کانگریس کے کئی ارکان روس کے ساتھ رابطوں کی تحقیق چاہتے ہیں

20 May, 2017 وائس آف امریکہ اردو
صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسٹر کومی سے بار بار کہا کہ وہ وہائٹ ہاؤس کے ان کے قومی سلامتی کے مشیر مائک فلن کے خلاف میں تفتیش روک دیں جو ان کی صدارتی مہم کے دوران روسی عہدے داروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔کانگریس کے کئی ارکان صدر ٹرمپ کا یہ موقف قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ان کی انتخابي ٹیم روس کے ساتھ رابطے میں تھی اور روس نےامریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی سازش کی تھی۔ وہ اس بارے میں تحقیقات کرانا چاہتے ہیں ۔ جب کہ مسٹر ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم اور روس کی جانب سے صدارتی انتخاب پر اثر انداز ہونے کی کوشش سے منسلک کسی ممکنہ سازش کی تفتیش کے لیے خصوصي قانونی مشیر کی تقرری پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہےکولمبیا کے صدر کے ساتھ کھڑے ہو کر گفتگو کر تے ہوئے صدر ٹرمپ نے روس کے ساتھ اپنی صدارتی مہم کے ممکنہ رابطوں کے جائزے کے لیے ایک خصوصي قانونی مشیر کی تقرری پر تنقید کی ۔انہوں نے کہا کہ میں اس اقدام کا احترام کرتا ہوں لیکن یہ تمام کارروائی سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کا معاملہ رہی ہے۔تاہم صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس کی تردید کی کہ ان کی صدارتی مہم نے انتخاب جیتنے کے لیے روس کا تعاون حاصل کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر یقین کریں۔ اس سلسلے میں کوئی سازش نہیں ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے، ہر ایک کا یہی خیال ہے۔لیکن سب کی سوچ یہ نہیں ہے ۔ اور ان میں ٹرمپ کے اپنے ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی شامل ہیں جنہوں نے ا س تفتیشی کارروائی کی قیادت کرنے کے لئے بدھ کے روز، ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رابرٹ ملرکو ایک خصوصي قانونی مشیر کے طور پر مقرر کیا۔صدر ٹرمپ نے جب ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کیا تو ان پر تفتیشی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا إلزام عائد کیا گیا۔صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسٹر کومی سے بار بار کہا کہ وہ وہائٹ ہاؤس کے ان کے قومی سلامتی کے مشیر مائک فلن کے خلاف میں تفتیش روک دیں جو ان کی صدارتی مہم کے دوران روسی عہدے داروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ بدھ کے روز جب ان سے ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تو صدر ٹرمپ اپنے موقف پر سختی سے قائم تھے اور انہوں نے اس سے منسلک سوالوں کا جواب دینے سے انکار کیا۔ کانگریس کے بہت سے ارکان ان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے ۔ کینٹی کٹ کے ڈیمو کریٹ سینیٹر رچرڈ بلومنتھل کہتے ہیں کہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے کافی زیادہ شہادت موجود ہیں ۔ساؤتھ کیرولائناکے ری پبلکن سینیٹرلندسی گراہم کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ادارے کو جو دھچکا لگا ہےاس کے بعد اب اس کارروائی کو ایک فوجداری تفتیش خیال کیا جا رہا ہے۔ا بھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس تفتیش کی پکڑ میں اور کون کون آئے گا، لیکن جمعرات کے روز صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ وہ اس تفتیش کی گرفت میں آنے والے شخص نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میرے اور میری صدارتی مہم کے درمیان یقینی طور پر کوئی ساز باز نہیں تھی ۔فیس بک فورم
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: