نائیک سیف علی خان جنجوعہ

(Raja Muhammad Attique Afsar, Peshawar)

نشان حیدر کا حامل گمنام سپاہی

نائیک سیف علی خان جنجوعہ کھنڈباز(کھنڈہار) تحصیل نکیال (کوٹلی آزاد جموں و کشمیر ) میں 25 اپریل 1922 میں پیدا ہوئے. وہ 18 مارچ 1941 کو برٹش انڈین آرمی میں انجینئرز کی رائل کور میں بھرتی ہو‎‎‏ئے. 1947 میں برٹش انڈین آرمی میں اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر واپس آئے اور سردار فتح محمد کریلوی کے تعاون سے حیدری فورس قائم کرنے کا آغاز کیا.یکم جنوری 1948 ، حیدری فورس کو بعد ازاں لیفٹیننٹ کرنل محمد شیر خان کے حکم کے تحت " شیر ریاستی بٹالین " میں بدل دیا گیا.بعد میں ریاست کے دیگر علاقوں کی تنظیمات کو یکجا کر کے آزادکشمیر ریگولر فورس اور پھر آزاد کشمیر رجمنٹ میں بدل دیا گیا۔

آپ کی جرات، لگن اور مقصد سےدلی وابستگی کے اعتراف پر آپ کو نائیک کے عہدے پہ تعینات کر کے پلاٹون کمانڈر بنایا گیا. آپ نے پیشہ وارانہ مہارت اورباہمی مشاورت کی اعلی مثالیں قائم کیں اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ آپ کی پلاٹون کوبڈھاکھنا کا دفاع کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی جہاں آپ کودشمن کی مشین گن کی مسلسل فائرنگ کا دوبدوسامنا کرنا پڑا. آپ نے اپنے چند جوانوں کے ساتھ مل کراپنی قائم کردہ پوسٹ کا بے جگری اور پا مردی سےدفاع کیا اور دشمن کے جارحانہ منصوبوں کو ناکام بنایا اور انہیں ناکوں چنے چبوائے. دشمن نے پوسٹ پر قبضہ کرنے کےلیئے اپنی دو کمپنیوں کے ساتھ بھرپورحملے اور بھاری گولہ باری کی لیکن آپ کے ج‍ذبہ شہادت اور عزم مصمم نےدشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا. بہادری اور جرات کی ذاتی مثال قائم کرتے ہوئے تمام مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے جوانوں کی قیادت کی اور پوسٹ پر ثابت قدم اور چٹان کی طرح قائم رہے. کارروائی کے دوران ، دشمن کی طرف سے توپ کا گولہ آپ کے سینے پہ لگا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی پوسٹ پہ سیسہ پلائی دیوارکی طرح قائم رہے اور بھارتی حملہ آوروں کے ہاتھ مایوسی کے سوا کچھ نہ آیا . شدید چوٹوں کی وجہ سے آپ نے 26 اکتوبر 1948 کو شہادت کا وہ جام پی ہی لیا جس کے آپ تمنائی تھے .

14 مارچ 1949 ، کوآزاد جموں و کشمیر کی دفاعی کونسل نے آپ کی جرات اور بے مثال فرض شناسی کے اعتراف میں آزادکشمیر کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ہلال کشمیر (بعد از شہادت) سے نوازا۔ بعد ازاں حکومت پاکستان نے اپنے گزٹ نوٹیفکیشن 1995 ء میں ہلال کشمیر کو نشان حیدر کے مساوی کرنے کاعلان کیا . آپ کا مزار آپ کے آبائی گا‎ؤں میں واقع ہے۔

میڈیا پہ آپ کا تذکرہ کم ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگ آ پ کے نام ، کارناموں اور اعزاز سے واقف ہے ۔ تاہم انٹرنیٹ اور سوشل ‏میڈیا نے آپ کو پردہ اخفا سے باہر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حکومت پاکستان نے آپ کی لازوال قربانی کی یاد میں 30 اپریل 2013 کو ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا ہے جو محکمہ ڈاک سے دستیاب ہے۔آپ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے بعض اہل دانش افراد آپ کے نام سے رفاہی اور علمی ادارے بھی چلا رہے ہیں۔ آپ بلا شرکت غیرے آزاد کشمیر کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ہلال کشمیر کے حامل ہیں۔ ہلال کشمیرچونکہ نشان حیدر کے مساوی ہے لہذا کل گیارہ افراد نشان حیدر کے وصول کنندہ ہیں. نائیک سیف علی جنجوعہ آزاد کشمیر کے واحد نشان حیدر وصول کنندہ ہیں.
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
25 Oct, 2013 Total Views: 853 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Raja Muhammad Attique Afsar

Read More Articles by Raja Muhammad Attique Afsar: 41 Articles with 16601 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Its a great effort for highlighting such a great hero.in my opinion a chapter regarding thier life , efforts and great achievement should be included in the course of text books especially of AJK board schools like those in Pakistan text books under the name of nishane-haider, so that our people become aware of this great gumnaam hero also and should admire his sacrifice. Although Allah Almighty is the only best admirer of all sacrifices and all our sacrifices are purely for him. But the nations who remember and follow their heroes never die and vice versa.May Allah bless his rest his soul in peace .Keep writing and beawaring the people. Regards

Saima tabasum
Pharmacist
By: saima tabasum, peshawar on Oct, 29 2013
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB