فتح تو مل گئی لیکن ۔۔۔۔اس پارٹی نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ۔۔۔تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے خاموشی توڑتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

13 Mar, 2018 روزنامہ اوصاف
اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنماء نعیم الحق کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے مسلم لیگ (ن) کی حمایت کرکے تحریک انصاف کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وجہ سے سراج الحق سینیٹر بنے، ن لیگ کی حمایت پرافسوس ہوا۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاباتسے قبل تحریک انصاف کےرہنما نعیم الحق نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ن لیگ کی حمایت پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کی جانب سے ن لیگ کی حمایت پر افسوس ہوا۔ نعیم الحق نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف کی حمایت بلوچستان کے امیدواروں کے ساتھ ہے۔ یاد رہے کہ سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے قبل سراج الحق نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے احساس ہے میرا ووٹ بہت قیمتی ہے اور ووٹ شخصی میرٹ کی بنیادوں پر دیں گے، اس موقع پر سراج الحق نے کہاکہ ہمارا ووٹ فیصلہ کن ہو گا۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کی۔دوسری طرف میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ہم سے وعدہ کر کے بھی ووٹ نہیں دیا، اس معاملے میں اصل کردار ان لوگوں کا ہے جو اس منظر میں نظر نہیں آرہے۔یاد رہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابی عمل میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جب کہ بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر کلثوم پروین اعتراف کرچکی ہیں کہ انہوں نے اپنی جماعت کےامیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔یاد رہے کہ حکمراں اتحاد کے راجا ظفرالحق نے چیئرمین سینیٹ کے لئے 46 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخاب سے قبل 53 ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑ حکمراں اتحاد کے امیدوار تھے جنہیں 44 ووٹ ملے جب کہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ حاصل کیے۔نجی ٹی وی کے پروگرام ‘جیو پاکستان’ میں بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف --> نے کہا کہ چند کمزور لوگ دباؤ برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے ووٹ نہیں دیا تاہم اتحادی جماعتوں کے لوگوں نے دباو بھی برداشت کیا اور ووٹ دیا۔جاوید لطیف نے کہا کہ نئے پاکستان اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے آج بے نقاب ہوگئے، آنے والے دنوں میں نواز شریف مخالف لوگوں کو اکھٹا کیا جائےگا۔دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں جو ہوا اسے وہ جمہوریت کی شکست سمجھتے ہیں، حیرت ہے کہ ووٹوں میں اتنا فرق کیسے آگیا۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ لوگکہتے تھے آصف زرداری سب پر بھاری لیکن اب کہا جائے گا جو آصف زرداری پر بھاری وہ سب پر بھاری۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: