11فروری مقبول بھٹ شہید کی برسی

(Raja Majid Javed Bhatti, )

11فروری کو وادی کشمیر اور بیرون ملک کشمیری تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنماء مقبول بھٹ شہید کے یوم شہادت کے طور پر مناتے ہیں۔ مقبول بھٹ شہید کی برسی کا دن یوم تجدید عہد کے طور پر منایا جاتا ہے اور دنیا بھر سے ظالموں کو پیغام دیا جاتا ہے کہ نظریات قتل نہیں ہوا کرتے بلکہ اس راہ میں جان نچھاور کرنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں نعروں میں ، دھڑکنوں میں اور سوچ میں۔حقیقت تو یہ ہے کہ بھٹ شہید کا تہاڑ جیل میں مدفن جسم نظروں سے اوجھل ہے مگر ان کی روح ظالموں کے اعصاب پر آسیب کی طرح سوار ہے۔ پورا سال کشمیریوں کو دل برداشتہ کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں، ان کا یقین چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے اور مداری رنگا رنگ شعبدہ بازیوں سے ان کے اعصاب توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ ریاست کی یہ جبری تقسیم اور غلامی ہی کشمیریوں کا مقدر ہے مگر یونہی فروری کا مہینہ آتا ہے یہ سب چالبازیاں مات ہو جاتی ہیں، سازشوں کا رنگ اتر جاتا ہے اور آزادی کے متوالے شہید اعظم کی جدوجہد کی کہانیاں دہراتے ہیں اور آزادی کی منزل کے حصول کے لیے ایک نئے یقین سے مصروف عمل ہو جاتے ہیں۔

مقبول بھٹ نے ریاست جموں و کشمیر کی خود مختاری کا خواب دیکھا ، تحریک آزادی کو منظم کیا ، ببانگ دہل آزادی کے دشمنوں کو باور کرایا کہ یہ ملک ہمارا ہے ، اس کے لیے قربانیاں ہم دیں گے اور اس پر حکومت ہم کریں گے، اس نظرئیے کو ریاست کے کونے کونے میں پہنچا دیا اور دنیا کی توجہ اس طرف لانے کے لیے انڈیا کا جہاز گنگا ہائی جیک کروایا۔ اس وقت کے آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے ہائی جیکرز کو آفرکی کہ وہ اپنا تعلق سرکاری کاغذی مجاہدوں سے جوڑ لیں تو انہیں سرکاری ہیرو بنا دیا جائے گا ، اس چالبازی میں ناکامی پر گلی گلی ان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ کیا گیا اور شاہی قلعہ میں ان حریت پسندوں پر اتنا وحشت انگیز اور غیر انسانی تشدد کیا گیا کہ اس کی روداد پڑھ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، اس کی ایک جھلک کنگا ہائی جیکنگ کیس کے تفتیشی افسر کی طرف سے دیا گیا یہ بیان بھی ہے کہ یہ انڈیا کے تربیت یافتہ ایجنٹ ہیں کیونکہ جتنا ان پر تشدد ہوا ہے اگر یہ عام لوگ ہوتے تو خود کو ایجنٹ مان لیتے مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہی سچے حریت پسند ہیں اور پاکستانی سپریم کورٹ نے مقبول بھٹ اور ان کے ساتھیوں کو حقیقی حریت پسند قرار دیا ۔

11 فروری 1984کو بھارتی حکومت نے دنیا بھر کی طرف سے معافی کی اپیلوں کے باوجود فرزند کشمیر مقبول بٹ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر یہ سمجھ لیا تھا کہ اس طرح وہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کی مسلح تحریک کا وجود مٹا ڈالے گا مگر بھارت کا یہ خواب بہت جلد صرف 5 سال میں ہی بکھر گیا اور مقبول بٹ شہید کے لہو سے روشن ہونے والے چراغ سے چراغ جلتے گئے اور 70 ہزار سے زیادہ کشمیری مقبول بٹ شہید کی طرح اپنی مادر وطن کی آزادی پر قربان ہو گئے اور کشمیر کے گلی کوچے شہدا کے لہو اور آزادی کے نعروں سے گونج رہے ہیں
تم نے جس خون کو مقتل میں چھپانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں بہہ نکلا ہے

مقبول بٹ شہید کے سیاسی سفر کا آغاز قومی محاذ رائے شماری سے ہوا انہوں نے ہمیشہ کشمیر میں آزادی کی مسلح تحریک پر زور دیا اور سب سے پہلے خود کو اس کام کے لئے پیش کیا۔ ورنہ مصلحت کیشی سیاستدانوں نے تحریک آزادی کشمیر کو حکومت حاصل کرنے اور مال کمانے کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ مقبول بٹ نے خود سیز فائرلائن عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں محاذ آزادی کے عسکری ونگ میں نوجوانوں کو بھرتی کا پروگرام شروع کیا۔ اس دوران ان کو ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا مگر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جیل توڑ کر واپس آزاد کشمیر پہنچے۔

ان کی جدوجہد جاری رہی اور وہ ایک مرتبہ پھر سیز فائر لائن عبور کرکے کشمیر میں داخل ہوئے اور وہاں عسکری کارروائیوں کیلئے زمین ہموار کرنے لگے کچھ عرصہ بعد پھر گرفتار ہوئے تو انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں منتقل کیا گیا جہاں عرصہ دراز تک انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اس دوران قومی محاذ رائے شماری کی بطن سے جنم لینے والی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے لندن میں بھارتی سفارتکار مہاترے کو اغوا کیا اور اسکے بدلے مقبول بٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا مگر بھارتی حکومت نہیں مانی تو اغوا کاروں نے مہاترے کو قتل کر دیا اس کے جواب میں 11 فروری کو مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیکر کشمیر میں ہنگاموں کے ڈر سے ان کی نعش جیل ہی میں دفن کر دی گئی مگر جلدی وہ کشمیر کی آزادی اور بھارت کیخلاف مزاحمت کی علامت بن گیا۔ 1989میں جے کے ایل ایف او نے کشمیر میں تحریک آزادی کی مسلح جدوجہد شروع کر دی۔ جس کے بعد آج تک90 ہزار سے زیادہ کشمیری بھارتی استبداد کے خلاف آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے ہیں یہ وہ جوت ہے جو کبھی اشفاق وانی حمید شیخ عبداﷲ بنگرو بلال احمد اور اب افضل گورو جیسے فرزندان کشمیر کے لہو سے روشن ہوئی اور جلا پاتی رہی جس کی روشنی میں آزادی کا سفر جاری ہے۔افضل گورو کو بھی جب ان کے قائد مقبول بٹ کی طرح تہاڑ جیل میں بے پناہ اذیتوں کے بعد پھانسی کے بعد خاموشی سے دفن کر دیا گیا تھا۔
فیض کے یہ شعر زباں پر مچلنے لگے۔
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت لئے
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Majid Javed Bhatti

Read More Articles by Raja Majid Javed Bhatti: 57 Articles with 25547 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Feb, 2018 Views: 303

Comments

آپ کی رائے