انتظار حسین اور داستان گوئی

12 Feb, 2019 جی این این
افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں خاص مقام رکھنے والے انتظار حسین 7 دسمبر، 1923ء کو میرٹھ ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ کالج سے بی اے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ پہلا افسانوی مجموعہ "گلی کوچے " 1953ء میں شائع ہوا۔  ریڈیو  سے بھی وابستہ رہے۔ انتظار حسین اپنے منفرد انداز اور الفاظ کے استعمال کی بدولت افسانہ نگاری میں اپنا مقام بلند کر گئے۔انتظار احمد کی اہمیت یوں بھی ہے کہ ان کی تحریر میں روانی اور الفاظ کا خوبصورتی سے استعمال ہوا ہے۔  انہوں نے اپنے افسانوں میں ماضی کا ذکر کیا اور بہترین منظر کشی سے قاری کو بیتے وقتوں کی سیر کروائی جیسا کہ اپنے افسانے "آخری آدمی" میں وہ لکھتے ہیں "سمندر کے کنارے۔اونچے برجوں اور بڑے دروازوں والی حویلیوں کی بستی، بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ کٹورا بجتا تھا"  
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: