بھون چوک سے پنجاب اسمبلی تک

(Shafiq Malik, Chakwal)

گذشتہ روز چوہدری لیاقت علی خان مرحوم کے صاحبزادے چوہدری حیدر سلطان نے پنجاب اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر اپنے عہدے یعنی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ۔اس حلف سے جہاں اور بہت سی قوتوں کو مختلف پیغامات گئے وہیں بڑے چوہدری صاحب کی روح کو بھی عالم بالا میں یقیناً آسودگی اور طمانیت ضرور نصیب ہو ئی ہو گی ان کے فرزند جس کی انہوں نے تربیت کی ان کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اسی اسمبلی کی غالباً اسی نشست پر کھڑے ہو کر حلف لیا جہاں کبھی چوہدری لیاقت نے لیا ہو گا،مجھے ضمنی الیکشن سے ایک ماہ قبل عمرے پہ جانے کی سعادت نصیب ہوئی جانے سے ایک دو دن قبل چند دوستوں کی فرمائش تھی کہ میں الیکشن کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر یا تجزیہ پیش کروں میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک عدد کالم لکھ مارا جس کا عنوان تھا :پی پی بیس کا سلطانـ:کالم چھپنے کی دیر تھی کہ مجھے میرے دوستوں اور خصوصاً ان دوستوں نے جن کا تعلق پی ٹی آئی یا پی پی پی سے تھا نے سنگینوں پر رکھ لیا کہ آپ نے کیسے یہ دعویٰ کر دیا کہ حیدر سلطان پچیس سے تیس ہزار کی لیڈ سے کامیابی حاصل کرے گا،کسی نے مجھے ن لیگ کا پٹھو ہونے کا طعنہ دیاتو کسی نے حیدر سلطان سے مال پانی وصول کرنے کا الزام لگایا،کسی نے ناتجربہ کار توکسی نے تلہ گنگ کا ہونے کے ناطے پرائی شادی میں عبداﷲ دیوانہ کے طعنے اور القابات تک دے دیے کہ آپ کا تعلق جس علاقے سے اس کے بارے میں پیشن گوئیاں کیجئے ہمیں معاف رکھیئے،میں تمام دوستوں سے دست بدستہ عرض کی کی جناب میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا اور نہ ہی ن لیگ سے کوئی ایسا تعلق ہے کہ میں بے پر کی اڑاتا پھروں اور نہ ہی حیدر سلطان سے کبھی الیکشن کے دنوں میں ملاقات ہوئی ،یہ بات وہ خود بہتر بتا سکتے ہیں،میں نے تپتے کھولتے پی ٹی آئی کے انقلابیوں سے گذارش کی کہ بھائیویہ میری رائے ہے جس سے سو فی صد تک اختلاف کیا جا سکتا ہے،مگر اس وقت کوئی ماننے سننے کو تیار نہ تھا تاہم میں نے بھی اپنی رائے دی اور اگلے دن اﷲ تعالیٰ کے گھراورروضہ رسولﷺ کی زیارت کے لیے مدینہ و مکہ روانہ ہو گیا،عمرے کی ادائیگی کے دوران سوائے واٹس ایپ کے پاکستان رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا،اور نہ ہی کوئی سنجیدہ کوشش کی کیوں کہ ایسے مواقع روزانہ ملتے بھی نہیں سو ذیادہ توجہ ادھر ہی رہی،میرے واپس آنے کے ٹھیک تین بعد یہاں پر الیکشن تھے ،ماحول کافی گرم تھا دونوں طرف سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا تھا ،ایک مولوی صاحب اور دوسرے عمران کان یہاں پر جلسہ کر کے جا چکے تھے حمزہ شہباز بھی ایک شادی ہال کے افتتاح کی آڑ میں اچھی خاصی کاروائی ڈال کے واپس جا چکے تھے ،پتہ چلا کل نواز شریف صاحب بھی چوہدری لیاقت صاحب کی فاتحہ خوانی کے لیے تشریف لا رہے ہیں،جن کو روکنے کے لیے متعدد جماعتوں کے کارکنان اور امیدوار الیکشن کمشن کے ذریعے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں،اس ساری بھاگ دوڑ کے باوجود کوئی بھی نواز شریف کو نہ روک پایا اور وہ نہ صرف چکوال آئے بلکہ اچھا خاصا شو لگا کر چلتے بنے،نواز شریف کی ذات سے کسی کو لاکھ اختلاف ہو مگر ایک بات طے ہے کہ جہاں بھی وہ پائے جائیں اچھی خاصی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور یہاں بھی یہی ہوا، مخا لف امیدواروں کی طرف سے دو دن خوب ہاہاہاکار مچی مگر پھر جلد ہی چراغوں میں روشنی نہ رہی الیکشن ہوا اور حسب توقع ن لیگ کے مقابلے مین تمام جماعتوں کے امیدوار بری طرح پٹ گئے،الیکشن والے دن کیمپوں کی صورتحال اورمیدان میں موجود امیدواروں کی باڈی لینگیوئج صبح سویرے ہی بہت کچھ واضح کر رہی تھی،الیکشن کے نتائج نے مزید وضاحت کر دی،مجھے اپنی پیشن گوئی کی پورا ہونے کی توقع ضرور تھی مگر یوں بالکل ٹھیک پورا ہونے کی ہر گز توقع نہ تھی کیوں کہ سیاست میری دلچسپ موضوع یا مضمون کبھی بھی نہیں رہا،تاہم جو تجزیہ کیا وہ اس لحاظ سے منفرد ہر گز نہ تھا کہ ایوریج سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کو بھی نظر آ رہا تھا کہ نتیجہ یہی کچھ نکلنا ہے ان انتخابات کا جو نکلا،حیدر سلطان نے اپنے باپ کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے ان الیکشن کو بھرپور انداز میں چیلنج سمجھ کر لڑا اور اپنی سیاسی اننگز کی ابتدا نہایت ہی شاندار انداز میں کی ہے،یہ اور بات ہے کہ اس شاندار کامیابی کے پیچھے ان کی اپنی شبانہ روز محنت کے ساتھ مخالف جماعتوں خصوصاًپی ٹی آئی کی حماقتوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے،پی ٹی آئی کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ میں بہادر ہوں اور ہارے ہوئے لشکر میں ہوں والی مثال ان پر بالکل فٹ آتی ہے بلکہ خان صاحب کے بارے میں یو ں کہا جائے کہ میں ایماندار ہوں مگر بے ایمانوں کے نرغے میں ہوں تو چنداں غلط نہ ہو گا،جب بھی ان پر اصلاح کی نیت سے تنقید کی جائے تو گالیوں اور مغلظات کی بوچھاڑ کچھ اس طرح سے ہوتی ہے جیسے ساون کی اچانک اور تیز بارش،مگر قصور ان لوگوں کا بھی نہیں کہ لیڈرز رول ماڈل ہوتے ہیں جو زبان اعلیٰ سطح پر بولی جاتی ہے وہی نیچے ٹرانسفر ہوتی اور پھر اس لحجے کا نتیجہ بھی یہی کچھ نکلتا ہے،غیر معروف امیدوار لیڈروں کی بدزبانی اور بے وقوفیاں آنیو الے الیکشنز کے لیے دن بدن ن لیگ کے میدان صاف نیں تو راستہ ضرور ہموار کرتی جا رہی ہیں،حیدر سلطان کابھون چوک سے شروع ہونے والا سفر پنجاب اسمبلی تک آ پہنچا ہے اگر ان کا طرز سیاست یہی رہا تو میں قبل از وقت پیشن گوئی کر رہا ہوں کہ یہ سفر ترقی کے زینے طے کرتا اس ملک کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچے گا،،،،،اﷲ ہم سب پر رحم کرے،،،

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
11 Feb, 2018 Views: 451

Comments

آپ کی رائے