأنا أكرهك يا رسول الله وبك هدانا الله؟؟؟!!!,قال ( ان كرهت العرب فقد كرهتني ) 0 0 وقال الله تعالى ( انا أنزلناه قرآناً عربياً لعلكم تعقلون ), فقد أنزله على أشرف لغة هي لغة العرب؛ وعلى أشرف نبي؛ وفي أشرف شهر في رمضان؛ وبذلك يعتز العرب ويفتخرون؛ فهم حَمَلَة أشرف رسالة على وجه الأرض قاطبة00فهل يفقه الكارهون للعرب, أظنهم لا يفقهون !!! 0
قال الرسول صلى الله عليه وسلم

الحديث الاول: (( من سب العرب فأولئك هم المشركون))
الحديث الثاني:(( ان من اقتراب الساعة هلاك العرب ))
الحديث الثالث :(( من ابغض العرب فقد ابغضني ))
الحديث الرابع : (( لا يكره العرب الا منافق ))
الحديث الخامس: (( حب العرب ايمان وبغضهم نفاق ))
By: shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Apr, 25 2013
0 Like
بات کہاں سے شروع تھی اور کدھر نکل گئی بات تو یہ تھی کہ ہر فاتح قوم مفتوح قوم کو اپنے رنگ میں رنگنے کے طریقے اختیار کرتے ہیں .جن میں زبان ،دین اور لوگ ہوتے ہیں جن کو مستقبل کے اثاثہ تصور کیا جاتا ہے.
ہندوستان میں مغلوں نے اپنی زبان سرکاری طور نافذ کی جو فارسی تھی .انگریز آئے تو انھوں نے انگریزی کی ترویج کے مختلف طریقے اختیار کیے .مسلمانوں نے پہلے تو اسکی خوب مخالفت کی بعد میں شامل ھوۓ سر سید احمد خان کا نام اس حوالے سے معروف ہے .قرآن عربی میں نازل ہوا کیوں کہ نبی اور قوم عربی تھی لازمی بات ہے جب الله نے سب قوموں میں ان سے نبی بھیجے تو کوئی نبی ہندی بھی بولتا ہوگا .ویسے قرآن میں صرف ان انبیا کا ذکر ہے جن کا تعلق حضرت سام بن نوح سے ہی ہے کسی انگریز نبی کا نام ہے یہ باقی دو بیٹے تھے حضرت نوح کے . عربی آج بھی خود کو الگ قوم مانتے ہیں جس پر انکو فخر ہے کوئی عربی عورت غیر عربی مسلمان سے بھی شادی نہیں کر سکتی . نہ کسی غیر عربی کو عرب ملک کی قومی شناخت ملی ہے .صرف محکوموں والی بات ہے .
پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں نے الگ وطن اپنے مسلم تشخص کو بر قرار رکھنے کے لیے مانگا لیکن تمام مسلمان نہ پاکستان آسکے نہ آ سکتے تھے آج بھی وہاں پاکستان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں .جنکی مسجدوں کے دروازوں پر پولیس پہرہ نہی دیتی .
By: MUHAMMAD SARFRAZ, shorkot on Apr, 24 2013
1 Like
v good
By: shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Apr, 24 2013
0 Like
arabic language is very very good
By: usman, myanmar on Apr, 15 2013
Reply Reply
1 Like
myanmar pe bhi likhaa hai,2 usman
By: shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Apr, 17 2013
0 Like
arab qom,zubaan aur zameen k fazaail quraan o hadith me hain . ab ham aapki baaton par imaan laain ya quraan o sunnat par ?
By: shaikh wkmuzaffar, karachi on Apr, 14 2013
Reply Reply
0 Like
Every nation takes pride in their values and try to suppress it on others, they conquers and Muslims were of no exceptions with some what variation in technique. Main thing is it is their time now and clock has turned in their favor, we can only praise what our forefathers have done, Arabs still consider that their people as superior,they don't takes all Muslim as one as we dreams.yet no Pakistan Muslim can marry Muslim Saudi woman and nor they allow their nationality even they found way to marry. they took their woman and children as slave as others did to them. i do not buy at all, this all praising stuff.
By: Sarfraz, shorkot on Mar, 10 2013
Reply Reply
1 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB