غزلمیں نے ہجر کی کالی راتوں میں اک تیری آس لگائی ہے
Poet: پنچھی
By: Abdul wadood, Rabwah

 میں نے ہجر کی کالی راتوں میں اک تیری آس لگائی ہے
میرا روم روم ہے چھلنی سا میری زات میں بس تنہائی ہے
تم سمجھو نہ میری مشکل کو کیوں اتنی مایوسی ہے
تیرے ساتھ کی منزل دور بہت اور قدم قدم رسوائی ہے
یہاں نوچنے کو بیتاب ہے دنیا جو بھی مجھ میں ہے باقی
تیرا عشق ہے میری ذات مگر میری زات تیری پرچھائی ہے
کبھی خواب میسر تھے مجھ کو کبھی نیند کے جھونکے آتے تھے
اب اشک اشک زد ماتم ہے اور سانس سانس میں دہائی ہے
مجھے زخم تمنا کیا دو گے مجھے درد محبت کیا دو گے
نہیں خود سے بھی کوئ ربط رہا ہوئ تجھ سے جو شناسائی ہے

Rate it: Views: 0 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 09 Oct, 2018
About the Author: Abdul wadood

Visit 36 Other Poetries by Abdul wadood »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.