مس عراق اور مس اسرائیل متنازع سیلفی کے بعد پھر ایک ساتھ

13 Jun, 2018 بی بی سی اردو
مس عراق کی مس اسرائیل کے ساتھ سیلفی نے گزشتہ سال ہنگامہ کھڑا کیا تھا، دونوں نے ایک بار پھر ایک ساتھ تصویریں پوسٹ کی ہیں

چھ ماہ پہلے مس یونیورس کے مقابلے کی دو امیدواروں کی ایک عام سی سیلفی پر سخت رد عمل کے نتیجے میں ان میں سے ایک کو پہلے خود ملک سے فرار ہونا پڑا پھر اپنےخاندان کو بھی ملک سے نکالنا پڑا۔

سارہ عیدان لاس ویگس میں 2017 میں منعقدہ مقابلے میں عراق کی نمائندگی کر رہی تھیں جب انہوں نے مس اسرائیل ادار گیندلسمین کے ساتھ ایک سیلفی کھینچی اوراسے آن لائن پوسٹ کر دیا۔

تصویر کے عنوان میں انہوں نے لکھا 'مس عراق اور مس اسرائیل کی جانب سے امن اورمحبت کا پیغام'۔

لیکن ان کے مطابق عراق میں کچھ لوگوں نے تصویر کو کسی اور نظر سے دیکھا اورانہیں جان سے مارنے کے دھمکیاں دیں۔

عراق اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور مس عیدان کے پیغام کو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور فلسطینیوں سے بے وفائی قرار دیا گیا۔

عیدان نے سی این این سے گفتگو میں کہا تھا 'جب میں نے تصویر پوسٹ کی تب مجھے ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں لگا کہ اس پر یوں ہنگامہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ صبح جاگتے ہی میرے خاندان کی جانب سے کئی کالز آ رہی تھیں اور مس عراق انتظامیہ پاگل ہو رہی تھی اور جو آن لائن جان سے مارنے کی دھمکیاں تھیں وہ بہت خوفزدہ کرنے والی تھیں'۔

مس عیدان اور ان کا خاندان امریکہ منتقل ہوگیا لیکن سوموار کو ان کی مس اسرائیل سے اسرائیل میں دوبارہ ملاقات ہوئی ہےاور انہوں نے وہاں سے دو نئی تصویریں پوسٹ کی ہیں۔ اس بار عنوان ہے 'بہنوں کا ملن'۔

یہ بھی پڑھیے

مِس عراق اور مِس اسرائیل کی سیلفی پر واویلا

حسینۂ کائنات کا تاج مس فرانس کے نام

مس عیدان نے بیت المقدس کے کچھ حصوں کا دورہ کیا ہے اور ایک عراقی یہودی ریستوران پر کھانا بھی کھایا۔

اسرائیلی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا 'میں نہیں سمجھتی کہ عراق اور اسرائیل دشمن ملک ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حکومتیں ایک دوسرے کی دشمن ہوں لیکن ایسے بہت سے عراقی لوگ ہیں جنہیں اسرائیل سے کوئی مسئلہ نہیں ہے'۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ عیدان کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ٹوٹر پر انہوں نے لکھا کہ 'اسرائیل اور عربوں کے درمیان دوستانہ تعلقات سے مشرق وسطیٰ میں ہم سب ایک بہترمستقبل میں داخل ہو سکتے ہیں'۔

نومبر میں مس عیدان نے دبائو کے باوجود متنازع سیلفی ہٹانے سے انکار کیا تھا لیکن انہوں نے ایک اور پوسٹ میں کہا تھا وہ کسی کے جذبات مجروح کرنا نہیں چاہتی تھیں۔

2017 کے مقابلے میں وہ 45 سال کے عرصے میں مس یونیورس کے مقابلوں میں عراق کی نمائندگی کرنے والی پہلی امیدوار تھیں۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: