تم نے مڑ کے جو نہ دیکھا ہمیں ٹھکراتے ہوئے
Poet: ڈاکٹر شاکرہ نندنی
By: Dr. Shakira Nandini, Oporto

تم نے مڑ کے جو نہ دیکھا ہمیں ٹھکراتے ہوئے
انتقاماً تجھے آواز نہ دی جاتے ہوئے

اشک نکلے تھے مگر اُس کو دکھائی نہ دیے
ساتھ بارش نے دیا آنکھ کے بھر آتے ہوئے

ایسی فنکاری سیکھا دی مجھے پھر دنیا نے
میں ترے بعد جو روئی بھی تو مُسکراتے ہوئے

زخمِ دل کھا کے پھڑکتی یوں تھی جیسے
پھڑ پھڑاتا ہوا پنچھی کوئی مر جاتے ہوئے

جلد مر جائو گی اس طرح اگر جیتی ہو
ایک دن ایسے کہا یار نے سمجھاتے ہوئے

وہ دالان میں داخل ہوا کرتا میرے جب
بھاگ کر کمرے میں گھس جاتی تھی شرماتے ہوئے

گھر کے باغیچے میں جب بھی میں ٹہلتی شاکرہ
خوش ہوا جایا کرتا تھا وہ پھول کو سہلاتے ہوئے

Rate it: Views: 29 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 03 Jun, 2018
About the Author: Dr. Shakira Nandini

I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More

Visit 274 Other Poetries by Dr. Shakira Nandini »
 Reviews & Comments
So hearttching
By: zubair ahmad, peshwer on Jun, 09 2018
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.