پاکستان: تعلیم پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کہاں جاتے ہیں؟

11 Jul, 2018 بی بی سی اردو
پاکستان کے شعبہِ تعلیم میں ضرورت اس امر کی ہے کہ بہتر پالیسی سازی کی جائے اور تعلیمی بجٹ میں اضافے کو صرف اساتذہ کی تنخواہوں اور پینشن پر ہی خرچ نہ کیا جائے۔

تعلیم کے شعبے کو پاکستان میں ہمیشہ سے ایک نظرانداز شدہ شعبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہاں سرمایہ کاری کا فقدان ہے لیکن بی بی سی کی تحقیق بتاتی ہے کہ نہ صرف یہ کہ گذشتہ چند برسوں میں مختلف حکومتوں نے تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں کئی گنا اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان تعلیم پر عالمی اوسط سے صرف ایک فیصد کم رقم خرچ کرتا ہے۔

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو اپنی مدت مکمل کرنے والی دونوں جمہوری حکومتوں نے تعلیمی بجٹ میں اضافے کے رجحان کو برقرار رکھا ہے۔ یہاں تک کہ گذشتہ سات سالوں میں یہ بجٹ تقریباً دگنا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے سرکاری سکول پانچ برس میں کتنے بدلے؟

پاکستان میں کتنے بچے سکول جا رہے ہیں؟

اس کے علاوہ عالمی بنک کے مطابق عالمی سطح پر ملک اوسطاً 14 فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ اوسطاً 13 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان دنیا کے بعض ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بھی تعلیم پر اچھی خاصی رقم خرچ کرتا ہے۔

تاہم اگر پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر اخراجات بڑھ رہے ہیں تو تعلیمی نظام میں بہتری کیوں نظر نہیں آتی؟

اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں صوبوں کے تعلیمی بجٹ کا جائزہ لینا پڑے گا۔ پاکستان میں تعلیمی بجٹ میں گذشتہ کئی سالوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے مگر یہ اضافہ زیادہ تر اساتذہ کی تنحواہوں اور پینشز میں چلا جاتا ہے جبکہ نئے سکولوں کی تعمیر، پرانے سکولوں میں سہولیات کی فراہمی پر کم ہی لگایا جاتا ہے۔

اسی لیے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے کے مسائل حل کرنے کے لیے پیسوں کے علاوہ بہتر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ہر صوبہ اپنے ترقیاتی بجٹ کا تقریباً پانچواں حصہ تعلیم پر صرف کرتا ہے، تاہم مسائل کے حوالے سے ہر صوبے میں مختلف رجحانات نظر آتے ہیں۔

صوبوں کے تعلیمی بجٹ کے دو اہم حصہ ہوتے ہیں۔ تعلیم کے شعبے پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم الف اعلان اسے کچھ اس طرح بیان کرتی ہے:

’دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے بجٹ کے بھی مندرجہ ذیل حصے ہوتے ہیں۔

1. کرنٹ بجٹ (جاریہ بجٹ) : تعلیم کے کرنٹ بجٹ میں تعلیم پر لگنے والے مسلسل اخراجات شامل ہیں۔

2. ڈیویلپمنٹ بجٹ (ترقیاتی بجٹ) : ڈیویلپمنٹ بجٹ میں نئی شروع ہونے والی سکیموں اور پراجیکٹس کے اخراجات شامل کیے جاتے ہیں۔

3. تعلیم کے شعبے میں کرنٹ بجٹ میں سب سے بڑی رقم اساتذہ کی تنخواہوں اور پنشن کیلئے مختص ہوتی ہے۔ جبکہ نئی عمارتیں، سائنس لبارٹریاں اور کمپیوٹر جیسے آلات پر آنے والے اخراجات ڈیویلپمنٹ بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم پچھلے چار سال کے اعداد و شمار کی اوسط دیکھیں تو مجموعی تعلیمی بجٹ کا 82 فیصد کرنٹ بجٹ جبکہ 18 فیصد حصّہ ڈیویلپمنٹ بجٹ پر مشتمل رہا ہے۔

اگر ہم پنجاب کے بجٹ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ بجٹ تو بڑا ہے مگر ترقیاتی بجٹ کی شرح گذشتہ چند سالوں میں متواتر گیارہ فیصد ہی رہی ہے۔ ادھر جہاں کرنٹ بجٹ میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں اساتذہ کی تنخواہیں یا تعداد، بطور فیصد شرح، بڑھ رہی ہیں نہ کہ سکولوں کی تعمیر و ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کام اسی شرح سے جاری رہا ہے۔

گراف
BBC
پاکستان
BBC

سندھ میں تو کہانی اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ سندھ نے گذشتہ تین سالوں میں اپنا کل تعلیمی بجٹ متواتر 20 فیصد رکھا ہے۔ مگر بتدریج ترقیاتی بجٹ بڑھا ہے اور کرنٹ بجٹ کی شرح ایک چوتھائی کے قریب رہی ہے۔

پاکستان
BBC

مگر کرنٹ بجٹ میں تنخواہوں کی شرح میں 2010 کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گراف
BBC

مگر سندھ میں ایک اور مسئلہ بھی اہم ہے۔ جیسا کہ آپ مندرجہ ذیل گراف میں دیکھ سکتے ہیں، صوبہ کرنٹ بجٹ تو خرچ کر لیتا ہے مگر 2010 سے اب تک کبھی بھی سندھ حکومت اپنا مختص کردہ ترقیاتی بجٹ مکمل طور پر خرچ ہی نہیں کر پائی۔

مثال کے طور پر 2013-14 میں صوبے میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 16 عشاریہ 89 ارب روپے مختص کیے مگر خرچ تو اس کا ایک تہائی بھی نہیں کیا۔

خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جہاں کرنٹ بجٹ میں تنخواہوں کی شرح اوسطاً سب سے زیادہ ہے۔ اگرچہ یہاں ترقیاتی بجٹ میں گذشتہ سال کافی اضافہ دیکھا گیا تھا تاہم اس سے قبل اسی حکومت کے دور میں اس میں کافی کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ آخرکار یہاں بھی سندھ والا مسئلہ ہے کہ ترقیاتی بجٹ مختص تو ہو جاتا ہے مگر حکومت اسے خرچ کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

پاکستان
BBC
گراف
BBC

پاکستان کے علاقائی لحاظ سے سب سے بڑے اور کئی لحاظ سے سب سے کم ترقی یافتہ صوبے میں تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔ بلوچستان میں سال 2016-17 میں تعلیم کا ترقیاتی بجٹ صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا صرف نو فیصد رہا جو کہ دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں سب سے ہم ہے۔

پاکستان
BBC

مگر اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب یہ حکومت آئی تو انھوں نے تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں پانچ گنا اضافہ کر دیا۔ اقدام تو خوش آئند تھا مگر کہانی پھر وہی رہی۔۔۔صوبائی حکومت کبھی بھی اپنے آپ کو اس قدر منظم نہ کر سکی کہ اس بجٹ کو استعمال کر کے عوام کو تعلیمی سہولیات فراہم کر سکتی۔ چنانچہ اب تو صوبائی حکومت نے تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں زبردست کمی کر دی ہے۔ بات بھی شاید ٹھیک ہے، جب خرچنا ہی نہیں تو مختص کیوں کریں۔۔

گراف
BBC

دیگر ممالک سے موازنہ

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں تعلیم میں مزید پیسے کی ضرورت ہے۔ تاہم بجٹ کی شرح کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم عالمی اوسط سے تھوڑے ہی پیچھے ہیں۔ اس میں اگر ہم وہ پیسہ بھی شامل کر لیں جو کہ والدین خود اپنے بچوں کی تعلیم پر نجی شعبے میں لگاتے ہیں تو شاید ہم اس عالمی سطح سے بھی آگے چلے جائیں۔ ماہرین یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی ملک اپنے مجموعی قومی پیداوار کا کتنا حصہ بجٹ پر لگاتا ہے۔ اس حوالے سے عالمی شرح چار فیصد ہے جبکہ پاکستان 2 عشاریہ 83 فیصد پر کھڑا ہے۔

جب ہم مجموعی طور پر پاکستان کے سرکاری تعلیمی اخراجات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان فلحال اپنے کل بجٹ کا تقریباً 13 فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کرتا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق عالمی اوسط تقریباً 14 عشاریہ ایک فیصد ہے۔ کینیڈا، امریکہ، بنگلہ دیش، انڈیا اور دیگر کئی ممالک میں بھی حکومتی اخراجات کا تقریباً 12 سے 16 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔

یعنی پاکستان اوسطً قدرے کم خرچ کر رہا ہے تاہم اس قدر کم بھی نہیں کہ کہا جائے ہم تعلیم کے معاملے میں دنیا میں انوکھے کنجوس ہیں۔

جیسا کہ مندرجہ بالا تجزیے سے معلوم پڑتا ہے، پاکستان کا مسئلہ صرف پیسے لگانا نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان تعلیمی بجٹ میں اضافے کو صرف اساتذہ کی تنخواہوں اور پینشز پر ہی خرچ نہ کرتا رہے۔ اساتذہ کی تنخواہیں ایک اہم حصہ ضرور ہیں مگر کیا اضافے صرف اسے زمرے کے لیے مختص ہیں؟ دیگر ترقیاتی کاموں پر غور و فکر چھوڑ دیا جائے؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تنخواہیں بڑھتی ہیں یا نئے استاد کو ملازمت دی جاتی ہے تو اگلے الیکشن کا ووٹ پکا ہو جاتا ہے بجائے پندرہ سال کے بعد ایک باشعور شہری بنانے کے۔

۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: