آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کہاں خرچ ہو گی؟

13 May, 2019 بی بی سی اردو
ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پیکج سے حکومت اپنے چند پرانے قرضوں کی ادائیگی کرے گی جن میں آئی ایم ایف کا بھی کچھ قرضہ شامل ہے اور اس پیکج کے بعد سبسڈیز ختم ہوں گی جس کا بوجھ عام صارف اور ملکی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ Getty Imagesآئی ایم ایف پروگرام پر اس کے بورڈ کی جانب سے باضابطہ منظوری کے بعد عملدرآمد کیا جائے گا

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پاکستانی حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے بعد چھ ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر اس کے بورڈ کی جانب سے باضابطہ منظوری کے بعد عملدرآمد کیا جائے گا۔

اتوار کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے خسارے کے شکار سرکاری اداروں کے مسائل حل کرنے کے لیے سٹرکچرل اصلاحات اور برآمدات اور محصولات میں اضافے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے آئی ایم ایف پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد اور سٹرکچرل اصلاحات اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پا گیا

آئی ایم ایف مذاکرات: ’اس مرتبہ امریکہ پاکستان کا سفارشی نہیں‘

ایف اے ٹی ایف:’پاکستان کو تین ماہ کی مہلت مل گئی‘

آئی ایم ایف کی ہدایت سے پہلے ہی روپے کی قدر کم کر دی: اسد عمر

آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کہاں خرچ ہو گی؟

پاکستان کے وزیر مملکت برائے خزانہ، محصولات و اقتصادی امور حماد اظہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں یہ قرضہ بنیادی طور پر ادائیگیوں کے توازن اور اس سے ملنے والی مدد کے لیے مل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رقم سے حکومت اپنے چند پرانے قرضوں کی ادائیگی کرے گی جن میں آئی ایم ایف کا بھی کچھ قرضہ شامل ہے۔

Getty Imagesگذشتہ دس برسوں میں ملکی برآمدات بہت کم رہی ہیں جبکہ گذشتہ پانچ برسوں میں منفی رحجان دکھائی دیا

وزیر مملکت کے مطابق اس کے علاوہ اس رقم کو قرض پر سود کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ، درآمدات کی فنانسنگ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی فنانسنگ اور بجٹ میں مدد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قرض لے کر قرض اتارنے کے سوال پر وزیر مملکت حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’جب تک ہم اپنی معیشت میں سٹرکچرل اصلاحات نہیں کریں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پیچیدہ اور بنیادی مسائل کا حل جنھوں نے آپ کی معیشت کی آمدن کو روک کر رکھا ہے تب تک آپ اپنا قرضہ واپس کرنے کی قابل نہیں ہوں گے۔‘

ان پیچیدہ مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ملک برآمدات سے آمدن اکٹھی کرتا ہے۔ گذشتہ دس برسوں میں ہماری برآمدات بہت کم رہی ہیں جبکہ گذشتہ پانچ برسوں میں تو منفی رحجان دکھائی دیا ہے۔‘

وزیر مملکت کے مطابق ملک میں ٹیکس بیس کا بہت کم ہونا، زرمبادلہ کے ذخائر کا ہمیشہ نازک سطح پر رہنا اور سرکاری اداروں کا مسلسل نقصان میں رہنا ملکی معیشت کی حالت کے ذمہ دار عوامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب کو ٹھیک کیے بنا حکومتی آمدن نہیں بڑھے گی اور پاکستان تب تک اپنے قرضے واپس نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مزید بہتری آئی گی اور حکومت کا مالیاتی خسارہ بھی نیچے آئے گا اور بیرونی خساروں کو بھی ایک توازن میں رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان کے لیے آئی ایم ایف بیل آؤٹ کا جواز نہیں‘

اسد عمر: پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدے کے قریب

’حفیظ شیخ عمران کا نہیں کسی اور کا انتخاب ہیں‘

یہ کرکٹ ہے یا کچھ اور!

Getty Imagesمعیشت کی ماہرین کی رائے میں ملکی اداروں میں اصلاحات کے حکومتی بیانات ’ہوا میں باتیں‘ ہیں

ماہر معیشت قیصر بنگالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم سے حکومت ملک کے پرانے قرض اتارے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’کافی عرصے سے پاکستان جو قرض لیتا ہے وہ صرف پرانے قرض ادا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور یہ بھی وہیں استعمال ہو گا۔‘

انھوں نے ملکی اداروں میں اصلاحات کے حکومتی بیانات کے بارے میں کہا کہ ’یہ ہوا میں باتیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسے قرض لیے گئے اور ایسی ہی باتیں کی گئیں۔ انھوں نے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’سنہ 2008 سے 2013 تک وہ خود وفاقی وزیر برائے خزانہ تھے تب وہ یہ اصلاحات نہیں کر سکے تو اب وہ کیسے حالات ٹھیک کریں گے۔‘

ماہر معیشت ایس اکبر زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم ایک قرض ہے جو تین سال بعد ہمیں واپس کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض میں بہت فرق ہوتا ہے عالمی بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک ہمیں تعلیم، صحت، توانائی کے شعبے میں خرچ کرنے یا ڈیم بنانے کے لیے قرض دیتے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کا قرض مالیاتی خسارے اور حکومتی ادائیگیوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید گراوٹ سے تجارتی خسارہ بگڑ جائے گا تو وہ پورا کرنے کے لیے سٹیٹ بینک یہ رقم استعمال کر سکتا ہے۔

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ندیم الحق نے بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملنے والا قرضہ کہیں بھی استعمال نہیں کیا جاتا یہ صرف ریزرو میں رکھا جاتا ہے۔

ان کی رائے میں ’آئی ایم ایف کا پروگرام اس لیے ہوتا ہے کہ جو بھی ملک ان کے شکنجے میں پھنسے وہ ملک اپنے برآمدات کا نظام ٹھیک طریقے سے چلا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے ادائیگیوں کے مسائل کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کو ملنے والے قرض سے ملکی خسارے میں کچھ حد تک بہتری آئے گی کیونکہ آئی ایم ایف خسارے کو پالیسی کے ذریعے کم کرتا ہے۔

AFP

انھوں نے کہا لہذا آئی ایم ایف کی جانب سے جو پالیسی میں تبدیلیوں کی بات کی گئی ہے اس کے نتیجہ میں ملک میں ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اور اس کا بوجھ عام صارف اور ملکی معیشت پر پڑے گا۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں