یورپ بسنے کا سہانا خواب اور ہمارے نوجوان

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

پچھلے ہفتے ایک خبر کے مطابق لیبیا کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے کئی نوجوان موت کی آغوش میں چلے گئے ان میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے تھا ایسا افسوس ناک واقعہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہر سال کئی نوجوان اس کی بھینٹ چڑھتے ہیں یہ ایسے نوجوان ہیں جنہیں اسمگلر یورپ کے سہانے خواب دکھا کر اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں اور اس طرح غیر قانونی طریقوں سے انہیں مختلف یورپی ممالک میں پہنچانے کے جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں کسی بھی طریقے سے غیر قانونی طور پر کسی بھی ملک کی سرحد عبور کرنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے اور اکثر اس میں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں اگر ہمارے نوجوانوں کو اپنے ملک میں بہتر روزگار میسر ہو اور یہاں انہیں دو وقت کی روٹی آسانی سے مل جائے تو وہ اس طرح دیار غیر میں جانے کی کوشش نہ کریں دوسرا ریاست کوان نام نہاد انسانی اسمگلروں کے گرد گھیرہ مزید تنگ کرنے کی ضرورت ہے سب کو پتا ہے کہ ملک کے چند اضلاع کیافراد اس میں ملوث ہیں ان اضلاع میں خصوصی طور پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کیا جائے اور حتمی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ دوبارہ کسی بھی قیمتی جان کا نقصان نہ ہو غیر قانونی جانے والوں میں پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش ،افغانستان اور افریقی ممالک کے باشندے شامل ہیں لیکن اب عراق اور شام کی صورت حال خراب ہونے کی وجہ سے ان ممالک کے لوگ بھی یورپ ہجرت کرنے پر مجبور ہیں کسی بھی طریقے سے غیر قانونی طور پر یورپ جاناخطرے سے خالی نہیں ہے کوشش کرنی چاہئے کہ آپ قانونی طریقہ استعمال کریں تا کہ آپ کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا مسئلہ درپیش نہ ہو آپ تعلیم کے ذریعے بھی یورپ جا سکتے ہیں اور دوسرا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ وہاں کی نیشنل عورت سے شادی کر لیں یہ دونوں طریقے جائز ہیں اس کے علاوہ غیر قانونی طریقہ اپنا نا پریشانی کا باعث ہی بنتا ہے۔

بہت سے نوجوانوں کو ایران اور ترکی کے راستے بھی یونان پہنچایا جاتارہا ہے اور پھر وہاں سے کسی بھی یورپی ممالک میں داخل کروایا جاتا تھا لیکن اب یہ اتنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ اب یورپین یونین کا ترکی سے معاہدہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اب ترکی کے راستے سے یورپ داخل ہونے میں دقت پیش آتی ہے اس لئے اسمگلروں نیاب آسان راستہ لیبیا کا منتخب کیا جو کہ مختلف ممالک کے علاوہ پاکستان سے بھی کافی نوجوانوں کو یورپ میں لے جانے کے خواب دکھا کر موت کے منہ میں پہنچا دیتے ہیں یہ نوجوان نہ صرف جان خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ کافی بھاری رقم بھی ان اسمگلروں کو دیتے ہیں یہ ایسی منزل ہے جس میں منزل ملنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ایسے نوجوانوں کو سوچنا چاہیئے کہ اس طرح غیر قانونی طریقے سے جانے والے نہ صرف اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اگر گرفتار ہو جائیں تو کئی کئی سال ان ملکوں کی جیلوں میں وقت گذارنا پڑتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے کام کیا جائے یہاں بھی اگر آپ کو ئی کام کرنا چاہیں تو مواقع مل سکتے ہیں شرط یہی ہے کہ آپ میں کام کرنے کا جذبہ موجود ہو کوئی کام بھی چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا بلکہ آپ کی سوچ اسے چھوٹا اور بڑا بنا دیتی ہے کچھ کرنے کی اگر ہمت ہو تو کوئی منزل مشکل نہیں ہے دنیا میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے جو بھی اس راستے پہ چلتا ہے وہ یا تو سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے یا پھر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اس لئے کوئی بھی غیر قانونی عمل آپ کو اورآپ کے خاندان کو مصیبت میں ڈال سکتا ہے۔فرض کریں اگر آپ یورپ پہنچ بھی جاتے ہیں تو وہاں آپ کا کوئی مدد گار نہیں ہوتا ہے اور کئی کئی دن بھوک کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور چوروں کی طرح چھپ چھپ کر زندگی گذارنی پڑتی ہے اور اگر وہاں شرپسندوں سے واسطہ پڑ جائے تو وہ آپ کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔

ایران کے ذریعے بھی کافی لوگ یورپ جانے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ان میں سے بھی اکثر ایران میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور پھر کئی کئی سال جیلوں میں پڑے رہتے ہیں جتنے پاکستانی ان ایجنٹوں کے ذریعے یورپ جاتے ہیں انہیں وہاں انتہائی بری حالت میں رکھا جاتا ہے ایک کمرے میں پچاس پچاس لوگ ہوتے ہیں جو صرف بیٹھ سکتے ہیں اور سو نہیں سکتے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا یہ کسی سزا سے کم ہے کتنے نوجوان ملک میں بہتر طور پر زندگی گذار رہے ہوتے ہیں لیکن ان ایجنٹوں کی باتوں میں آ کر نہ صرف اپنی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ اپنی جانوں کا بھی رسک لیتے ہیں میری نوجوانوں سے درخواست ہے کہ آپ کسی بھی ملک کے نوجوان سے کم نہیں ہیں اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اتنی صلاحیتیں دے رکھی ہیں جنہیں آپ صرف پہچاننے کی کوشش کریں اور ریاست کا بھی فرض ہے کہ ان نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھائے اور ان کے لئے نہ صرف ملک میں بلکہ دیار غیر میں قانونی طور پر ملازمتوں کا بندو بست کرے تا کہ کسی بھی نوجوان کی قیمتی جان ضائع نہ ہو ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1328167 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
11 Feb, 2018 Views: 651

Comments

آپ کی رائے