بلوچستان میں انتخابی اُمیدواروں کے دفتروں اور جلوسوں پر حملے

13 Jul, 2018 وائس آف امریکہ اردو
کوئٹہ —ستار کاکڑبلوچستان کے جنوبی شہر خضدار میں ایک بم دھماکے میں ایک ہندو سمیت دو افراد زخمی ہو گئے ۔ خضدار اسپتال کے ڈاکٹروں نے دونوں کی حالت تسلی بخش بتائی ہے۔ خضدار پولیس کے انسپکٹر عبدالستار مینگل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خضدار بازار کے آزادی چوک پر بلوچستان عوامی پارٹی کے دفتر کے قریب نا معلوم افراد نے پلاسٹک کے تھیلے میں دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا تھا جس میں ٹائم ڈیوائس کے ذریعے جمعرات کو رات گئے دھماکہ کیا گیا۔دھماکے سے دو راہ گیر سنجے کمار اور اللہ بخش زخمی ہو گئے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا ۔ دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی۔پاکستان کے اس جنوب مغر بی صوبے میں انتخابی مہم کے آغاز کے بعد تشدد کا یہ پانچواں واقعہ ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ نواز کے قومی اسمبلی کے اُمیدوار سابق وفاقی وزیر جنر ل ریٹائرڈ عبد القادر کے انتخابی دفتر پر بھی دستی بم پھینکا گیا۔ اس سے قبل تر بت کے علاقے میں بی این پی مینگل کے امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی 47 حمل بلوچ، پی بی 44سے نیشنل پارٹی کے امیدوار خیر جان بلوچ اور منگوچر میں بلوچستان عوامی پارٹی کے راہنماؤں کی گاڑیوں پر مشتمل قافلوں پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی تاہم خوش قسمتی سے ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ان حملوں کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول کی ہے۔مئی2013 کے انتخابات کے موقع پر بھی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قافلوں اور دفاتر پر حملے کئے گئے تھے تاہم ان حملوں میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں ریاست کے خلاف سرگرم عمل کالعدم مسلح تنظیموں کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیاسی راہنماؤں کے قافلوں اور جلوسوں سے دور رہیں کیونکہ ان پر مزید حملے بھی کئے جائیں گے۔
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: