پاکستان کے نابینا افراد کے لیے قرنیہ کی مفت ٹرانسپلانٹیشن

17 May, 2018 وائس آف امریکہ اردو
واشنگٹن —پاکستان میں آنکھ کی پتلی یا قرنیہ کی خرابی کی وجہ سے لاکھوں افراد نابینا کا شکار ہیں یا انہیں نابینا ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ اس علاج پر تقریباً پانچ لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔ بہت سے لوگ مہنگے علاج کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے زندگی بھر تاریکیوں میں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ایسے مریضوں کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستانی فزیشنز آف نارتھ امریکہ یا اپنانے پاکستان کے مختلف اسپتالوں کے ماہر امراض چشم کی مدد سے قرنیہ کی مفت ٹرانسپلانٹیشن کا ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے۔گزشتہ دنوں اس پراجیکٹ کی انچارج اور ریاست انڈیانا سے تعلق رکھنے والی اپنا سوشل ویلفیئر کمیٹی کی چیئر پرسن ڈاکٹر عائشہ ظفر نے وائس آف امریکہ کے اردو سروس کے پروگرام ہر دم رواں ہے زندگی میں گفتگو کرتے ہوئے اس پراجیکٹ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پراجیکٹ ج گزشتہ سال اپنا کے چار پانچ ارکان نے لاہور کے میو اسپتال کے نابینا مریضوں کو چار یا پانچ قرنیوں کی فراہمی سے شروع کیا تھا اب اس تنظیم کا ایک بڑا پراجیکٹ بن چکا ہے اور اب تک پاکستان کے چاروں صوبوں میں آنکھوں کے قرنیوں کی خرابی کی وجہ سے نابینا پن میں مبتلا ساڑھے سات سو سے زیادہ غریب مریضوں کو قرنیہ کی ٹرانسپلانٹیشن کی سرجری بالکل مفت فراہم کر چکا ہے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: