جگن ناتھ آزاد— سوانح اور شخصیت(25دسمبر1918۔24جولائی2004)

(Dr Syed Muhammad Yahya Saba, India)

جگن ناتھ آزاد کا تعارف سر زمین پنجاب کے نامور شاعر منشی تلوک چند محروم کا مندرجہ ذیل شعر سے کر دیا جائے تو موصوف کی شخصیت اور نکھر جائے گی۔ جو جگن ناتھ آزاد کے والد ہیں۔
محروم آج عالم فانی سے چل بسا
مانگو یہی دعا کہ خدا مغفرت کرے

مذکورہ شعر محروم کا آخری شعر ہے جو انھوں نے خود کے لیے تو کہا ہے مگر یہ شعر پر بنی نوع انسان کے لیے صادق آتا ہے اور پھر قرآن صادق القول ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔منشی تلوک چند محروم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سر زمین پنجاب نے چار عظیم شخصیات کو جنم دیا جو آسمانِ ادب پر مہر و ماہ بن کر چمکیں،حکیم مشرق ڈاکٹر سر علامہ اقبال ، شاعر حرّیت میلا رام وفا جانشین داغ ابوالفصاحت جوش ملسیانی اور محب وطن منشی تلوک چند محروم موصوف نے یوں تو ہر موضوع پر نظمیں لکھیں مگر ان کے فکر و نظر کا مرکز یا محور وطن اور حب وطن ہے ۔وہ قومی شاعری کے علمبردار تھے جس کی داغ بیل حالی نے ڈالی تھی۔ محروم خالصہ کالج دہلی یونی ورسٹی میں لکچرر رہے اور 75سال شعروادب کی خدمت کر کے یہ شیدائی وطن 6جنوری 1966کو اس دارِ فانی کو الوداع کہہ کر اپنے خالق کے جوارِ رحمت میں جا بیٹھا اور چھوڑ گئے اپنے فرزند ارجمند جگن ناتھ آزاد کو جو خود 85سال کی طویل عمر گذارنے کے بعد موت کے شکنجے سے نجات حاصل نہ کر سکے۔

موت انسانی غرورِ عقل پر کس قدر کاری ضرب ہے۔ موت عالم انسانیت کی کتنی زبردست توہین ہے۔ یہ ایک ایسی مکمل اور قطعی مایوسی ہے جس کو امید کبھی اور کسی عالم میں بھی چھو نہیں سکتی۔موت انسانی بیچارگی کا کیا ہولناک مظاہر ہے۔ یہ سچ ہے کہ اگر دو چار صدیوں میں نہیں تو ہزاروں سال کے بعد سہی، ہم ایک نہ ایک دن موت کو زیر کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار کر دم لیں گے۔ لیکن جب تک یہ صورت حال پیدا نہیں ہوتی ہمیں چار و ناچار کو مرتے ہی رہنا پڑے گا موت یوں تو کسی کی بھی ہو قابل ماتم ہے لیکن ہمارے محبوب شاعر ماہر اقبالیات جگن ناتھ آزاد کی موت ایک ایسا زبردست سانحہ ہے جس پر صبر اور جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا اس موت نے ہمارے فقر شاہی کے اس بلوریں منارے کو منہدم کر دیا جس کے شمعِ زر پر ہلالِ عید جھمکتا اور ابرِ بہار مچلتا تھا مرحوم کی شخصیت ایسی نہیں کہ اس پر چند سطروں میں خامہ فرسائی کی جا سکے اس کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ صدیوں کے بعد ایسی شخصیت پیدا ہوتے ہیں۔
سالہا باید کہ یک صاحب و لے پیدا شود

جگن ناتھ آزاد ان چند مستثنٰی شخصیات میں سے تھا جس کا تمام وجود اردو زبان و ادب میں غرق اور اس قدر غرق تھی کہ اس کی پلکوں کی جنبش اور اس کے انفاس کی آمد و شد تک ادب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی موصوف اس دارِ فانی سے 24جولائی2004 کو رخصت کر گئے انھوں نے جیسی بھر پور اور مصروف علمی و ادبی اور ملازمتی زندگی گزاری وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہے۔وہ مختلف النوع اداروں سے وابستہ رہے۔ اور شعر و ادب کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے یادگار نقوش چھوڑے۔

جگن ناتھ آزاد 5دسمبر1918کو عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان میں ہے۔ان کے والد تلوک چند محروم اردو کے مشہور و معروف شاعر تھے۔ وہ شاعر کے ساتھ ساتھ مدرس بھی تھے۔ آزاد کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد کے ہاتھوں ہوئی۔ انھوں نے آزادی کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آزاد نے علمی و ادبی گھرانے میں ہی آنکھ کھولی۔ اس ماحول کا اثر یہ ہوا کہ بچپن سے ہی ادبی ذوق پیدا ہو گیا۔ ان کے والد انھیں ادبی محفلوں اور مشاعروں میں اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے اس کا فائدہ یہ ہوا کہ بچپن میں ہی اسے بہت سی نظمیں زبانی یاد ہو گئیں۔

جگن ناتھ آزاد نے 1933میں میانوالی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔1935میں ڈی․اے․بی کالج راولپنڈی سے انٹرمیڈیٹ میں کامیاب ہوئے اور 1937میں گارڈن کالج راولپنڈی سے بی․اے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جگن ناتھ آزاد نے لاہور کا سفر کیا۔ اس وقت لاہور علم و ادب کا گہوارہ تھا اور آج بھی اس کی اپنی الگ شناخت ہے۔ جگن ناتھ آزاد نے لاہورمیں 1942میں فارسی آنرز کیا اور پھر 1944میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارسی میں ایم․اے․ کیا۔ جگن ناتھ آزاد کے ادبی زندگی کا با ضابطہ آغاز لاہور سے ہی ہوتا ہے۔ یہاں انھیں ڈاکٹر شیخ محمد اقبال، ڈاکٹر سید عبداﷲ، صوفی غلام مصطفی تبسم، پروفیسر علیم الدین سالک اور سید عابد علی عابد جیسے اساتذہ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔

جگن ناتھ آزاد کی پہلی شادی 11دسمبر1940کو ہوئی۔ ان کی بیوی کا نام شکنتلا تھا اس بیوی سے پر ملا اور مکتا دو بیٹیاں ہیں۔ شکنتلا 1946میں بیمار ہو گئیں اور خاصا علاج کے باوجود صحت یاب نہ ہو سکیں اور اسی سال ان کا انتقال ہو گیا۔ بیوی کے موت کا آزاد پر بہت صدمہ ہوا۔ انھوں نے ’’شکنتلا‘‘، ’’ایک آرزو‘‘ اور ’’استفسار‘‘ نامی نظمیں بھی لکھیں۔1947میں تقسیم ہند کا اعلان ہوا اور اس کے ساتھ ہی افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور لوٹ مار کا بازار گرم ہو گیا، جو جہاں تھے وہیں اپنی جان و مال کی حفاظت میں لگ گئے۔ اس وقت جگن ناتھ آزاد لاہور میں اور ان کے والد تلوک چند محروم راولپنڈی میں مقیم تھے۔ باپ بیٹے کو کئی دنوں تک ایک دوسرے کی خیریت معلوم نہیں ہوسکی۔لیکن آزاد کے لیے ایک خوشی کا پہلوبھی تھا وہ یہ کہ قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان سے ان کا قومی ترانہ نشر کیا گیا ؂
ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
اے سر زمین پاک

جگن ناتھ آزاد کے خواب و خیال میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ جس سرزمین سے انھیں اتنی محبت ہے اسے خیر باد کہنا پڑے گا۔تقسیم وطن کے بعد ماحول اتنا خراب ہو گیا کہ آزاد نہیں چاہتے ہوئے بھی لاہور چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور ناچار دہلی آنا پڑا۔ لیکن وطن کی بے پناہ محبت اور کشش نے انھیں دوبارہ لاہور بلا لیا۔ لیکن حالات اتنے کشیدہ تھے کہ ان کے دوستوں نے انھیں واپس دہلی جانے کا مشورہ دیا اور پھر جگن ناتھ آزاد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان ہو گئے۔ بعد میں اپنے والد اور خاندان کے دوسرے افراد کو بھی دہلی لانے میں کامیاب ہوئے۔

دہلی آکر ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا تھا۔ لیکن جلد ہی انھیں ’’ملاپ‘‘ میں نائب مدیر کی ملازمت مل گئی۔ اس کے بعد ایمپلائمنٹ نیوز میں ملازمت کی اور پھر پبلی کیشنز ڈویژن میں اردو کے اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔یہاں ان کی ملاقات جوش ملیح آبادی سے ہوئی جو رسالہ ’’آجکل‘‘ (اردو) کے مدیر تھے۔ جوش ملیح آبادی کے علاوہ عرش ملسیانی،بلونت سنگھ اور پنڈت ہری چند اختر جگن ناتھ آزاد کے ہم منصب تھے۔ ان کی رفاقت سے آزادنے بہت کچھ سیکھا۔ بالخصوص جوش سے زبان کی صفائی اور باریکیاں سیکھیں۔

31جولائی 1948کو آزاد کی دوسری شادی وملا سے ہوئی۔ اس بیوی سے تین بچے ہیں سب سے بڑا بیٹا آدرس، چھوٹا بیٹا چندر کانت اور سب سے چھوٹی بیٹی پونم ہے۔

جگن ناتھ آزاد کا پہلا شعری مجموعہ ’’طبل و علم‘‘1948میں شایع ہوا۔ 1949میں دوسرا مجموعۂ کلام ’’بیکراں‘‘ شایع ہوا۔ جگن ناتھ آزاد 1955میں پبلک سروس کمیشن میں انفارمیشن آفیسر اردو)کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1941میں آزاد نے پریس انفارمیشن بیورو کے لیے دہلی میں ایک کامیاب اردو نمائش کا اہتمام کیا۔ آزاد کے والد تلوک چند محروم 1944میں انتقال کر گئے۔ والد کی موت کا آزاد پر بہت گہرا اثر پڑا ساتھ ہی گھر کی ذمہ داری بھی ان کے اوپر آ گئی۔

1968آزاد نے ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن آفیسر پریس انفارمیشن بیورو کے طور پر سری نگر کشمیر میں کام شروع کیا۔ وہ ڈائرکٹر پبلک ریلشنز کے طور پر 1977تک کام کرتے رہے۔1977میں ہی آزاد کو پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی کی پیش کش آئی جسے آزاد نے قبول کر لیا۔ اور 1977 سے 1983تک پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی اور ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ جموں یونیورسی کے عہدے پر فائز رہے۔ 1984سے 1989تک پروفیسر ایمریٹس فیلو کی حیثیت سے شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی میں رہے اور پھر 1989سے تا حیات اسی عہدے پر فائز رہے۔ بالآخر جگن ناتھ آزاد 24جولائی 2004کو اس دار فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کوچ کر گئے۔ اور اپنی بے شمار یادیں چھوڑ گئے۔ آزاد نے تقریباً تمام اہم ممالک کا دورہ کیا اور علم و ادب کے چراغ کو روشن کیا۔

جگن ناتھ آزاد کی شخصیت اپنے اندر بہت سی خصوصیات سمیٹے ہوئے ہے وہ بیک وقت شاعر،ادیب، صحافی، مترجم اور نثر نگار ہیں۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی لیکن اردو ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آزاد ایک انسان دوست اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے، وہ ہر ایک سے بے تکلف ہو جائے تھے لیکن اپنی انفرادیت بہر حال قائم رکھتے تھے۔آزاد بہت خوبصورتی سے طنز کا نشتر چھوڑتے تھے اور ہنسی مذاق کے ذریعہ اپنے دکھ اور دوسرے کے درد کو دور کرنے کی سعی کرتے تھے کسی کی دل آزادی کرنا ان کا مقصد نہیں تھا۔ ان کے والد بھی ایک اچھے انسان تھے کم و بیش وہی خصوصیات آزادکی شخصیت میں بھی جلوہ گر ہے۔تقسیم ہند نے ان کی شخصیت کو بہت متاثر کیا۔ بیوی کی وفات اور والد کی موت نے بھی آزاد کی شخصیت پر بڑے گہرے نقوش چھوڑے لیکن صبر و تحمل سے کام لے کر انھوں نے حالات کا سامنا کیا اور خود کو ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچا لیا۔ آزاد کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ سیکولر تھے۔ ان کی پوری شخصیت تعصب سے پاک تھی۔ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان جس کشمکش میں مبتلا تھے اس سے باہر نکالنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ’’بھارت کے مسلماں‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی۔ جسے بہت پسند کیا گیا اور علمی و ادبی حلقوں میں سراہا گیا۔بابری مسجد کے انہدام پر بھی ایک نظم لکھی۔ آزاد نے کبھی کسی کو مذہب کے آئینے سے نہیں دیکھا ان کے نزدیک انسانیت کا رشتہ ہی سب سے بڑا رشتہ ہے اور انھیں اصولوں پر وہ زندگی بھر کاربند رہے۔ آزاد صاحب کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے علمی و ادبی کارنامے کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ اس کا اعتراف بھی کیا گیا اور انھیں مختلف اہم اعزاز و ایوارڈسے نوازا گیا۔ مجموعی طور پر جگن ناتھ آزاد نے ایک بھر پور اور کامیاب زندگی گزاری جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 May, 2013 Total Views: 720 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr. Mohammad Yahya Saba

I have Good academic record with a Ph.D. Degree in Urdu “Specialization A critical study of Delhi comprising of romantic verse, earned Master’s Degree.. View More

Read More Articles by Dr. Mohammad Yahya Saba: 40 Articles with 51847 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB