نقیب اللہ کو پکڑوایا اور نہ مارا یہ بات ریکارڈ پرموجود ہے:راﺅ انوار

14 Jun, 2018 نیو
کراچی:کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس ملیر رائو انوار کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران مقتول کے وکلاکودلائل کے لیے آخری مہلت دیتے ہوئے سماعت 4 جولائی تک کے لیے ملتوی کردی جبکہ نقیب اللہ محسود قتل کیس میں گرفتار سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راو انوار کا کہناہےکہ ان کے خلاف کارروائی پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے کرائی گئی جبکہ دھمکی آمیز خط سے متعلق وہ وفاق، صوبائی حکومتاورانسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھکوآگاہ کرچکے ہیں۔ کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالتمیں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں رائو انوار نے کہا کہ 'میرے خلاف نقیب اللہ قتل کیس میں بھی شواہدموجودنہیں ہیں، میں نے نقیب اللہ کوپکڑوایااورنہمارا،یہباتریکارڈ پرموجودہے۔رائو انوار نے کہا کہ جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیاہے، وہ فون نمبر ڈالا گیا، جو میرے استعمال میں ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں 21 مارچکوسپریم کورٹ اسلام آباد میں تھا، جبکہ جے آئی ٹی میں جو فون نمبر ڈالا گیا، اس کی لوکیشن کراچی تھی۔سابق ایس ایس پی نے کہا کہ مجھ پر 2 خود کش حملے ہو چکے ہیںاورمیرے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کرنے والے شخصکوگرفتار کیا گیا۔راو انوار نے ایک مرتبہ پھریہباتدہرائی کہ انہیں غلط مقدمے میں نامزد کیا گیاہے۔اس سے قبل جمعراتکوکراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نقیب قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس ملیر رائو انوار کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔تاہم سماعت کے دوراننقیب اللہ کے والد کے وکلاء پیشنہہوئے۔جس پر انسداد دہشتگردی عدالت نے مقتول کے وکلاکودلائل کے لیے آخری مہلت دیتے ہوئے سماعت 4 جولائی تک کے لیے ملتوی کردی۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: