جنوبی وزیرستان میں خارجی دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں معروف عالمِ دین مولانا حافظ سلطان محمد شہید ہوگئے۔ واقعہ جنوبی وزیرستان کے ایک قبائلی علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے مولانا حافظ سلطان محمد کو نشانہ بنایا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مولانا حافظ سلطان محمد اپنے معمول کے مطابق علاقے میں موجود تھے کہ اسی دوران دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔ لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مولانا حافظ سلطان محمد کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، جبکہ عوامی و مذہبی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ علما کرام کا کہنا ہے کہ بے گناہ علما کو نشانہ بنانا دراصل امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ خارجی دہشت گرد عناصر نے کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
دوسری جانب مقامی عمائدین اور سیاسی و سماجی شخصیات نے مولانا حافظ سلطان محمد کی شہادت کو بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنائی جائے اور علما و شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