خاندان شماری گکھڑ

(Shoaib Aslam, Kamoke grw)
خاندان گکھڑاں شماری

غلام حیدر ولد حسن محمد قوم گکھڑ 1919کو اجووال ضلع منڈی بھاؤالدین میں پیدا هوۓ.ان کا پیشه زرعت تھا اور یه خان بھت هی لڑاکا تھا اور جھگڑالو تھا جس کی وجه سے سب اس خاندان سے خوف کھاتے تھے اور بھت ذیاده ڈرتے تھے غلام حیدر گکھڑ قدآور آدمی تھے ان کا قد چھے فٹ اور تین انچ تھا اور بڑی بڑی مونچھیں تھیں اور وه لڑاکے تھے ان کے تین بھائی اور چار بھنیں تھیں ایک بھائی کا نام غلام رسول دوسرے کا نام غلام قادر اور تیسرے کا نام اکبر علی تھا اجووال کے بعد وه شمهاری آگۓ اور اس کے بعد وه 45 چک میں آکر رهنے لگے 45 چک کو 11 چک کے نام سے بھی جانا جاتا هےاس خاندان نے منڈی بھاؤالدین میں زمین نه خریدی بلکه لوگوں کی زمین آباد کی غلام حیدر گکھڑ کا سب سے بڑا کارنامه چھالیں مارنا اور وٹا یعنی که ٹھیکری پھینکنا تھا بقول غلام حیدر وه 14 ھاتھ چھال مارتے رهے هیں اس مقابلے میں کوئی بھی ان سے نھیں جیت سکا اور نه هی کوئی آئینده جیت سکے گا اور دو ایکڑ ٹھیکری پھینکنکنےکا ریکارڈ قائم کیا هے آج تک کوئی شخص اس ریکارڈ کو توڑ نھیں سکا اور امید هے که کوئی روڑ بھی نھیں پاۓ گا مختلف لڑائیوں میں بھی شماری خاندان یعنی که غلام حیدر گکھڑ کا خاندان کامیابی حاصل کرتا رها هے کھوکھروں سے بھی متعدد لڑائیوں میں اس خاندان نے کا میابی حاصل کی کھوکھر 45 چک مجں آباد تھے اس کے علاوه بھی بھت لوگوں سے لڑتے رهے اس خاندان میں بھت سلوک اور اتفاق تھا جس کی گواهی 45 چک کے باسی بھی دیتے هیں جس کو کچھ بھی شک هو وه شماری اجووال 45چک میں جا کر غلام حیدر شماری کا پوچھ سکتا هے وهاں کے رهنے والے آپ کو سب کچھ بتائیں گے

غلام حیدر جب بھی کسی میلے میں جاتے تھے وهاں پر کبڈی کھیلتے وقت ٹیموں کی لڑائی هوجاتی تو وه کهتے که حیدر شماری ادھر هی هے نه کچھ لوگ تو ان کا نام سن کر هی بھاگ جاتے تھت اور کچھ لوگوں کو وه خود اپنی طاقت سے بھگات تھے ان کے هاتھوں میں هر وقت بڑه ڈانگ هوتی تھی جس کے آگے لوهے کی شام چڑهی هوتی تھی ایک بار ڈانگ کے لگ جانے سے بنده دوباره اٹھنے کے قابل نه رهتا تھا پھر یه سلسله بھت سالوں تک جاری رها چھالیں مارنے والا اور وٹا یعنی ٹھیکری پھینکنے واله اس کے علاوه میں بتانا بھول گیا که وه سهاگا بھی اٹھاتے رهے هیں سهگا پر 30 5 کلو کی اینٹیں رکھ کر بھی اٹھاتے رهے هیں اس کام میں بھی کوئی ان سے مقابله نه کرسکا بھت لوگوں نے مقابله کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رهے.ماں کے مرجانے کے بعد انھوں نے تینوں کام چھوڑ دیے یه خاندان چونکه شماری گاؤں سے آیا هے اس لیے شماری کهلاتا هے غلام حیدر کے پانچ بیٹے هیں جو که ضلع گوجرانواله میں آباد هیں ان کے نام نزیر احمد محمد افضل محمد اکرم محمد اشرف جو که دم درود کرتے هیں محمد اسلم هیں محمد اسلم کھیتی باڑی کرتا هے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈرائیوری کے پیشے سے بھی منسلک هیں محمد افضل 2006 میں وفات پا گیا تھا نذیر احمد حاجی مراد ٹرسٹ آئی اسپتال میں بطور سکیورٹی گارڈ ملازمت کر رهے هیں محمد اشرف تحصیل کامونک میں رهتے هیں اور پیرهیں انهوں نے کافی سارے عیسائیوں کو بھی کلمه پڑھا کر مسلمان کیا هے محمد اشرف کے پانچ بیٹے هیں جن میں سے دو ٹھیکیدار هیں سٹیل مل میں اور ان کی دو بیٹیاں هیں محمد نزیر کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ھیں محمد افضل کے دوبیٹے هیں ایک یونان گیا هے دوسرا بارهویں میں پڑھتا هے محمد اکرم کا بھی ایک بیٹا هے جو ملازمت کی تلاش میں هے اور محمد اکرم کی تین بیٹیاں هیں اور اس کے علاوه محمد اسلم جوطکه غلام حید گکھڑ کا سب سے چھوٹا بیٹا هے اس کی تین بیٹیاں اور دو بیٹیاں هیں اس کے بڑے بیٹے کا نام شعیب اسلم گکھڑ هے جو مقامی سکولوں سے میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعد آئی سی ایس کر رها هے اب خاندان مختلف جگهوں میں آباد هےاس کے بعد اس گکھڑ خاندان نےگاؤں شمیر تحصیل کامونکی ضلع گوجرانواله میں 25 ایکڑ رقبه خریدااوراس میں هی اپنی رهائش اختیار کی او ر ڈیره بنایا.یه زمین غلام حیدر سمیت چاروں بھائیوں کے نام هوئی اس کے بعد یه زمین ان کی نسل میں تقسیم هوتی رهی هے شمیر میں یه گجراتیوں کے نام سےآج بھی مشھور هیں اور ماسٹر کے ڈیرے سے بھی مشھور هیں غلام حیدر گکھڑ کا بھتیجا منظور احمد جوکه اکبر علی گکھڑ کا بیٹا هے وه شمیر میں آباد هے منظور احمد بطور سرکاری ٹیچر بیس سال تک سهاوه یونین کونسل میں پڑھاتے رهے اور پھر شمیر اور ڈھولن گاؤں میں بھی اس کے بعد وه سپر وائزر هوگئے
باقی فقط نام الله کا...

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoaib Aslam

Read More Articles by Shoaib Aslam: 2 Articles with 976 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2018 Views: 428

Comments

آپ کی رائے