پی ٹی ایم مخالف مراد خان عرف ’ملک ماتوڑکے‘ کو کس نے قتل کیا؟

11 Feb, 2019 وائس آف امریکہ اردو
واشنگٹن — شریف اللہ کے ماموں مراد خان عرف ’ملک ماتوڑکے‘ کو اتوار کے روز شمالی وزیرستان کے ضلع میر علی کے ایک گاؤں خیرسور میں نامعلوم افراد نے انکے گھر پر قتل کر دیا۔

ملک ماتوڑکے نے گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں شریف اللہ کے خاندان والوں کو حراساں کرنے کے ایک واقعے کو پشتون تحفظ تحریک کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فوج نے کبھی شریف اللہ کی ماں اور بہن کو حراساں نہیں کیا اور یہ کہ وہ اس وقت فوج کے ساتھ موجود تھے۔ اسکے بعد سے سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے حامیوں کی طرف سے اُن پر نکتہ چینی کی جا رہی تھی۔

تاہم پاکستانی فوج نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے شریف اللہ کے خاندان والوں سے معافی مانگی تھی اور ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

ادھر مقامی عہدیداروں نے مراد خان عرف ’ملک ماتوڑکے‘ کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز چار مسلح نامعلوم افراد نے انکے گھر میں گھس کر انکو قتل کیا ہے اور یہ کہ چاروں افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

وزیرستان سے ارکان قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ اور علی وزیر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جلد از جلد آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے مراد خان کے قتل کا الزام پی ٹی ایم کے رہنما اور قومی اسمبلی رکن علی وزیر پر لگایا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے علی وزیر نے اس الزام کو رد کیا ہے اور اسے ریاست کی جانب سے مقامی لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور پی ٹی ایم کو بدنام کرنے کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

اُدھر محسن داوڑ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کی موجودگی میں اس واقعے کے رونما ہونے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

یوتھ آف وزیرستان کے چئرمین عادل داوڑ نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا ہے کہ اس علاقے میں مقامی لوگوں کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے میں جب پورا علاقہ فوج کے کنٹرول میں ہے، اسطرح کے نقاب پوش افراد کا گھروں میں گھسنا اور عام لوگوں کو قتل کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

اس واقعے کے بارے میں پاکستانی فوج یا کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مراد خان کے نماز جنازہ کی تصویروں میں پاکستانی فوج کے افراد نظر آرہے ہیں۔

شمالی وزیرستان کو انتہا پسندوں کا گڑھ خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن 2014 میں پاکستانی فوج کی جانب سے ضرب عضب نامی فوجی آپریشن کے بعد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک قرار دیا گیا تھا۔ تاہم پی ٹی ایم سمیت بعض ناقدین کی جانب سے اس آپریشن کے دوران طاقت کے استعمال اور جبری گمشدگیوں پر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں