ڈاکٹر جمیل جالبی ۔جب تلک بس چل سکے ساغر چلے

(Rashid Ashraf, Karachi)

انتظار حسین اپنی خودنوشت ’چراغوں کا دھواں[۱]‘ میں لکھتے ہیں:
’’ سلیم احمد اور میں نومبر ۴۷ ء کی ایک ٹھنڈی صبح مغلپورہ کے اسٹیشن پر ایک د وسرے سے بچھڑے تھے۔ اب گیارہ برس بعد مل رہے تھے۔ سلیم کو تو ۴۷ ء میں جیسا چھوڑا تھا،ویسا ہی پایا مگر وہ جو اس ٹولی کا دوسرا جوان تھا ،جمیل خان،جس نے آگے چل کر جمیل جالبی کے نام سے اپنی محققی کا ڈنکا بجایا وہ کتنا بدل گیا تھا۔ماشاء اﷲ کیا قد نکالا تھا۔جب میرٹھ میں دیکھا تھا تو نام خدا ابھی شاید مسیں بھی نہیں بھیگیں تھیں۔چھریرا بدن، گوری رنگت، پتلے پتلے ہونٹ،ستواں ناک، جیسی اچھی صورت ویسا اجلا لباس۔ میرٹھ کالج کا نیا دانہ۔ اب جو دیکھا نقشہ کچھ سے کچھ ہوچکا تھا۔لمبا قد، چوڑا چکلا بدن، چہرہ سرخ و سفید، کلے میں گلوری،ہونٹوں پر پان کی لالی،جیب میں پانوں کی ڈبیا اور قوام کی ڈبچی۔ کتنی جلدی جلدی مگر کس شائستگی سے جیب سے یہ ڈبیاں نکلتی تھیں۔
’’ ناصر صاحب! یہ پان لیجیے۔اور یہ قوام چکھئے۔‘‘
ناصر کاظمی کو جمیل خان کیا ملے، دونوں جہان کی نعمت مل گئی۔ فورا ہی مجھے اپنی رائے سے آگاہ کردیا۔
’’ یہ تہمارے جمیل صاحب شستہ آدمی ہیں۔‘‘
پانوں کی اس ڈبیا اور قوام اس کی ڈبچی نے ہمارے بہنوئی شمشاد حسین کو بھی متاثر کیا۔
’’ ارے میاں! تمہارے دوستوں میں بس یہی ایک جوان کام کا ہے۔ باقی تو سب مجھے یوں ہی سے لگتے ہیں۔‘‘

جمیل جالبی اصل میں اپنے دادا میاں کے ایک خستہ و بوسیدہ مخطوطے سے برآمد ہیں۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۴۸ ء میں نظام کے دفتر میں مجھے ایک مخطوطہ موصول ہوا۔پیلے بوسیدہ ورقے شکستہ خط میں لکھے ہوئے۔بھیجنے والا جمیل احمد خاں۔لکھا تھا کہ جالب دہلوی میرے دادا تھے۔یہ ان کا مخطوطہ ہے۔ اسے نظام میں قسط وار شائع کیا جائے تو کیا خوب بات ہوگی۔ پتا نہیں کتنی قسطیں چھپیں نظام میں۔،مگر میرا پھوہڑ پن یا محققانہ روایت سے ناآشنائی کہ اس مخطوطہ کو سنبھال کر نہیں رکھا۔ ہاں اور ابھی اس مخطوطہ کی اشاعت کی ذمہ داری سے عہدہ برآں نہیں ہوا تھا کہ ایک اور مخطوطہ موصول ہوا۔یہ خود جمیل خاں کا مخطوطہ تھا۔ سفید اجلے اوراق جمیل خاں کی خوش نما تحریر۔ موضوع پاکستانی کلچر ۔شایداس کی بھی کچھ قسطیں نظام میں چھپی تھیں۔زمانے بعد جمیل خاں نے مجھ سے ان دونوں مخطوطوں کا تقاضہ کیا۔مگر مجھ کم فہم سے ان مخطوطوں کی قدر و قیمت جاننے میں چوک ہوئی۔ اپنی لاپروائی سے انہیں گم کردیااور جمیل خاں پر اس کا رد عمل کیا ہوا۔ اپنے لکھے کو تو انہوں نے دوبارہ لکھ ڈالا اور شاید اب مطالعہ اور غور و فکر کے بعد زیادہ سمجھداری سے لکھا۔ یوں ان کی کتاب ’پاکستانی کلچر‘ منصہ شہود پر آئیْ۔باقی دادا کے مخطوطے کی گمشدگی کا جواب انہوں نے اس طرح دیا کہ اسی طرح کے خستہ و بوسیدہ کرم خوردہ مخطوطے تحقیق کرکے برآمد کرنے شروع کردیے اور جلد ہی نقاد سے محقق بن گئے۔ اسے دادا میاں کا فیضان کہنا چاہیے کہ ان کے ایک مخطوطے کی گمشدگی نے ان کے لیے قمچی کا کام دیا۔ پھر ایسے مخطوطات دریافت کرنا ہی ان کا فن ٹھہرا۔ دادا کے احسان کا بدلہ انہوں نے اس طرح دیا کہ ان کے نام کو اپنے نام کے ساتھ چسپاں کرلیا اور جمیل خاں سے جمیل جالبی بن گئے۔ ‘‘ (انتظار حسین)

مذکورہ بالا اقتباس میں انتظار حسین نے جمیل جالبی کے دادا سید جالب دہلوی کا ذکر کیا ہے۔جمیل احمد خاں ، سید جالب دہلوی سے متاثر تھے، سو خود کو جمیل جالبی کہلوایا۔ ان کے داداسید جالب دہلوی معلومات کا خزانہ تھے، چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا۔ نصر اﷲ خاں مرحوم بیان کرتے ہیں ’’ اگر آپ نے خدا نخواستہ جالب دہلوی صاحب سے یہ پوچھ لیا کہ حقہ کس نے ایجاد کیا ہے تو پھر اﷲ دے اور بندہ لے۔ وہ تھے کہ پوری تاریخ اس کے تمام اجزاء کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتائیں گے۔ ‘‘ ۔۔۔۔ سید جالب دہلوی کے شاگردوں میں دیوان سنگھ مفتوں کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ دیوان سنگھ کی کامیابیوں کو دیکھ کر ایک مرتبہ جالب دہلوی نے ان کے بارے میں کہا تھا ’’ میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ کامیاب دیوان سنگھ ہے۔ اس کی کامیابی پر مجھے فخر ہے۔ ‘‘

ایک شام کومکرمی سید معراج جامی کے ہمراہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ کیا اسے ایک سیر حاصل ملاقات کہا جاسکتا ہے ؟ وہ تو علم کا سمندر کہلائے جانے والے نادر روزگار لوگوں سے اس طور کی جاتی ہے کہ طالب علم سوال پوچھے اور علم کا سمندر رواں ہو۔وہاں تو یوں ہوا کہ ڈاکٹر صاحب ویل چئیر پر تشریف لائے اور ایک گھنٹہ اپنے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں زیادہ تر چپ چاپ بیٹھے رہے۔ ان کی سماعت میں خلل واقع ہو ا ہے۔ وہ ہمارے سوال کا جواب آہستگی سے دیتے تھے جو بہت غور کرنے سے سمجھ میں آتا تھا۔ ہماری کہی ہوئی باتیں ، کئی سوال وہ سننے سے قاصر رہے۔ ہم تمام وقت ان کے انتہائی قریب بیٹھے رہے۔ہمارے ساتھ امین ہاشم بھی تھے جو پرانی کتابوں کے اتوار بازار کے ساتھی ہیں ۔یہ ڈاکٹر جمیل جالبی پر لکھی کتابیں اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ کانپتے ہاتھوں سے ڈاکٹر صاحب نے ان پر دستخط کیے۔ شہر کراچی کا وہ قابل عزت شخص جو علم کا سمندر کہلاتا تھا ، لکھنے پڑھنے میں ہمہ وقت مصروف رہتا تھا، اب اس حال میں ہے کہ پڑھنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے، لکھنا تقریبا چھوٹ چکا ہے۔ اس اولین ملاقات کے بعد ڈاکٹر صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ رکا نہیں،جاری رہا ۔ راقم اپنی کتاب ’’ابن صفی ۔شخصیت اور فن‘‘ پر ڈاکٹر صاحب کی رائے کے حصول کے لیے حاضر ہوا۔ انہوں نے خندہ پیشانی سے ابن صفی مرحوم پر اپنی رائے لکھوائی۔ ہماری نظر میں یہ ایک بلند پایہ انسان کا ایک دوسری نابغہ روزگار شخصیت کو خراج تحسین بھی قرار پایا۔

راقم نے مضمون کے آغاز میں جمیل جالبی کے بارے میں انتظار حسین کا بیان نقل کیاہے۔’’لمبا قد، چوڑا چکلا بدن، چہرہ سرخ و سفید، کلے میں گلوری،ہونٹوں پر پان کی لالی،جیب میں پانوں کی ڈبیا اور قوام کی ڈبچی‘‘۔۔۔۔۔ انتظار حسین کے بیان کردہ حلیے و نقشے پر اس عمر میں بھی ڈاکٹر صاحب پورے اترتے ہیں حتی کہ چہرے کی رنگت اور ہونٹوں پر پان کی لالی بھی تراسی برس کی عمر میں بھی ویسے کی ویسی ہے۔وضع داری تو دیکھیے کہ تصویریں بنواتے وقت مجال ہے کہ ان کی نگاہیں کیمرے کی جانب اٹھی ہوں۔ بلکہ سر اور چہرہ کچھ اور جھک جھک جاتا تھا۔ جیسے شرمندہ ہورہے ہوں۔

جمیل جالبی کی وضع داری پر تو مرزا ادیب بھی فریفتہ تھے۔اپنے مضمون ’دیو قامت‘ [۲]میں مرزا ادیب نے ایک واقعہ بیان کیا ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب صدر ایوب خان نے مغربی پاکستان کے چند ادیبوں کو مشرقی پاکستان کے دورے پر بھیجا تھا ۔مرزا ادیب لکھتے ہیں: ’’ ہم ڈھاکہ سے گاڑیوں میں لد لدا کر ایک سری گاہ کی طرف جارہے تھے۔میں، جمیل جالبی ،طفیل احمد جمالی،چار پانچ اور دوسرے احباب ایک ویگن میں سوار تھے۔گاڑیاں تیزی سے جارہی تھیں۔ہمارا ڈرائیور شکل و صورت سے افیمی معلوم ہوتا تھا۔ایک جگہ اس نے گاڑی کو بریک جو لگائی تو ساری سواریاں اپناتوازن برقرار نہ رکھ سکیں ، اچھل پڑیں ۔اچھل کر گاڑی کے اندر ہی رہیں لیکن جالبی صاحب نیچے گر پڑے۔ ہم سب جلدی سے نیچے اترے ،انہیں بڑی مشکل سے گاڑی کے اندرلے گئے اور لٹا دیا۔ ان کا رنگ وفور درد سے پیلا پڑ گیا تھا، نیم بے ہوش سے نظر آتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ان کے لبوں کو حرکت ہورہی ہے۔ چہرے پر جھکا تو ایک لفظ میرے کانوں میں پڑا۔یہ لفظ تھا ’’شکریہ‘‘۔۔۔سخت حیر ت ہوئی کہ یہ شخص درد سے مرا جارہا ہے مگر ایسے میں شکریہ کا لفظ نہیں بھولا۔یہ وہ شائستگی ہے جو لال قلعے کے سائے میں پلی بڑھی تھی۔ یہ وہ وضع داری ہے جو سرزمینِ میر و غالب سے پھوٹی تھی۔جالبی صاحب کی کمر پر ضرب لگی تھی اور شدید طور پر لگی تھی۔ بیٹھنا ان کے لیے محال تھا۔ان دنوں مجھے ان کے تحمل اور صبر کا اندازہ ہوا۔ سخت اذیت کے عالم میں بھی ان کے ہونٹوں سے کراہ نہ نکلی ۔بڑی تکلیف سہنے کے بعد کہیں چلنے پھرنے کے قابل ہوئے۔

ڈاکٹر جمیل جالبی ۱۲ جون ۱۹۲۹ کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔سرکاری ریکارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش یکم جولائی ۱۹۲۹ درج ہے۔۱۹۴۳ میں میٹرک کا امتحان سہارن پور کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے پاس کیا۔ میرٹھ کالج سے ۱۹۴۵ میں ایف اے اور ۹۴۷ا میں بی اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔۱۹۴۷ میں پاکستان چلے آئے۔یہاں سے ایم اے ، ایل ایل بی ، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی اسناد حاصل کیں۔جمیل جالبی نے ایل ایل بی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں سندھ یونیورسٹی جامشورو سے حاصل کیں۔ جمیل جالبی کو ڈی ایس سی کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔ جالبی صاحب کراچی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد کے صدر نشین بھی رہ چکے ہیں اور متعدد اہم اداروں کے رکن بھی رہے ہیں۔

جمیل جالبی نے کئی کتابیں لکھیں اور مرتب کیں۔ایسی چند تصانیف بشمول لغات و تراجم میں تاریخ اردو ادب (چار جلدیں)،ادبی تحقیق،بوطیقا از ارسطو ، بزم خوش نفساں، ن م راشد۔ایک مطالعہ، کلیات میرا جی، میرا امن۔ایک مطالعہ، فرہنگ اصلاحات جامعہ عثمانیہ،میرا جی ایک مطالعہ، ہند و پاک میں اسلامی کلچر،ہند وپاک میں اسلامی جدیدیت، پاکستانی کلچر، قدیم اردو کی لغت، قلندر بخش جرات، محمد تقی میر، ادب، کلچر اور مسائل، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ،تنقید اور تجربہ، دیوان نصرتی، دیوان حسن شوقی، نئی تنقید، بارہ کہانیاں، حیرت ناک کہانیاں، ایلیٹ کے مضامین ،ارسطو سے ایلیٹ تک،برصغیر میں اسلامی جدیدیت اور برصغیر میں اسلامی کلچر شامل ہیں۔ جمیل جالبی کو حکومت کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور ہلال دیا جاچکا ہے۔

نصر اﷲ خاں اپنے مضمون ’’وضع دار آدمی‘‘ [۳]میں لکھتے ہیں:
’’ میں اس زمانے کی بات کررہا ہوں جب شاہد احمد دہلوی ِ،حسن عسکری، ڈاکٹر غلام مصطفی خان، جمیل جالبی، سلیم احمد اور میں خود پیر الہی بخش کالونی میں رہتے تھے۔پیر کالونی اس وقت شہر کے معززین کی آماجگاہ تھی۔ سارے برصغیر سے آنے والے اکثر یہیں آکر قیام کرتے تھے۔شام ہوتی تو لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ،دور دراز سے آکر ایک جگہ اکھٹا ہونے والوں سے ملنے نکل جاتے۔اکثر جمیل جالبی سے شاہد صاحب کے گھر پر یا بس اسٹاپ کے آس پاس ملاقات ہوجاتی اور ہم گھنٹوں باتیں کرتے تھے۔بولنے کا کام میں کرتا تھا اور سننے کا کام جالبی کرتے تھے۔کبھی ہم اپنے محلے کے گلی کوچو ں میں چہل قدمی کرنے لگتے۔جالبی صاحب کو جس گھر سے رات کی رانی کی خوشبو آتی تو یہ بلا تامل اپنی لمبی سی گردن اس گھر کی دیوار پر رکھ کر ساری خوشبو ایک سانس میں کھینچ لیا کرتے تھے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ دن کے راجہ کو اس کی خبر نہ ہوئی ورنہ قیامت گزر جاتی۔ یہ اس وقت کی باتیں ہیں جب ان کے گھر میں رات کی رانی نہ آئی تھی۔ جمیل جالبی وضع دار اور محبت ومروت والے بڑے بھلے آدمی ہیں۔اگر آدمی حالی ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑا شبلی بھی ہو اور اکبر الہ آبادی میں تھوڑے سے سرسید احمد خان اور ملا دیے جائیں تو شکل ہی کچھ اور نکل آتی ہے۔‘‘

جمیل جالبی کا کتب خانہ ایک یکتا روزگار کتب خانہ ہے۔ کتابوں کو محبت سے سینت سینت کر رکھنا تو کوئی ان سے سیکھے۔بقول نصر اﷲ خاں ’’ جمیل جالبی ریشم کے کیڑوں کی جگہ کتابوں کے کیڑے پالتے ہیں۔اگر انہیں ان کی پسند کی کرم خوردہ کتاب نہیں ملتی تو یہ کتاب کی جگہ اس کتاب کے کیڑے حاصل کرلیتے ہیں اور پھر ان کیڑوں کا پیٹ چاک کرکے اس میں سے اصل کتاب حاصل نکال لیتے ہیں۔‘‘

جمیل جالبی کے ایک بے تکلف دوست صادق حسین کو ان سے ایک تعلق خاطر تھا۔ اپنی یادوں کی قلم بند کرتے ہوئے وہ اپنے مضمون ’’ ڈاکٹر جمیل جالبی ‘‘ [۴]میں لکھتے ہیں:
’’قدرت نے انہیں ایک مقدس فریضہ سونپ کر کراچی بھیجا۔ میری جواں سال بیٹی نرگس کا تابوت طرابلس سے آرہا تھا اور جمیل جالبی کو نرگس کا استقبال کرنا تھا۔وہ بیٹی جو مسکراتی ہوئی اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے طرابلس روانہ ہوئی تھی، اب کارگو کی صورت میں واپس آرہی تھی۔ تابوت کے ہمراہ میری دو نواسیاں بھی آرہی تھیں۔ وہ بہت چھوٹی تھیں۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کی ماں سو رہی ہے۔ نرگس سچ مچ سو رہی تھی ۔موسم سرما کی دھوپ میں تابوت کراچی پہنچا تو جمیل جالبی نے ٹیلی فون پر اطلاع دی۔’بیٹی کراچی پہنچ گئی ہے۔‘
’شہلا اور نبیلہ‘‘ میں نے پوچھا۔
’ وہ میرے گھر دوسرے بچوں کے ساتھ دھوپ میں کھیل رہی ہیں۔‘ جواب ملا۔
شام کی پرواز سے طیارہ اسلام آباد روانہ ہوا تو جمیل جالبی نے میری نواسیاں ابن انشاء کے حوالے کردیں جو اسی پرواز سے اسلام آرہے تھے۔میں نے دیکھا کہ ابن انشاء میری ایک نواسی کو گود میں اٹھائے اور دوسری کو انگلی سے پکڑے جہاز کی سیڑھیوں سے اتر رہے ہیں۔ جمیل جالبی کی دی ہوئی امانت ابن انشاء نے میرے سپرد کردی۔ ابن انشاء کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا۔وہ خاموشی بڑی گھمبیر تھی۔ابن انشاء مرگئے مگر آج بھی وہ اسی طرح میری ایک نواسی کو گود میں اٹھائے اور دوسری کو انگلی سے پکڑے جہاز کی سیڑھیوں سے اتر رہے ہیں ۔یہ تصویر ہمیشہ زندہ رہے گی۔جمیل جالبی کی آواز میرے کانوں میں سدا گونجتی رہے گی۔ ’ بیٹی کراچی پہنچ گئی ہے۔شہلا اور نبیلہ دوسرے بچوں کے ساتھ دھوپ میں کھیل رہی ہیں‘ ۔۔۔۔۔ سردیوں کے اس دن کی دھوپ گواہی دیتی رہے گی کہ ایک شخص نے دوسرے کے دکھ کو کتنی شدت سے پہچانا۔اس درد کو اپنا درد سمجھا اور اس طرح وہ انسان دوستی کے جذبے کا بے لوث ثبوت دے کر کندن بن گیا۔‘‘

ڈاکٹر جمیل جالبی تحقیق کے میدان کے ایک نامور شہسوار ہیں۔ بحیثیت ایک محقق ، وہ اپنے مسلک و طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر گوہر نوشاہی کو ۱۹۹۲ میں دیے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں : ’’ تحقیق میں مسلک،اگر اسے مسلک کہا جاسکتا ہے تو، یہ ہے کہ میں کسی امر کی تحقیق میں ادبی مآخذ تک خود کو محدود نہیں رکھتا بلکہ غیر ادبی مآخذپر بھی پوری توجہ دیتا ہوں تاکہ حقیقت کا سرا ہاتھ آسکے۔ میں یہاں ایک مثال دیتا ہوں۔تذکرہ ہندی میں مصحفی نے لکھا ہے کہ جب عہد محمد شاہ میں ولی دکنی کا دیوان دہلی پہنچا تو اس کی غزلیں چھوٹے بڑوں کی زبان پر جاری ہوگئیں اور لوگ ولی کے ریختے گلی کوچوں میں پڑھنے لگے۔کام کرتے ہوئے تجسس پیدا ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے دیوان شمالی ہند پہنچے اور وہ آگ کی طرح گلی کوچوں میں پھیل جائے ؟ ۔اس کا جواب کسی تذکرے یا کسی اور دیوان یا کسی ادبی حوالے میں نہیں ملا۔ اتفاق سے اسی زمانے میں مرزا محمد حسین قتیل کی تصنیف ’ ہفت تماشا‘ پڑھ رہا تھا۔ اس میں قتیل نے ایک جگہ لکھا تھا کہ کائستھ ہولی کے زمانے میں،نشے کی حالت میں،گلستان بوستان اور ولی کے ریختے پڑھتے ہوئے گلی کوچوں سے گزر تے تھے۔تذکروں میں

صرف مصحفی نے شاہ حاتم کے حوالے سے یہ بات لکھی تھی جس کی تصدیق ایک غیر ادبی مآخذ سے ہوئی۔تو یہ طریقہ کار تحقیق کے لیے مفید بھی ہے اور مناسب بھی۔‘‘

ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ بڑا ادیب بچوں کے لیے لکھنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے ،چہ جائیکہ ایک کھرا محقق یہ رستہ چنے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی تمام تر تحقیقی مصروفیات کے باوجود اس جانب بھی خوب توجہ دی۔ ننھے بچوں کے لیے جمیل جالبی نے جو کہانیاں لکھیں ان میں بید کی کہانیاں،بلیاں،حضرت امیر خسرو،چھن چھن چھن چھن،عجیب واقعہ اور نئی گلستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فسانہ آزاد کے مزاحیہ کردار خوجی پر مبنی داستان ’خوجی پر کیا گزری‘ عنوان سے رسالہ ’ہونہار ُکے لیے قسط وار لکھی جبکہ ان کی ایک طویل کہانی ’حیرت ناک کہانیاں‘ کے عنوان سے ۱۹۸۳ میں شائع ہوئی۔ ’خوجی پر کیا گزری ‘کی کل ۶۶ اقساط شائع ہوئیں۔ستمبر ۱۹۸۴ میں یہ سلسلہ اپنی آخری یعنی ۶۶ ویں قسط کے ساتھ اختتام کو پہنچا تھا۔خوجی پر کیا گزری سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو جو ڈاکٹر محمود الرحمان کے مضمون ’ڈاکٹر جمیل جالبی۔بچوں کے ادیب‘ سے لیا گیا ہے:
’’ کیا آپ خواجہ صاحب کو یاد نہیں کریں گے ؟ وہ آپ کے لیے سیر و تفریح اور لطف کا کیسا کیسا
سامان بہم پہنچا رہے تھے۔اگر خوجی صاحب آپ کو کہیں مل جائیں (اور دیکھیے انہیں خواجہ صاحب کہنا
نہ بھولیے گا) تو آپ آزاد کو ضرور بتا دیجیے گا۔آپ کی طرح مجھے بھی خوجی کی تلاش ہے۔نہ ہوئی قرولی
کی آوازمیرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ہمارا کتنا اچھا وقت ان کے ساتھ گزرا۔وہ جہاں بھی ہوں،
خدا انہیں خوش رکھے۔خدا حافظ خوجی صاحب۔خدا حافظ‘‘

جمیل جالبی اور شاہد احمد دہلوی کی گاڑھی چھنتی تھی۔ دونوں یک جان دو قالب رہے۔ دونوں ہر مشورے میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے اور جہاں جاتے، ساتھ جایا کرتے تھے۔جمیل جالبی نے شاہد دہلوی کے مضامین کا مجموعہ ’ بزم خوش نفساں ـ ‘ کے نام سے مرتب کیا تھا۔مذکورہ کتاب میں اپنے عزیز دوست پر لکھے تعارفی مضمون کے اسلوب کو ملاحظہ کیجیے کہ یہاں ہمیں جمیل جالبی کی خاکہ نگاری کی ایک دلکش جھلک بھی نظر آتی ہے:

’’ شاہد صاحب میں سب سے بڑی بات ان کی سادگی ہے۔جھوٹی عزت ان کو پاس سے چھو کر نہیں گزری۔ تہبند باندھے چلے آرہے ہیں۔کھل کر باتیں کررہے ہیں۔نہ کسی کی برائی، نہ کسی کی غیبت ۔سب پر فقرے چست کریں گے۔ سب کا ذکر کریں گے۔مزاہ لیں گے۔مذاق اڑائیں گے۔جس قسم کی صحبت میں بیٹھیں گے،اس میں گھل مل جائیں گے۔بڈھوں میں بڈھے، جوانوں میں جوان اور بڑوں میں بڑے۔ہر ایک کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں۔ ہر ادیب کا ذکر کریں گے۔اپنی ملاقات کی تفصیل سنائیں گے۔ لچھے دار انداز میں گفتگو کریں گے۔خود بھی ہنسیں گے اور سننے والوں کو بھی ہنسائیں گے۔ گھنٹوں چخ رہے گی۔
خدا انہیں کروٹ کروٹ چین دے۔صحیح معنوں میں ایک بڑے آدمی تھے۔ ایک تاریخ ساز مدیر تھے۔ ایک صاحب طرز ادیب تھے جن کی یادیں میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔اب نہ شاہد صاحب ہیں اور نہ ساقی ہے لیکن ان کی تحریریں آج بھی ہمارے ذوق ادب کو سیراب کررہی ہیں۔
شاہد صاحب ۱۹۰۶ میں پیدا ہوئے۔دلی میں پلے بڑھے۔بچپن جوانی وہیں گزرا۔بال سفید ہوئے تو پاکستان آگئے۔۱۹۴۷سے پیر الہی کالونی میں مقیم ہیں۔یہیں ساقی کا دفتر ہے۔دلی میں سکون تھا، آسودگی تھی۔کراچی میں نہ سکون ہے نہ آسودگی۔بڑا کنبہ ہے۔ پیٹ پالنے کے لیے اپنی ساری صلاحیتوں کو وضع داری سے بروئے کار لاتے ہیں ۔کبھی گا کر کماتے ہیں، کبھی لکھ کر۔زمانے کی نیرنگیاں ہیں۔سدا زمانہ ایک سا نہیں رہتا۔ اب وہ ہیں اور ریڈیو پاکستان۔اگر کبھی ریڈیو پاکستان سے اور ایک ایسے شخص کو دیکھیں جو ڈھیلی ڈھالی شیروانی پہنے،جس کے ایک یا دو بٹن لگے ہوں، سیاہ رنگ ہو، آنکھوں پر چشمہ ہو، بیڑی منہ میں ہو،سر پر سیاہ یا گہرے کتھئی رنگ کی جناح کیپ ہو۔ذرا دائیں طرف کو جھکی ہوئی، بائیں طرف سے اٹھی ہوئی اور وہ شخص کسی کا بازو پکڑے یا کندھے پر ہاتھ رکھے ،چشمہ سے جھانکتی ہوئی چمک دار آنکھوں سے سامنے دیکھتے ہوئے ،چھوٹی مہری کا پاجامہ پہنے ،جس کے پا ئنچے کی مہری کے ڈورے نکلے ہوں اور ہلکا سا کشیدہ کاری کا جال بنا ہو،نیو کٹ کا جوتا ہو، تو سمجھ لیجیے کہ شاہد احمد دہلوی ہیں۔دلچسپ انسان ،فاضل مدیر،بہترین مترجم، صاحب زبان،دلی والے۔۔۔۔اور جب ۲۷ مئی ۱۹۶۷ کی صبح کو ٹیلی فون پر ایک صاحب نے جنازے میں شرکت کے لیے ان کا پتہ پوچھا تو میں ان کو پتا نہ بتا سکا۔‘‘

