اپنا گھر۔۔ پاکستانی امریکی بوڑھوں کے لیے ہوم سروس

14 Mar, 2018 وائس آف امریکہ اردو
واشنگٹن —امریکہ میں جہاں گھر کے مرد اور عورت دونوں عمومی طور پر دن بھر ملازمت یا کام کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتے ہیں اپنی غیر موجودگی میں اپنے والدین یا بزرگوں کی دیکھ بھال کےلیے یا تو انہیں مقامی اولڈ ایج ہاؤسز میں چھوڑتے ہیں یا ان کی جانب سے فراہم کردہ ہوم سروسز یا گھر میں کام کرنے والے ملازموں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔تاہم، امریکہ میں آباد پاکستانی اور جنوبی ایشیائی گھرانے اپنی ثقافتی روایات کے تحت نہ تو خود اور نہ ہی ان کے بزرگ یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر کسی اولڈ ایج ہاؤس یا سینیرز ہاؤس میں مستقل طور پر یا دن بھر یا دن کے کچھ گھنٹے گزاریں۔ یا انہیں اپنے گھروں میں ایسے خدمتگاروں کے ساتھ رہنا پڑے جو نہ تو ان کی زبان سے واقف ہوں اور نہ ہی ان کی ثقافتی اقدار سے۔مقامی اولڈ ایج ہاؤسز سے استفادہ نہ کر سکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی سہولیات کی فراہمی میں زبان اور ثقافت کو پیش نظر نہیں رکھتے۔ یوں اس اہم سہولت کے فقدان کے باعث پاکستانی اور جنوبی ایشیا کے ملازمت پیشہ جوڑوں کو گھر سے باہر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی نبھانا پڑتی ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت اور مشکل صورتحال اختیار کر لیتا ہے اگر گھر کے معمر افراد کسی شدید بیماری کا شکار بھی ہو جائیں۔ایسی ہی صورتحال کی شکار مشی گن کی ایک پاکستانی امریکی خاتون شائستہ کاظمی نے اس مسئلے کا حل نکالا پاکستانی اور جنوبی ایشیا کی کمیونٹی کے معمر افراد کے لیے ایک ادارہ ’اپنا گھر‘ قائم کر کے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: