ڈار ریفرنس: سعید احمد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

13 Jun, 2018 بی بی سی اردو
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کے ریفرنس میں نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کی جانب سے بّری کرنے کی پٹیشن پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
اسحاق ڈار
AFP

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثوں کے ریفرنس میں نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کی جانب سے بّری کرنے کی پٹیشن پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو احتساب عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد کی درخواست پر سماعت کی۔

سعید احمد کے وکیل حشمت حبیب نے احتساب عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اگر قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے بیان کو صحیح بھی تصور کر لیا جائے تو پھر بھی ان کے موکل پر فرد جرم عائد نہیں ہونی چاہیے۔

انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ نیب قانونمیں نہیں آتے اور نیب نے جو ثبوت عدالت میں پیش کیے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے نیب ان کے موکل کے خلاف کیس بنانے میں ناکام رہی ہے۔

تاہم نیب کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ اب بھی نیب نے 55 سے 56 گواہ عدالت کے سامنے پیش کرنے ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ثبوت پیش کرنے کے لیے اسغاثہ کو وقت دیا جائے۔

عمران شفیق نے مزید کہا کہ ملزم نے نہایت مہارت سے فراڈ کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عام آدمی اتنی بڑی رقم ادھر سے ادھر نہیں کر سکتا اور نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد نے سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار کو مشورے دیے۔

انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب اسحاق ڈار کے اکاؤنٹ سے دسیوں ہزار ڈالرز کی متنازع لین دین ہوئی تھی اس وقت سعید احمد سٹیٹ بینک کے نائب گورنر تھے۔

دونوں وکلا کے دلائل سننے کے بعد نیب عدالت نے سعید احمد کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: