ہند۔ اسرائیل دوستی کا اثر۔ ہندستانی مسلمانوں پر تو نہیں؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

کیا واقعی ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان 25سالہ تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہونگے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نتین یاہو چھ روزہ دورہ پر 14؍ جنوری کو ہندوستان پہنچے۔ اس موقع پرہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیراعظم اس طرح ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں جیسے یہ دونوں بچپن کے گہرے دوست ہیں۔ نتین یاہو کی آمد پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی پروٹوکول کواہمیت دیئے بغیر انکے استقبال کے لئے ایئر پورٹ پہنچے اورانکا والہانہ استقبال کرتے ہوئے بغلگیر ہوگئے۔ نتین یاہو کا راشٹرپتی بھون میں بھی پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اس موقع پر نریندر مودی بھی انکے ہمراہ موجودتھے۔ نتین یاہو نے اس ملاقات کو نئے دور کی صبح سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا آغاز نریندر مودی کے تاریخی اسرائیلی دورہ سے ہوا جس کے نتیجہ میں ایک نیا جوش پیدا ہوا اور اب انکے یہاں ہندوستان آنے سے اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات یوں تو آزادی ہند کے بعد سے کسی نہ کسی طرح رہے ہیں لیکن گذشتہ 25سال کے دوران ان تعلقات میں بہتری پیدا ہوئی اور یہ باقاعدہ تعلقات کی شکل اختیار کرگئے۔ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے وزارتِ عظمی کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعد سے عالمی سطح پر کئی ممالک کا دورہ کرچکے ہیں وہ عرب ممالک بھی گئے اور مغربی و یوروپی ممالک کا بھی دورہ کرتے ہوئے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ دیا۔عالمِ عرب کے کئی ممالک جن میں سعودی عرب، عرب امارات وغیرہ شامل ہیں ہندوستان کے ساتھ کئی ایک معاہدوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پردونوں ممالک کے سرمایہ کار ان ممالک میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ فلسطین کے مسئلہ پر عالمِ عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور سال گذشتہ کے اواخر میں امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے یروشلم میں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلہ پر مزید خراب ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی فیصلہ کے خلاف قرار داد پیش کی گئی جس میں ہندوستان نے امریکہ کے خلاف ووٹ دیا اس سے یہ کہنا درست نہیں کہ اس کی وجہ سے اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں بلکہ ان دنوں اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کے دورہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل وزیر اعظم ہندوستانی حکومت کو بھی مستقبل میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کریں گے ۔خیر نتین یاہو کے دورہ کے موقع پر انکے ساتھ 130رکنی تجّار اور100مختلف کمپنیوں کے سربراہان کا وفد بھی ساتھ آیا۔ ان کے ساتھ آنے والوں میں تاجرین کے علاوہ جنگی طیارے بنانے والی کمپنیاں ایروناٹکس کے عہدیدار اور نہیں معلوم کن کن شعبوں سے تعلق رکھنے والے اور کتنے ذہین و باصلاحیت، تجربہ کار لوگ موجود ہیں اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ ہند۔اسرائیل کے درمیان جن معاہدوں پر دستخط ہوئی ہے ان میں سائبر سلامتی ، خلائی ٹکنالوجی ، حمل و نقل کے علاوہ تیل و گیس کا شعبہ، باہمی اشتراک سے فلم سازی ہومیو پیتھک علاج، قابل تجدید توانائی کو محفوظ کرنے کے شعبہ میں تعاون شامل ہے۔ توقع ہے کہ نتین یاھو اپنے دورہ ہند کے دوران 4 سے 10 ارب ڈالر کے سالانہ تجارتی معاہدوں کی منظوری دینگے۔ـواضح رہے کہ ہنداور اسرائیل کے درمیان ہائی ٹیک اور دفاع کے شعبے میں قریبی تعلقات استوار ہیں اورہندوستان اسرائیلی اسلحے کا دنیا میں دوسر ا بڑا خریدار ملک ہے۔ہند۔ اسرائیل کے درمیان تعلقات کتنے مضبوط ہوسکتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا البتہ دوسری جانب ہندوستان کے عالمِ اسلام خصوصاً عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بھی دوستانہ اور مضبوط قائم رہنا ضروری ہے کیونکہ ہندوستان کے لاکھوں شہری سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، عمان ، قطروغیرہ میں روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان ممالک سے ہندوستانی شہری ہر برس کم و بیش 40ارب ڈالر سے زائد کی رقم ملک بھیجتے ہیں۔ نریندر مودی کی جانب سے عرب ممالک کے دورے کے بعد انکا نعرہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘کارگر ثابت ہوا اور حالیہ برسوں کے درمیان سعودی عرب، متحدہ عرب امارات و دیگرممالک نے ہندوستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہے ہیں جس سے ان ممالک کے ساتھ بھی ہندستانی معیشت مضبوط ہورہی ہے۔ عالمِ عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں ان حالات میں ہندوستان جس طرح ایک طرف اسرائیل کے ساتھ دفاعی سازوسامان، آبپاشی اور زرعی سیکٹر میں قریبی اور قابل اعتبار دوست بن کر سامنے آرہا ہے ۔ ہندوستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا ایک پرامن حل چاہتا ہے اور اس کے حل میں وہ دو مملکت کے قیام کے اصول میں یقین رکھتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ ہند سے قبل دو واقعات ایسے ہوچکے ہیں جن کی وجہ سے ہند۔ اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کمی محسوس کی جارہی تھی اور سمجھا جارہا تھا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سردمہری کا سبب بنیں گے۔جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے اسرائیل کو ایک جھٹکہ اس طرح لگا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کے مسئلہ پر فلسطین کے حق میں ہند نے ووٹ دیا اور دوسرا جھٹکا اس وقت لگا جب چند روز قبل ہندوستان نے اچانک 500ملین ڈالر کے ایک ڈیفنس معاہدہ کو منسوخ کردیا۔ان دو جھٹکوں کے باوجود نتین یاہو نے نریندر مودی سے گرمجوشی سے ملاقات کی اب دیکھنا ہیکہ صیہونی حکمراں اپنی چالاکی کے ذریعہ کس طرح ہندوستانی بی جے پی حکومت کو کس قسم کی ترغیب دیتی ہے کیونکہ دہشت گردی کے مسئلہ پر دونوں حکمراں متحدہ جدوجہد چاہتے ہیں ۔ ہندوستانی سیاسی قائدین اور بعض حکمرانوں کا دعویٰ ہیکہ پڑوسی ملک پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے اور وہ ہندوستان کا سب سے بڑا دشمن ہے جبکہ اسی طرح کا دعویٰ پاکستانی سیاسی قائدین اور حکمراں بھی کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ کشمیر کے مسئلہ پر باقی رہے گاجس کا ان حکمراں کوئی حل کرنا نہیں چاہتے ۔اس کے علاوہ ہند۔ اسرائیل دوستی کے اثرات ہندوستانی مسلمانوں پر بھی پڑسکتے ہیں۔ اسرائیل جس طرح فلسطین میں غاصبانہ رویہ روا رکھے ہوئے ہے اسی طرح وہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرسکتا ہے اور اپنی چالاکی کے نقوش چھوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک میں مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی کوئی ترغیب دے سکتا ہے۔ملک میں پہلے ہی گاؤ کشی، لوجہاد وغیرہ کے نام پر مسلمانوں کا قتلِ عام ہورہا ہے جس پر نریندر مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم موجودہ مسلم دشمن ہندوستانی حکمرانوں اور ہندوتوا فرقہ پرستوں کو مزید ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف بھڑکا سکتے ہیں ۔ ویسے ملک میں تمام مذاہب کے لوگ ان دنوں نریندر مودی حکومت سے بیزار دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ملک میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے دوسری تمام چیزوں کے دام بڑھ رہے ہیں اسی طرح بینک میں جمع کی ہوئی رقم عوام ضرورت کے مطابق نکلانے سے محروم ہورہے ہیں وقتِ واحد میں اپنی مرضی کے مطابق رقم نہیں نکال سکتے اور اے ٹی ایمس بھی خالی پڑے دکھائی دیتے ہے۔ بہت کم اے ٹی ایمس ہیں جس میں رقم ملتی ہے۔ اس طرح معاشی طور پر ہندوستانی مسلمان اپنے پیسے رکھتے ہوئے پریشانی کی صورتحال سے دوچار ہے۔جی ایس ٹی کی وجہ سے عوام الگ پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں۔ نریندرمودی کی کامیابی کے بعد ہندوستانی عوام انہیں ایک بہترین اور قابل وزیر اعظم کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے لیکن بینک اور جی ایس ٹی وغیرہ کی وجہ سے انکی ساکھ بُری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف بھی کرپشن کے معاملہ میں اسرائیلی شہروں میں گذشتہ سات ہفتوں سے مسلسل احتجاج جاری ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق عبرانی اخبار ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گذشتہ روز تل ابیب میں ہبیما کے مقام پرنیتن یاھو کی اخلاقی اور مالی کرپشن کے خلاف سیکڑوں اسرائیلیوں نے احتجاج کیا۔ادہر العفولہ شہر میں 300 اور حیفا میں 200 اسرائیلیوں نے نیتن یاھو کی کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس کے علاوہ کرکور، وروش بینا اور سمخ کے مقام پر سیکڑوں اسرائیلیوں نے نیتن یاھو سے استعفی دینے کیلئے مظاہرہ کیا۔ھبیما چوک میں ہونے والے مظاہرے میں سیکڑوں مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر نیتن یاہو سے اقتدار چھوڑنے کے لیے مطالبات درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین نے نیتن یاھو کے استعفے کے لیے شدید نعرے بازی کی۔ہندوستان میں بھی نریندر مودی حکومت کے خلاف گذشتہ ہفتہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنے دورہ بحرین کے موقع پر کہا تھا کہ نریندر مودی حکومت نے کس طرح ملک میں فرقہ پرستی کو ہوا دے رہی ہے اور نوجوانوں کو روزگار سے مربوط کرنے کے بجائے ذات پات اور مذہب کے نام پر لڑارہی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو اپنے چھ روزہ دورہ کے موقع پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ آگرہ پہنچ کرتاج محل کا دورہ کیا اورانکے ہمراہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔ اب دیکھنا ہیکہ ہند۔ اسرائیل کے درمیان جو معاہدے ہوئے ہیں یہ صرف تجارت اور کاروباری ہی ہیں یا پھر اس کے پیچھے کوئی سیاست تو نہیں جس کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف کوئی بڑی سازش تو نہیں۔ اگر بی جے پی حکومت اسرائیل کے ساتھ ملکر ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش رچتی ہے تو اس کے نتائج خراب نکل سکتے ہیں کیونکہ اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے جہاں کی آبادی کم و بیش 80لاکھ بتائی جاتی ہے جبکہ ہندوستان میں 125کروڑ عوام رہتے ہیں جن میں پچیس کروڑ سے زائد مسلمان رہتے بستے ہیں اور یہ مسلمان اپنے ملک ہندوستان میں سلامتی اور امن و آمان کی فضا بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کا ایک اور نیا فیصلہ۰۰۰ خواتین انسپکٹرز تعینات کرنے کا حکم
اب سعودی حکمراں مملکت سعودی عربیہ میں خواتین کو مزید اختیارات تفویض کرتے ہوئے انہیں تمام شعبوں میں خدمات انجام دینے کی سعی کررہا ہے ۔ان دنوں سعودی پبلک پراسکیوشن نے تمام دفاتر میں خواتین انسپکٹرز تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ آئندہ خواتین سے پوچھ گچھ کا کام لیڈی انسپکٹرز ہی کیا کرے گی تاہم اس حوالے سے قانونی اور شرعی امور میں مہارت حاصل کرنے والی خواتین کو انسپکٹرز کے طور پر تعینات کیا جا سکے گا جبکہ سعودی وکیل قانون نورہ اسلامہ نے ایک ویب سائٹ سے گفتگو میں کہا ہے کہ مملکت میں لیڈی انسپکٹر کے طور پر کام کرنے کی اہل خواتین موجود ہیں تاہم انہیں تربیتی کورس کرانا ہو گا جبکہ شریعت اور قانون کے شعبوں سے فارغ ہونے والی خواتین بھی اس میں حصہ لے سکتی ہیں تاہم وکیل نورہ اسلامہ نے مذکورہ فیصلے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد زندگی کے مختلف شعبوں میں سعودی خواتین کو اپنی خدمات فراہم کرنے کا موقع دیتا ہے جبکہ ایک ایک اور وکیل خاتون احلام الشہرانی نے کہا کہ یہ بہت بڑا قدم ہے اس سے عدلیہ میں خواتین کو مزید تحفظ حاصل ہو گا ۔جبکہ اس اقدام سے ملزم خاتون لیڈی انسپکٹر کے ساتھ کھل کر گفتگو کر سکے گی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں اس سے قبل خواتین نے اس میدان میں کبھی قدم نہیں ر کھا ۔ گذشتہ دنوں جدہ میں خواتین نے انہیں اجازت دیئے جانے کے بعد پہلی مرتبہ گراؤنڈ پہنچ کر فٹبال میاچ دیکھا یہ الگ بات ہیکہ انکے لئے مخصوص جگہ متعین کی گئی تھی ،اسی طرح مملکت میں خواتین کی بڑی کوششوں کے بعد شاہی حکومت نے انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی۔ ملک میں خواتین کو جس طرح مختلف شعبوں میں آگے لایا جارہا ہے اس کے نتائج مستقبل قریب میں حکومت کے حق میں نکلتے ہیں یا مخالفت میں اس سلسلہ میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ ان دنوں سعودی عرب کے شاہی خاندان میں اندرونی حالات خراب چل رہے ہیں۔ شاہی حکومت کی جانب سے جس طرح بعض شہزادوں اور اعلیٰ عہدیدارو ں کو حراست میں لیا گیا تھا ذرائع ابلاغ کے مطابق ولید بن طلال کو فائیو اسٹار ہوٹل سے جیل منتقل کردیئے جانے کی خبرعام ہوئی ہے ۔

ہند۔ پاک فوج کے درمیان لائن آف کنٹرول پر لڑائی۰۰۰
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان15؍ جنوری کی صبح فوجی کارروائی میں کتنے سپاہی دونوں ممالک کے ہلاک ہوئے اس سلسلہ میں جو خبریں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ منظر عام پر آئی ہے اس سے دونوں ممالک کے عوام میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے ۔ عوام نہیں چاہتے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کی لڑائی ہو اور اس میں انکے فوجی ہلاک ہوں۔ یہ فوجی کارروائی اور دراندازی ایک ایسے وقت کی گئی جبکہ ان دنوں صیہونی حکمراں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو ہندوستان کے چھ روزہ دورہ پر ہیں۔ہندوستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں سات پاکستانی سپاہی ہلاک ہوگئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ہندوستانی فوج نے میندھرسیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا زبردست جواب دیا اور ضلع پونچھ میں خط قبضہ سے متصل پاکستان کی ایک چوکی کو تباہ کردیا۔ ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کے مطابق پاکستانی سپاہیوں نے خط قبضہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور میندھرسیکٹر میں 15؍ جنوری کی صبح ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے گولہ باری شروع کردی ۔ خط قبضہ کی حفاظت پر تعینات ہندوستانی سپاہیوں نے مورچے سنبھال لئے اور پاکستانی چوکی کو نشانہ بنایا جس میں سات پاکستانی سپاہیوں کے ہلاک اور چار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پاکستان نے بھی تین ہندوستانی سپاہیوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ پاکستان کا کہنا ہیکہ ہندوستان نے سب سے پہلے پاکستانی سپاہیوں کو نشانہ بنایا۔دونوں جانب سے ہونے والی بیان بازی میں کس نے سبقت کی اور کیوں کی اس کا جواب ہندو پاک کے حکمراں اور وہاں پر متعین فوجی عہدیدار بہتر جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع بارہمولہ کے اڑی سیکٹر میں خط قبضہ کے قریب چوکس سپاہیوں نے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنادیا ۔ کرنل راجیش کالیا کے مطابق اس کارروائی میں جیش محمد کے پانچ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا۔ یہ دونوں واقعات ایک ایسے وقت پیش آئے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نتین یاہو اور ہندوستانی وزیر اعظم نرنیدر مودی دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے متحدہ جدوجہد کی بات کی۔ہندوستان اور پڑوسی ملک پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان گذشتہ چند دنوں سے ایک دوسرے کے درمیان شدید بیان بازی چل رہی ہے اب دیکھنا ہیکہ آئندہ چند روز میں دونوں ممالک کی حکومتیں اور فوج کیا اقدام کرتے ہیں۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100337 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2018 Views: 294

Comments

آپ کی رائے