نیب میں فوجی افسران کامعاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد

12 Jan, 2017 اب تک
نیب میں فوجی افسران کامعاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپردسپریم کورٹ نے نیب میں موجود فوجی افسران کا معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کرتے ہوئے تقرریوں، تبادلوں اور ڈیپوٹیشن سے متعلق ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا ہے کہ نیب نے کام نہ کرنے کابیڑہ اٹھا رکھا ہے، عدالت جب نوٹس لیتی ہے تو نیب حرکت میں آجاتا ہے۔جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نیب میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وکیل حشمت حبیب نے عدالت کو بتایا کہ نیب افسران کو دھمکیوں کے باعث اصل کام میں رکاوٹیں آتی ہیں، انسداد کرپشن کیلئے نیب افسران کی زندگی کو درپیش خطرات کے ازالے کیلئے بھی اقدامات کیے جائیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے نیب پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ صاحب سرکاری وکلا کی موجودگی میں آپ کو نجی کونسل کے طور پر کیوں تقرر کیا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل اور نیب کے پاس وکلا کی موجودگی میں آپ کو وکیل کیوں کیا گیا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ فوج سے نیب میں آنے والے افسران کیا قانونی طور پر ادارے میں موجود ہیں نیب نے کام نہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: