صحت اور رزق

(ن سے نعمان صدیقی, Karachi)

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے میں خیر ہوتی ہے جیسے کہ اچانک ہی میری خوراک ایک وقت میں تھوڑی ہو گئ یعنی خواہ زیادہ دفع تناول فرما لیا جاے مگر جب بھی کھایں بھوک سے ذرا سا کم اور دوسری بار مناسب وقفہ دے کر بہتر ہوتا ہے اگر آپ دو بار کھانا ڈٹ کر کھایں تو اس سے بہتر ہے کہ ایک meal کی مقدار کم کر کے چار دفع لے لیں تو آپ چاق وچوبند رہتے ہیں اور طبیعت میں بھاری پن پیدا نہیں ہوتا اور صحت کے حساب سے بھی مناسب طرز عمل ہے یہ تھا تو ذاتی تجربہ مگر ٹی وی کے صبح کے تماشوں میں درمیان میں جو ایک کام کی بات ہوتی ہے اس میں کسی غزا کے ماہر nutritionist نُما بیوٹیشین جو خود بھی خوبصورت تھے اُن کی خوبصورت بات میرے تجربے کی تائید کررہی تھی اس سے ایک خوشی اور ٹھنڈک ملی اور ایک کتاب میں پڑھی بات یاد آی کہ انسان کی کسی مشکل کا حل اس کے اندر اور اطراف میں ہی کہیں چھپا ہوتا ہے بس تلاش کرنا اور کھوجنا ہوتا ہے اور یا پھر کوی صاحب نظر بتا سکتا ہے-

میں پہلے رزق صرف کھانے پینے کی حد تک محدود جانتا تھا مگر کچھ کتابوں کے توسط سے جانا کہ ہر طرح کی نعمتیں رزق میں شمار ہوتی ہیں اور ہر قسم کی خوشی کا سامان بھی اس ضمن میں ہی آتا ہے رزق وسیع ہو تو آسانی رہتی ہے اور دعا بھی مانگی جاتی ہے اور اپنے اور ارد گرد کے لوگوں کے لیے آسانی کا باعث ہوتا ہے مگر اس میں تنگی اور فراخی آتی رہتی ہے ایک بظاہر وقتی تنگی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا تھا کہ اُس تنگی میں حیرت انگیز وسعت دیکھی اور بظاہر ایک مشکل تھی مگر خدا کے فضل سے آسانی سے گزر گئ جو زندگی کو آسان کر گئ اور زندگی ایک نئے انداز سے گزارنے کا نیا باب شروع ہوا اور چھوٹے کام سے بڑی خوشی ملنے لگی اپنے دفتر جاتا تو کام تو بند تھا مگر حاضری ضرور دیتا تھا اور یہ حاضری بھی بس اپنے ہی سامنے حاضری تھی کہ اپنی نظروں سے نظریں ملا سکوں اور اسٹاف تو وقتی طور پر جا چکا تھا اور بس ایک چوکیدار رہ گیا تھا جس کے ساتھ بیٹھ کر چاے کی نشست اور مسئلہ کا حل سوچنا اور غیبی مدد کا انتظار اور چاے بھی کباڑ کا سامان بیچ کر لیکن آہستہ آہستہ قدرت کی طرف سے انتظام ہونے لگا اور معاشی دایرہ کچھ تبدیلی کے ساتھ پھر سے گھومنے لگا مگر یہ تھوڑے دن کا وقفہ بہت کچھ دے گیا اور بات وہیں آگئ کہ تھوڑا ہی بہت بنتا ہے اور کچھ کچھ برکت کی سمجھ آی جو پہلے کبھی نہ آی تھی اور چھوٹی سی مشکل کتنی آسانیاں اور زندگی کی قدر لاتی ہے اور چھوٹی سی تنگی میں چھپی خیرِ کثیر کا اندازہ بعد میں ہوتا ہے اور آپ کو معاملات کے بارے میں سوچنے کے لیے ایک جھٹکا لگتا ہے ورنہ تو زہن صرف خالی مٹکا لگتا ہے مگر پتہ نہیں کیوں رُجھان پھر سے وافر کی طرف ہونے لگتا ہے اور خوش قسمتی آ جاے تو دیہان غافر کی طرف ہونے لگتا ہے اور منزل کا رُخ مسافر کی طرف ہونے لگتا ہے ایک بزرگ نے تاکید کی تھی کہ اپنے اور متعلقین کے لیے صحت اور رزق مانگو جب دعا مانگو-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ن سے نعمان صدیقی

Read More Articles by ن سے نعمان صدیقی: 28 Articles with 11426 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2018 Views: 866

Comments

آپ کی رائے