’ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں‘

10 Jan, 2018 بی بی سی اردو
پاکستان کی سیاسی شخصیات، سماجی کارکن، کھلاڑیوں، فنکاروں اور عام صارفین سبھی نے قصور میں کم سن بچی کے ریپ اور قتل کے واقعے پر تاسف اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

دس جنوری کی صبح سوشل میڈیا پر مقبول ترین ٹرینڈ میں ایک کم سن بچی کی چند تصاویر گردش کرتی نظر آئیں جن میں ایک طرف چمکدار ہری آنکھوں کے ساتھ مسکراتی ہوئی زینب ہے تو دوسری میں کچرے کے ڈھیر میں پڑی اس کی بے جان لاش۔ ان کے ساتھ ہیش ٹیگ تھا جسٹس فار زینب یعنی زینب کے لیے انصاف۔

منگل کو قصور میں لاپتہ ہونے والی آٹھ سالہ زینب کی تشدد زدہ لاش ان کے گھر سے دو کلومیٹر دور ملی تھی۔

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں آٹھ سالہ بچی کے ریپ اور پھر قتل پر جہاں شہر بھر کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے وہیں ’جسٹس فار زینب‘ کے نام سے ہیش ٹیگ بھی پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

پاکستان کی سیاسی شخصیات، سماجی کارکن، کھلاڑی اور اداکار سب کے سب اس واقعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’بچوں کے اغوا، ریپ اور قتل کے پیچھے بظاہر ایک ہی شخص‘

’روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ‘

آدمی ریپ کیوں کرتے ہیں؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’وہ صرف سات سال کی تھی، زینب معصوم بچی تھی اور اسے دردناک طریقے سے تشدد کر کے مار دیا گیا۔ ان کے گھر والوں کے لیے میرا دکھ رہا ہے۔‘

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’میں امید اور دعا کرتی ہوں کہ نہ صرف مجرمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا بلکہ انھیں مثال بھی بنایا جائے گا۔‘

مسلم لیگ نون کی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا: ’قصور میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل انتہائی شرمناک اور قابل مذمت فعل ہے. اس گھناوَنے فعل کا مرتکب درندہ سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے۔ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ظالم کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔‘

اداکارہ ماہرہ خان نے بھی اس موقع پر ٹویٹ کیا اور لکھا کہ ’اسے تلاش کریں!!! جو بھی بن پڑتا ہے کریں اور اسے ڈھونڈیں اور خدا کے لیے اسے مثال بنائیں!! ایسی مثال جسے دیکھ کر کوئی بھی ایسا دوبارہ کرنے کے بارے میں سوچ کر بھی ڈر جائے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ’ننھی زینب کے باعث مذمت اور دردناک ریپ اور قتل نے ایک بار پھر اس بات سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کو کیسے خطرات لاحق ہیں۔ ہمیں مجرموں کو سزا دینے کے لیے تیزی دکھانا ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔‘

عارف علوی نے اس بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کچھ ایسے کیا: ’ریپ کے بعد قتل کی جانے والے آٹھ سالہ زینب کی تصویر دیکھ کر یا ٹویٹ کرتے ہوئے دکھ ہوتا ہے۔ مجرموں کو تلاش کر کے سزا دی جانی چاہیے۔ میں والدین اور اساتذہ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ جنسی استحصال کے خلاف مزاحمت کریں اور اسے رپورٹ کریں۔‘

پاکستانی کرکٹرز نے بھی اس دردناک واقعے کی خبر سامنے آتے ہی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے دورے پر گئی پاکستانی ٹیم کے ساتھ موجود سینیئر کھلاڑی محمد حفیظ نے ٹویٹ کی: ’ایک باپ کی حیثیت میں اس سب کے بعد ان والدین کا درد تصوّر بھی نہیں کر سکتا۔ ان کے والدین سے تعزیت اور جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں یہ تشویش ناک صورتحال ہے۔ حکومت مجرموں کے خلاف فوری ایکشن لے اور زینب کو انصاف دلائے۔‘

پاکستانی فاسٹ بولر وہاب ریاض نے بھی شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ سچ ہے اور یہ ہمارے پاکستان میں ہوا ہے، لیکن حقیقت مختلف ہے۔ اللہ اس کے والدین کو صبر دے۔ ایک باپ کی حیثیت سے یہ سن کر ہی مجھے گھن آ رہی ہے۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہم ایسا دوبارہ ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں؟‘

’زینب ہمیں معاف کرنا‘ یہ کہنا تھا صحافی وسیم بادامی۔

جہاں ان شخصیات نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے وہیں ایک ٹوئٹر صارف ریاض الحق نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ایک شعر کا انتخاب کیا:

ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں ...... !

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: