فرض شناسی ’’میٹرومین‘‘کا جرم ٹھہری

(Malik Muhammad Salman, )

آشیانہ اقبال اسکیم کا14ارب روپے کا ٹھیکہ منظور نظرافراد کو دینے اورمبینہ طور پر 32 کنال اراضی بطور رشوت وصول کرنے کے الزام میں ایل ڈی اے کے سابق ڈی جی احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریسی نے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی پنجاب کے اعلیٰ افسران احد خان چیمہ سے اظہار یکجہتی کیلئے آئے۔دوران سماعت احد چیمہ نے اپنے اوپر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’ولن‘‘ کے روپ میں پیش کیا گیا اور نیب نے کسی کی طرف سے انگلی اٹھائے بغیر بلا لیا۔85 بین الاقوامی کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا اور میرے نیچے 10 افراد کی کمیٹی تھی، جنہوں نے قواعد کے مطابق ٹھیکہ دیا ۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ نیب کے کچھ کرپٹ افسران کومال ہڑپنے کی ایسی لت لگی ہے کہ حصول زر کی خاطر کسی کو بھی محرم سے مجرم بنا دیتے ہیں، منہ مانگی رقم دینے والے کرپٹ اور لٹیروں کو فوری کلین چٹ دے دی جاتی ہے جبکہ انکار کرنے والے ایماندار افسران کا میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے۔احد چیمہ کی نیب جیل میں تصویر کی تشہیر کرنا بھی نہ صرف تضہیک آمیز رویہ ہے بلکہ سراسر غیر قانونی فعل ہے۔

کوئی شک نہیں کہ کرپشن ایک ناسور ہے اور کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے۔ کرپشن کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب بلاتفریق احتساب ہو۔ احتساب سب کا ہونا چاہئے اور احتساب کا عمل بھی ایک جیسا ہونا چاہئے۔بہت سے کیسز میں نیب کے اہلکار خود ہی کرپشن میں ملوث نکلے۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی صدارت میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اراکین نے اس امر کا اظہار کیا کہ احد خان چیمہ پنجاب حکومت کے فرض شناس، محنتی اور دیانت دار افیسر ہیں اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتاری اور شفافیت کے ساتھ تیاری اور تکمیل میں ایک دنیا ان کی معترف ہے۔ حکومت نے عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کے لیئے جو تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان میں احد چیمہ کا نمایاں کردار ہے۔نیب قانون کے مطابق پہلے انکوائری کی جاتی ہے اور ثبوت آنے کے بعد اس کو بورڈ میں پیش کیا جاتا ہے، جس کے بعد ریفرنس دائر کیا جاتا ہے، عدالت سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد ہی کسی کو گرفتار کیاجاتا ہے۔ کابینہ نے اس امر پر گہری تشویس کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے بیوروکریسی میں خوف وہراس کی فضا قائم کر کے عوامی فلاح و بہبود کے ان منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پنجاب حکومت کا طرہ امتیاز ہیں۔ کابینہ کے اراکین نے کہا کہ وہ احد چیمہ کی گرفتاری سمیت ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ناانصافی اور امتیازی سلوک کا نشانہ بننے والے افسران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

احد چیمہ پنجاب حکومت کی ملکیت قائداعظم تھرمل پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ ماضی میں چودھری پرویز الہٰی نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب احد چیمہ کو سب سے بڑے منصوبے’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘ کا کوارڈینیٹر مقرر کیا۔بیوروکریٹک سرکل میں ’میٹرومین‘ کے لقب سے پکارے جانے والے احد چیمہ نے لاہور میٹرو بس سسٹم کا منصوبہ 11ماہ کی ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ ایشیاء کے دوسرے طویل ترین فلائی اوور کی ریکارڈ 230دن میں تعمیربھی انکا ہی کارنامہ ہے۔میٹروبس سسٹم منصوبے میں شاندار کارکردگی پر احد چیمہ کو صدر مملکت کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ احد چیمہ لاہور کے ڈسٹرکٹ کوارڈی نیشن آفیسر، ہائیر ایجوکیشن سیکرٹری اور دو بار ڈی جی ایل ڈی اے کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔بھکھی پاور پلانٹ میں ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں پنجاب حکومت نے انہیں تریموں، جھنگ کے مقام پر بننے والے1200میگاواٹ بجلی کے منصوبے کا نگران بنایا جو ریکارڈ وقت اور ریکارڈ کم قیمت میں پایہ تکمیل کو پہنچنے کے قریب ہے۔قائداعظم تھرمل پاور کمپنی کے چیئرمین عارف سعید کا کہنا تھا کہ’’قائداعظم تھرمل پاور کمپنی پبلک سیکٹرکی بے مثال کامیابیوں کی ایک درخشاں مثال ہے اور اگر اس کمپنی کی کامیابی کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے علاوہ کسی شخص کو دیا جا سکتا ہے تو وہ احد چیمہ ہیں۔ احد چیمہ کی انتھک جدوجہد سے توانائی سمیت کئی منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل ہوئے۔

ڈی ایم جی گروپ کے سینکڑوں افسران پر مشتمل اجلاس میں احد چیمہ کی گرفتاری کیخلاف مذمتی قرار منظور کی گئی جس میں احد چیمہ کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کامطالبہ کیا۔چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن زاہد سعید اورایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب عمر رسول کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں افسران نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اس صورت حال میں کام نہیں کرسکتے اور انہیں کام بند کردینا چاہیے۔ سول سرونٹس کا شکوہ کسی حد تک درست بھی ہے کہ کوئی بھی افسر اس طرح کے گھٹن زدہ ماحول میں کام نہیں کرسکتا،جہاں پر سزا کا معیار صرف یہ رکھ دیا جائے کہ یہ وزیر اعلیٰ کا قریبی بندہ ہے اسے پکڑو۔

سرکاری اداروں میں کام کی رفتار سست ہونے کی بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جب کوئی انکوائری ہو تو فائل پر دستخط کرنے والے ہر شخص کی شامت آ جاتی ہے اس لیے افسران کسی بھی فائل پر دستخط کرنے سے گھبراتے ہیں۔اس کی ایک مثال سابق وائس چئیرمین متروکہ وقف املاک بورڈ چوہدری ریاض احمد خان ہیں۔جن کی پینتیس سال کی سرکاری ملازمت میں آج تک سنگل انکوائری نہیں ،ان کی ایمانداری اور سادگی کی مثالیں دی جاتی تھیں مگر نیب نے انہیں بھی نہیں بخشا قصور صرف اتنا تھا کہ سابق سیکرٹری متروکہ وقف املاک جنید احمد کی پلاٹ الاٹمنٹ کی درخواست پر دستخط کیے ۔ بعض کیسز میں جانبدارانہ رویہ کے باعث عوامی حلقوں میں نیب کی شہرت’’انتقامی ادارہ‘‘ بن چکی ہے۔

قومی احتساب بیورو کابنیادی مقصد سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر مالی کرپشن کو روکنا ، کرپٹ لوگوں کو سزا دینا اور ان سے لوٹی ہوئی رقم واپس حاصل کرنا اور عوام میں انسداد بداعنونی کے بارے میں آگاہی پیداکرناہے ۔اس ادارے میں یقینا اصلاح کی ضرورت ہے اور چند کرپٹ آفیسر بھی ہوں گے لیکن مجموعی طور پر نیب نے کرپٹ افراد کے خلاف بہت کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔اربوں روپے کاکالادھن سرکاری اور غیرسرکاری لوگوں سے وصول کیا اور بداعنون افراد کوسزائیں بھی ہوئی ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MALIK SALMAN

Read More Articles by MALIK SALMAN: 69 Articles with 31163 views »
Columnist at Daily "Nai Baat" & Cyber Security Expert .. View More
27 Feb, 2018 Views: 378

Comments

آپ کی رائے