جمیل جالبی کے فن و شخصیت سے متعلق چند مشاہیر ادب کی آراء پیش خدمت ہیں:
۔۔ڈاکٹر جمیل جالبی ایک منکسر المزاج عالم ہیں جن کی زندگی نئی نسل کے لیے قابل تقلید ہے اور جن کے ادبی کارنامے اردو کا بیش بہا خزانہ ہیں۔(ڈاکٹر خلیق انجم)
۔۔اور اب میری مستقل رائے ہے کہ جمیل جالبی صاحب،حالی سے لے کر آج تک کے تمام اردو تنقید نگاروں میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔(ڈاکٹر محمد احسن فاروقی)
۔۔علمی تحقیقی مہمات کو سر کرنے کے لیے جس تحمل، استعداد، محنت اور منطقی ذوق کی ضرورت ہے وہ سب چیزیں ڈاکٹر جمیل جالبی کی ذات میں یکجا ہوگئی ہیں۔(رئیس امروہوی)
۔۔جالبی صاحب کی تحقیق میں بھی ایک تخلیقی رنگ و آہنگ پایا جاتا ہے۔یہ انداز اردو کے بہت کم محققوں کو نصیب ہوا ہے۔(ڈاکٹر عبادت بریلوی)
۔۔ڈاکٹر جمیل جالبی کی ’تاریخ اردو ادب‘ میں معلومات کے انبار لگے ہیں۔کوئی محقق ایسا نہ ہوگا جسے اس کے مطالے سے متعدد نئی معلومات نہ ملیں۔ کوئی نقاد ایسا نہ ہوگا کسے اس کے تنقیدی بیانات سے رہبری و روشنی نہ ملے۔یہ تاریخ اردو ادب، اب تک کی بہترین تاریخ ہے۔ (ڈاکٹر گیان چند)
۔۔۔جمیل صاحب جالبی، چشم بدور، نکیلے جوان اور طباع انسان ہیں۔ان کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور ان کے لہجے میں شرافت کی کمک پائی جاتی ہے۔ قدرت نے ان کو سخن فہمی اور بذلہ سنجی کا جوہر بھی عطاء کیا ہے اور برمحل صحیح بات کہنے کی صلاحیت بھی دی ہے۔ ان کی شخصیت میں جاذبیت اور ان کی عقل میں تابانی کا امتزاج یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ :

خدا کے فضل سے یوسف جمال کہلائے
اب اور چاہتے کیا ہو،پیمبری مل جائے ؟ (جوش ملیح آبادی)

بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ اردو نثرمیں تحقیق کی پرشکوہ عمارت جن ستونوں پر قائم ہے ان میں سے ایک ڈاکٹر جمیل جالبی بھی ہیں۔ یہ ستون اب بمثل ستون لرزاں ہے۔خدا اس کا سایہ تادیر اہل تحقیق اور اردو سے محبت کرنے والوں کے سروں پر سلامت رکھے۔

حوالاجات:
[۱]۔چراغوں کا دھواں۔ناشر: سنگ میل لاہور۔سن اشاعت: ۱۹۹۹
[۲]۔ڈاکٹر جمیل جالبی ۔ایک مطالعہ۔مرتبہ: ڈاکٹر گوہر نوشاہی۔ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔نئی دہلی۔ سن اشاعت: ۱۹۹۳
[۳]۔ایضاـ َ
[۴]۔ایضاـ
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
22 Sep, 2013 Total Views: 2007 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Rashid Ashraf

Read More Articles by Rashid Ashraf: 107 Articles with 104290 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB