آہ ! عاصمہ جہانگیر ہم میں نہیں رہیں

(Wajid Nawaz, Bhakkar)

مجھ کو گرانا سہل نہیں ہے
اپنے سہارے کھڑی ہوئی ہوں
جنرل یحییٰ خان ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹرز کے آگے سیسہ پلائی دیوار بننے والی محترمہ عاصمہ جہانگیر گزشتہ سہ پہر لاہور میں انتقال کر گئیں۔ مرحومہ نے اپنی 69 سالہ زندگی میں آمریت کے خلاف ، جمہوریت و آئین و قانونی کی بحالی کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ وہ پاکستان کی بہادر خاتون نہیں بلکہ بہادر ترین شخص تھا جس نے اپنے اصولوں پر کبھی سودا نہیں کیا۔ 27 جنوری 1952ء میں لاہور میں پیدا ہونے والی عاصمہ جہانگیر نے زمانہ طالبعلمی سے ہی آئین و قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ وہ پاکستانی تاریخ میں ایک غیر معمولی کردار تھیں ۔

عاصمہ جہانگیر ابھی 21 برس کی لاء کی سٹوڈنٹ تھی کہ اس کے والد کو جنرل یحیی خان کے مارشل لا کے تسلسل میں قائم ہونے والی بھٹو حکومت نے جیل میں ڈال دیا۔ وہ اپنے والد کی رہائی کے لیے پاکستان کے ایک ایک بڑے وکیل کے پاس گئی، سب نے طاقتور افراد کے خوف سے کیس لینے سے انکار کر دیا۔ اس کم عمر لڑکی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے والد کا کیس خود لڑے گی ، عدالت نے اجازت دی اور وہ لڑکی کیس جیت گئی۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں عاصمہ جہانگیر کیس ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آج بھی پولیٹیکل سائنس کے طلباء کو '' عاصمہ جہانگیر کیس '' کے بارے میں خصوصی لیکچرز دیے جاتے ہیں۔
 
یہ تاریخی کیس لڑ کر پاکستان کی اس بہادر بیٹی نے نہ صر ف اپنے والد کو رہا کرایا بلکہ ڈکٹیٹر شپ کو عدالت سے غیر آئینی قرار دلوا کر پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا- اسی کارنامے کی وجہ سے ذوالفقارعلی بھٹو کو سول مارشل لاختم کرنا پڑا اور ملک کا آئین فوری طور پر تشکیل دیا گیا۔
 
1983ء میں 13 سالہ نابینا لڑکی سے زیادتی کا کیس سامنے آیا ، ایک غریب نابینا لڑکی کے پاس انصاف کے حصول کے لیے وکیل کرنے کا خرچ بھی نہیں تھا ، تب عاصمہ جہانگیر اٹھی اور اُس نے وقت کے امیرزادوں کو عدالت کے ذریعے قید و جرمانے کی سزا دلوائی، اس کی پاداش میں انہیں ذہنی اذیت سے بھی دوچار کیا گیا مگر وہ بہادر خاتون ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے نابینا لڑکی کا کیس لڑ کر مظلوم کو بچالیا ، ضیاء الحق دور میں جب چڑیا بھی پر نہیں مارسکتی تھی ، عاصمہ جہانگیر نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس پر پولیس تشدد کیا گیا جوکہ پاکستان کی تاریخ کا افسوس ناک باب ہے۔
 
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی عورت اپنی مرضی سے شادی نہیں کرسکتی تھی! پاکستان کا آئین یہ کہتا تھا کہ عورت کی شادی کے لیے اس کی مرضی ہو یا نہ ہو۔۔۔سرپرستوں کی مرضی لازمی ہے اور یہ بات بھلا عاصمہ جہانگیر کو کہاں برداشت ہوتی ۔۔اس نے عدالت سے پاکستان کی عورت کو اس کا آئینی ومذہبی حق دلایا کہ وہ اپنی مرضی سے کہیں بھی شادی کرسکتی ہے۔ انہوں نے عورت کے وراثتی حقوق کے لیے بھی عملی جدوجہد کی۔

عاصمہ جہانگیرکی شخصیت کا اگر اندازہ کرنا ہوتو اس کی بے نظیر بھٹو سے مثالی دوستی اور مثالی مخالفت قابل ذکر ہے، بے نظیربھٹو اور عاصمہ جہانگیر بچپن کی سہیلیاں تھیں مگر ہر دور میں عاصمہ جہانگیر نے بے نظیر بھٹو کی زبردست سیاسی مخالفت کی۔پاکستان میں عورتوں اور اقلیتوں کے لیے لڑنے والی اس عورت کا معیار بہت عجیب ہے ۔ کیا کوئی عورت تصور کرسکتی ہے کہ سڑک پر اس کے ملک کے محافظ اس کے پردے اور ردا کا تار تار کردے اور وہ بے بسی کے عالم میں ادھر اُدھر دیکھتی پھرے ، عاصمہ جہانگیر پر یہ وقت گزرا ہے۔ زمانہ طالبعلمی میں وہ ایوب خان اور یحیی خان کے خلاف لڑی، پھر ذوالفقارعلی بھٹو کے غلط اقدامات کے خلاف آوازاٹھائی، یہ ضیاالحق کے خلاف جمہوریت پسندوں کی ننھی ہیروئن کہلاتی تھی، یہ اپنی بہترین سہیلی بے نظیر بھٹو سے لڑی، اس نے نوازشریف کے اقدامات کو چیلنج کیا اور یہ پرویز مشرف کے لیے سوہان روح بن گئی۔ اس عورت میں کسی کے خلاف تعصب نہیں تھا نہ ہی کسی خاص گروپ، جماعت سے تعلق تھا، وہ نواز شریف پر بھی تنقید کرتی تھی، عدالت کی پالیسوں پر بھی اُن کا اپنا نقطہ نظر تھا، اس کے اصول اپنے تھے ، اور ان اصولوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی تھی نہ ہی وہ کسی کی سنتی تھی۔

عاصمہ جہانگیر پاکستان کی بہادر خاتون تھیں، یہ قوم کی ایک قابل فخر ماں تھی، اس سے لوگ اختلاف تو کرسکتے ہیں مگر اس کو غلط ثابت کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ انہوں نے اصولوں پر کبھی سودا بازی نہیں کی۔ آج عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018 ء کو دنیائے فانی سے کوچ کرچکی ہیں ۔ آج میں اپنی ایک فیورٹ وکیل / ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ سے محروم ہوگیا ہوں۔ خدا وند کریم عاصمہ جہانگیر کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین
 

11 Feb, 2018 Views: 168

Comments

آپ کی رائے