10 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا خطرہ

20 May, 2019 قومی اخبار

کراچی…آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز پر ہی تمام‘جہاں معاشی اعشاریے گراف کی تنزلی ظاہر کررہے ہیں‘ ٹیکنو کریٹس سخت فیصلوں پر سیاسی مصلحت کے تحت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں‘وہاں ماہرین نے مذکورہ قرض پروگرام کی سخت شرائط کے باعث آنے والے اقتصادی بحران کے سبب حکومت کے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کے بجائے 10 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

ماہرین کے مطابق 39 ماہ کا آئی ایم ایف قرض پروگرام 2022ء کی آخری سہ ماہی تک جائے گا اور اگست 2023ء میں آئینی میعاد پوری کرنے والی موجودہ حکومت کے لئے قرض پروگرام (اگر کامیابی سے مکمل ہوا تو) کام کرنے کے لئے محض 9 ماہ رہ جائیں گے‘ جبکہ آئی ایم ایف کی ہدایت ہے کہ پروگرام سے مستفید ہونے کے لئے فیصلہ پالیسی اور اصلاحات جن کے لئے بیرونی امداد میسر ہو‘ پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ معاشی دشواریاں بتدریج کم ہوں

معیشت پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو جس کے نتیجے میں معیشت مستحکم شرح نمو کی جانب بڑھے جس کے ساتھ ساتھ ملکی اقتصادیات کو نجی شعبے کی فعال سرگرمیوں اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی ملازمتوں کے مواقع کا سامنا ہو۔

یہ بھی پڑھیں : اس دوران توانائی کے شعبے میں نقصان اور سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے خساروں کو پورا کیا جائے جس میں وفاق کی مدد کے لئے صوبے بھی کردار ادا کریں، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٔی ایم ایف کے لکھے پر عمل آسان نہیں‘ جبکہ ملک کی فی کس آمدنی بلحاظ ڈالر 1650 ڈالر سالانہ سے ایک سال میں 8 فیصد کم ہوکر 1515 ڈالر سالانہ ہوگئی۔

زرعی پیداوار 3.8 فیصد کے ہدف کے بجائے 0.85 فیصد ہے۔ صنعتی شعبے میں نمو 7.6 فیصد کے ہدف کے بجائے 1.4 فیصد ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں 6.5 فیصد ہدف کے بجائے نمو 4.7 فیصد ہے۔ مزید تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت سرمایہ کاری اور بجٹ کے اہداف پوے کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

سرمایہ کاری بلحاظ جی ڈی پی کی شرح 17.2 فیصد سے کم ہوکر 15.4 فیصد تک پہنچ سکی ہے۔ بچت بلحاظ جی ڈی پی کے لئے 13.1 فیصد کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا اور مالی سال 2018-19ء میں 11.1 فیصد کا تناسب حاصل کرسکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پچھلے اہداف پورے کرنے میں پیچھے رہ گئی ہو‘ اس سے آئندہ کے مزید سخت اقدامات پر 100 فیصد عملدرآمد کی 100فیصد توقع نہیں جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف قرض پروگرام کے دوران آئندہ مشکلات ہی مشکلات نظر آرہی ہیں۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں