ننگرپارکر میں ہرن کے شکار پر مجموعی طور پر 9 ملزمان کے خلاف 2 مقدمات درج کرلیے گئے۔
ننگر پارکر میں کوڑکی لگا کر مادہ ہرن کا شکار کرنے پر سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 2020 کے تحت سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن پولیس اسٹیشن مٹھی میں انسپیکٹر محمد عثمان کی مدعیت میں کیول ولد اوکو اور گینو ولد اوکو کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرلیا گیا۔
تھرپارکر میں ہرن کا شکار کرنے پر 7 ملزمان دین محمد جونیجو، صاحب ڈنو، کرشن، کیول، گونو، ھيمراج، جیٽمل کے خلاف سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 2020 کے تحت سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن پولیس اسٹیشن مٹھی میں انسپیکٹر محمد عثمان کی مدعیت میں آج کا دوسرا فوجداری مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی گئی۔ کیسز کا ٹرائل بعدالت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس جج تھرپارکر کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ضلع تھرپارکر میں ہرن سمیت کسی بھی قسم کا کا شکار کرنا ممنوع، غیرقانونی اور قابل سزا عمل ہے جبکہ قوانین کے تحت مادہ جانور کا شکار کرنے پر جرمانہ اور سزا بھی زیادہ ہے۔