پارلیمان میں ہنگامہ اور واک آؤٹ، پی ٹی آئی پھر سڑکوں پر

21 Apr, 2017 بی بی سی اردو
پاناما کیس میں عدالتی فیصلے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
عمران خان

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے چیف ایگزیکیٹو کے خلاف فیصلے میں ایسے سخت تبصرے کیے گئے ہوں

پاناما کیس میں عدالتی فیصلے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس سلسلے میں آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ریلی نکالنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

پاناما لیکس پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

پاناما کیس کے فیصلے کا دن: کب کیا ہوا؟:

پاناما کیس کا مفصل فیصلہ پڑھنے کے لیے کلک کریں

’نواز شریف اور ان کے بیٹے تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں‘

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے اکثریتی فیصلے میں نواز شریف اور ان کے بیٹوں سے کہا ہے کہ وہ اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تحقیقاتی عمل میں تعاون کریں جو عدالتی فیصلے کے نتیجے میں تشکیل دی جائے گی۔

پانچ رکنی بینچ کے اس فیصلے میں دو ججوں نے اپنے اختلافی نوٹس میں وزیراعظم کو جھوٹ بولنے اور صادق اور امین نہ رہنے کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کو کہا تھا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں احتجاج کا فیصلہ پارلیمان میں اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا جو قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ اور سینیٹر اعتزاز احسن کی سربراہی میں ہوا۔

جمعے کو جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ایوان 'گو نواز گو' کے نعروں سے گونجتا رہا اور حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان سپیکر کے ڈیسک کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کرتے رہے۔احتجاجی ارکان نے اجلاس کے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ ڈالیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہاکہ حکمراں جماعت اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے ان کو کمزور کرر ہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو کافی عرصے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے اس معاملے پر بولنا چاہتے تھے کہ اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے کورم کی نشاندہی کر دی اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی کے سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بھی حزب مخالف کی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور اُنھوں نے سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا جس کے بعد سینیٹ کے چیئرمین نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

اجلاس کے بعد پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے چیف ایگزیکیٹو کے خلاف (سپریم کورٹ کی جانب سے) ایسے سخت تبصرے کیے گئے ہوں۔

نواز شریف

جمعے کو جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ایوان 'گو نواز گو' کے نعروں سے گونجتا رہا

انھوں نے سوال کیا کہ فیصلے میں ججوں کی جانب سے کہی گئی باتوں کے بعد ’وہ کس منہ سے عوام میں جانا چاہتے ہیں۔‘

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف تو وہ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، تو یہ ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے ان کے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بات کرنا ان کا حق تھا جو انھیں نہیں ملا اور وہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں جلسہ منعقد کریں گے۔

’آج ہم کہہ رہے کہ استعفیٰ دو‘

عمران خان کے بعد قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ نواز شریف کو سہارا دینے کا طعنہ دیا گیا لیکن درحقیقت ان کی جماعت نے ہمیشہ جمہوریت اور اداروں کا ساتھ دیا۔

خورشید شاہ نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتی۔

’ہم نے پہلے کہا تھا کہ نہ دو استعفیٰ۔ لیکن آج ہم کہہ رہے ہیں کہ استعفی دو۔ پارلیمان اور اداروں کو بچاؤ۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ بالکل نہیں کہ رہے کہ حکومت ختم کرو۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اداروں کو بچانا چاہتے ہیں یا اقتدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔‘

خورشید شاہ

خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ نواز شریف کو سہارا دینے کا طعنہ دیا گیا لیکن درحقیقت ان کی جماعت نے ہمیشہ جمہوریت اور اداروں کا ساتھ دیا

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ فیصلے میں سپریم کورٹ کے دو ججوں نہ واضح اور دو ٹوک الفاظ میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا جبکہ تین ججوں نے اس کی تردید نہیں کی، بس یہ کہا کہ جے آئی ٹی بنادی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستیں اداروں کے مضبوط ہونے سے ہی مضبوط ہوتی ہیں اور وہ ’اس جے آئی ٹی کو نہیں مانتے۔میں کہوں گا کہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ وہ گریڈ 19 کا افسر کیسے اپنے مالک کی تفتیش کرے گا۔ یہ کیسی تفتیش ہوگی؟ خدا کو مانو۔‘

اس موقع پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ کا حصہ ہے، سپریم کورٹ شریف خاندان پر نرم ہاتھ رکھتی ہے اور 'مریم نواز جو سارے مسئلہ کا منبع ہیں انہیں جے آئی ٹی سے پہلے ہی فارغ کر دیا گیا۔'

 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: